حضرت امام حسینؓ ۔۔۔۔۔۔ 10محرم اور کربلا!

حضرت امام حسینؓ ۔۔۔۔۔۔ 10محرم اور کربلا!

10 محرم الحرام یوم جمعہ حضرت امام حسینؓ کے بیٹے حضرت علیؓ اکبر نے اذان دی امام حسینؓ نے امامت فرمائی۔ نماز فجر ادا کرنے کے بعد حضرت امام حسین ؑ نے اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کو مسلح ہونے کا حکم دیا جب فوج کی ترتیب مکمل ہو گئی تو آپؑ گھوڑے پر سوار ہو کر دشمن کی صفوں کے قریب ہو گئے اور خطبہ ارشاد فرمایا:

اے لوگو! میری بات سنو، عجلت نہ کرو تاکہ جہاں تک مجھ پر واجب ہے تمہیں سمجھا نہ لوں اور اپنے آنے کا سبب تم سے نہ بیان کرلوں اگر تم حق پسندی سے کام لو گے تو تمہاری سعادت مندی ہے اگر تم میرا عذر قبول نہ کرنا چاہو تو مجھ پر ٹوٹ پڑو بلاشبہ اللہ میرا مددگار ہے۔ امابعد تم لوگ میرے نسب پر غور کرو کہ میں کون ہوں کیا میرا قتل کرنا اور میری آبرو ریزی تمہیں جائز ہے کیا میں تمہارے نبیؐ کا نواسہ نہیں، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول ؐاللہ نے میرے اور میرے بھائی کے حق میں فرمایا ہے یہ دونوں نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ کیا تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو تمہیں میری خونریزی سے روکدے۔ آخر تم مجھ سے کس بات کا بدلہ طلب کرتے ہو کیا میں نے تم میں سے کسی کو قتل کیا ہے کسی کا مال مار لیا ہے۔ آخر کس بات کا قصاص چاہتے ہو۔ اس کے بعد حضرت امام حسینؓ نے شیث بن ربعی، حجار بن ابجر، قیس بن اشعث اور یزید بن حارث کو نام لے کر پکارا اور پوچھا کہ کیا تم لوگوں نے مجھے اپنے خطوط میں یہ نہیں لکھا تھا کہ ’’فصل پک چکی ہے، خرموں کے باغات سرسبز ہیں ، دریا طغیانی پر ہیں لشکر آراستہ ہیں آپ فی الفور آجائیے