جماعت اسلامی: غلطیوں کا سفر

جماعت اسلامی: غلطیوں کا سفر
 جماعت اسلامی: غلطیوں کا سفر

  


لاہور کے حلقہ انتخاب120 میں جماعت اسلامی کا امیدوار صرف چند سو ووٹ حاصل کر سکا۔اس پر ہمارے کئی دانشور حضرات نے اظہارِ خیال کیا ہے۔ان کے لئے یہ امر باعثِ تعجب ہے کہ مُلک کی ایک نہایت اہم دینی اور سیاسی جماعت، جس کے پاس ورکروں کی اچھی خاصی ٹیم ہے اور جس کے منظم ترین ہونے کا سب اعتراف کرتے ہیں،وہ عوام میں اِس حد تک نامقبول کیسے ہو گئی ہے؟

خود جماعت کے کارکنوں اور قائدین میں بھی شکست کا شدید احساس پایا جاتا ہے۔ شاید اسی احساس کے نتیجے میں لاہور جماعت کے امیر جناب ذکر اللہ مجاہد اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے ہیں،حالانکہ وہ اتنے قصوروار نہیں ہیں۔وہ بلاشبہ ایک متحرک شخصیت کے مالک ہیں،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ بہت طویل عرصے کے بعد لاہور جماعت کو ایک نہایت فعال امیر میسر آیا تھا، تو غلط نہ ہو گا۔

یہ امر واقعہ ہے کہ ہمارے تجزیہ کار جماعت اسلامی کی تاریخ سے کامل واقفیت نہیں رکھتے۔انہیں علم نہیں کہ جماعت کے بانی حضرت مولانا سید ابو الا علیٰ مودودیؒ نے جب اپنے ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے ذریعے مسلمانانِ ہند کے تہذیبی اور سیاسی مسائل پر اظہارِ خیال کرنا شروع کیا تھا تو اس وقت ان کے سامنے پارٹی بنانے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ وہ ملتِ اسلامیہ کے زوال کا بڑا سبب ’’جمود‘‘ بتاتے تھے، یعنی صدیوں سے مسلمانوں نے سوچنا چھوڑ رکھا ہے۔

تقلید جامد نے انہیں ہر لحاظ سے مردہ کر دیا ہے۔ جب تک مسلمانوں میں علم و آگہی کی تحریک برپا نہیں کی جاتی، وہ اِسی طرح دُنیا میں خوار و زبوں رہیں گے، چنانچہ مولانا نے تحصیل پٹھان کوٹ میں چودھری نیاز علی خان کی بسائی ہوئی دارالاسلام نامی بستی میں جانا قبول کر لیا۔چودھری صاحب کے پاس ایک وسیع قطعہ اراضی تھا، جس پر انہوں نے چند عمارتیں کھڑی کیں اور اہلِ علم کو دعوت دی کہ وہاں آ کر تحقیقی کام کریں۔مولانا نے اپنے جریدے ’’ترجمان القرآن‘‘ کا دفتر بھی وہیں منتقل کر لیا اور اِسی رسالے میں تحقیقی کاموں کا ایک جامع منصوبہ بھی پیش کیا۔اس وقت تک مولانا ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ نامی اپنی ایک تحقیقی کتاب شائع کر کے اپنی تحقیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے تھے۔ مولانا چاہتے تھے کہ جس طرح یورپ میں علمی انقلاب (Renaissance) برپا ہوا ہے، اسی طرح یہاں بھی ایسی ہی ایک تحریک شروع کی جائے۔ زندگی کے ہر دائرے میں ہم اپنے ماہرین پیدا کریں جو اسلامی تعلیمات کی روشنی میںِ جدید مسائل کا موثر حل پیش کریں۔آج جب ہم اس دور کے تناظر میں مولانا کے نتائج فکر پر غور کرتے ہیں تو ان کی صلابتِ فکر کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے،لیکن المیہ یہ ہوا کہ مولانا نے اچانک اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔

ہوا اِس طرح کہ1938ء میں انتخابات کے نتیجے میں کانگرس نے صوبائی وزارتیں قائم کیں۔ کانگرسی لیڈروں نے وزارت سازی میں مسلمانوں کو نہ صرف نظر انداز کیا،بلکہ طرح طرح کے حربوں سے انہیں پریشان بھی کرنا شروع کر دیا۔مولانا کو ہند میں مسلمانوں کا مستقبل مخدوش نظر آنے لگا۔انہیں احساس ہوا کہ ابھی تو کانگرس کو صرف جزوی طور پر اختیارات ملے ہیں، کل جب مرکز میں بھی وہ بااختیار ہو گی تو پھر مسلمانوں کا کیا حال ہو گا۔

انہی حالات میں مولانا نے مسلمانوں کی سیاست کا تجزیہ ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘‘ کے عنوان سے لکھا۔ اس سلسلۂ تحریر میں ایک طرف کانگرس کی مسلمان دشمن پالیسیوں پر کڑی تنقید تھی تو دوسری طرف ملتِ اسلامیہ ہند کی کمزوریاں طشت از بام کیں۔اس کا مقصد مسلمانوں کی آنکھیں کھولنا تھا۔ مولانا کے طرز استدلال نے ہزاروں مسلمانوں کے دِل موہ لیے۔انہوں نے ساری صورتِ حال کا حل پوچھا تو مولانا نے ’’سیاسی کشمکش‘‘ کی تیسری جلد میں انقلابی جماعت کے قیام کا راستہ بتایا۔مولانا نے لکھا کہ ہم پیچ ورک کے قائل نہیں۔

ہم تو اس ملحدانہ نظام کو بنیادوں سے اکھیڑ کر نیا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں مولانا نے روس کے کمیونسٹ انقلاب کی مثال دی،جس میں اکثریت، اقلیت کا کوئی جھگڑا نہ تھا۔مولانا کی دعوت کے نتیجے میں 26 اگست1941ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آ گیا۔مولانا نے جماعت کے کارکنوں کی تربیت کے لئے ایک نظام بھی وضع کیا، جس میں جماعت کا رکن بننے کے لئے کچھ کتابوں کا مطالعہ اور نماز، روزے کی پابندی لازمی قرار دی گئی۔ان تمام سرگرمیوں میں علمی انقلاب برپا کرنے کا منصوبہ رفت گزشت ہو گیا۔

جماعت اسلامی کے نصب العین کا چوتھا نکتہ انقلابی قیادت کا تھا۔ اس پر1947ء تک توجہ نہ دی گئی۔جب پاکستان قائم ہو گیا تو جماعت نے چوتھے نکتے پر توجہ دینا شروع کی۔اس کا مطلب میدانِ سیاست میں اُترنے کا تھا۔جماعت اسلامی نے اسلامی دستور کی تشکیل کے لئے زور شور سے مہم چلائی۔وہ مہم اتنی زور دار تھی کہ لیاقت حکومت نے بوکھلا کر جماعت کے تین مرکزی قائدین۔۔۔ مولانا مودودیؒ ، میاں طفیل محمد اور مولانا امین احسن اصلاحی کو سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔اِسی دوران قرار دادِ مقاصد (1949ء) پاس ہو گئی تو جماعت نے اسے اسلامی دستور کی تشکیل کے سلسلے میں اپنی پہلی بڑی کامیابی قرار دیا۔

بانئ پاکستان کی وفات کے بعد پاکستان قائم کروانے والی جماعت انتشار کا شکار ہو گئی تو جماعت اسلامی نے سوچا کہ اِن حالات میں اگر ہمارے کارکنان ثابت قدمی کے ساتھ سیاست میں اپنا کردار جاری رکھیں تو ممکن ہے کل لوگ ہمیں ووٹ دے دیں،لیکن یہ جماعت کی محض خود فریبی تھی۔صوبہ پنجاب کے 1951ء کے انتخاب میں جماعت کا فقط ایک حمایت یافتہ امیدوار جیت سکا۔جماعت کو جھنجھوڑنے والا دوسرا واقعہ1953ء کی ختم نبوت کی تحریک تھی، جس میں ایک فوجی عدالت نے مولانا مودودیؒ کو موت کی سزا سنائی۔یہ واقعات جماعت کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھے۔لازم تھا کہ جماعت ارضی

حقیقتوں(Ground Realities) پر توجہ دیتی، مگر اس وقت تک مولانا مودودیؒ اپنے کارکنوں کی ذہن سازی اس طور سے کر چکے تھے کہ اس میں اس طرف توجہ دینے کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی تھی۔ حیرت ہوتی ہے کہ خود مولانا بھی اِس پہلو پر توجہ نہ دے سکے کہ جس سرزمین پر وہ تبدیلی کے داعی تھے اس کو سمجھنے پر وہ کیوں تیار نہ ہوئے۔

1970ء تک جماعت اسلامی مُلک کے دونوں حصوں (مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان) میں ایک قابلِ ذکر مقام حاصل کر چکی تھی۔اس کی پروپیگنڈہ مشینری اتنی تیز تھی کہ یوں لگتا تھا اگلی اسمبلی میں جماعت اسلامی دوسری بڑی جماعت ہو گی،مگر نتائج سامنے آئے تو مولانا سے لے کر عام کارکن تک ہر کوئی حیران پریشان رہ گیا۔ اصل کمی، کمزوری کی طرف پھر بھی نگاہ نہ گئی،یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دے لی کہ ہمارا کام حق کے چراغ جلانا ہے، قوم اگر اندھیروں ہی میں ٹھوکریں کھانا چاہتی ہے تو خوشی سے ٹھوکریں کھاتی رہے۔

دلیل یہ دی کہ روزِ قیامت بعض انبیاء ایسے بھی ہوں گے جن کا کوئی ایک اُمتی بھی نہیں ہو گا تو کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ انبیاء کے پیغام یا دعوت میں کوئی کمی کوتاہی تھی۔ ناکام اور نامراد تو وہ لوگ تھے، جنہوں نے حق کی آواز سُنی، مگر اس پر کان نہ دھرے۔

ریاستی نظام نہ سمجھنے ہی کا نتیجہ ہے کہ جماعت اسلامی غلطی پر غلطی کرتی چلی آ رہی ہے۔پہلی بڑی غلطی اُس وقت کی جب دسمبر1970ء میں ملکی انتخابات ہوئے تو اس وقت کی فوجی حکومت نے اقتدار عوامی نمائندوں کے سپرد کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تو جماعت نے عوامی قوتوں کا ساتھ دینے کی بجائے حکومتی غاصب ٹولے کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیا۔مَیں آج تک سوچ رہا ہوں کہ آخر وہ کون سی شہادتِ حق تھی جس کی خاطر جماعت منظم ہوئی تھی۔

کیا یہ حق کی طرفداری کا موقع نہ تھا؟اس کے بعد دوسری بڑی غلطی یہ کی کہ بغیر سوچے سمجھے جنرل ضیاء الحق کی حمایت شروع کر دی کہ تنہا وہ شخص اسلامی نظام لے آئے گا۔اگر جماعت اقتدار پر قابض طبقے کو پوری طرح سمجھتی ہوتی تو وہ کبھی اس سے توقعات نہ باندھتی۔

جماعت اسلامی نے تیسری بار سیاسی ناپختگی کا ثبوت یوں دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل ہو گئی۔ مجھے آج بھی یقین نہیں آتا کہ پروفیسر غفور احمد جیسا دانا و بینا رہنما جنرل اسلم بیگ کی کوٹھی پر بننے والے اس منصوبے میں کیسے شریک ہو گیا، جس کا واحد مقصد پیپلزپارٹی کو شکست دینا تھا۔کیا کوئی جمہوریت کی علمبردار جماعت ایسا کر سکتی ہے؟

جماعت اسلامی کے غلط فیصلوں کا سفر قاضی حسین احمد کی سربراہی میں تو اور بھی تیز ہو گیا۔انہی کے دور میں مولانا نعیم صدیقی ایسا طویل خدمات انجام دینے والا شخص کچھ ساتھیوں سمیت جماعت سے نکل گیا۔ اس دور میں کچھ لوگوں کے مزاج اتنے بگڑ گئے تھے کہ نعیم صدیقی ایسے مخلص شخص کو جماعت سے نکلنے ہی میں عافیت نظر آئی۔ موجودہ امیر جماعت لاکھ مخلص اور ایثار پیشہ ہوں گے،لیکن سیاسی فراست کے اعتبار سے اپنا کوئی نقش نہیں جما سکے۔وہ کرپشن پر لمبے چوڑے بیانات ضرور دیتے ہیں، مگر ریاستی نظام کی اونچ نیچ کی سمجھ بوجھ سے ماشاء اللہ وہ محروم ہیں!

مزید : کالم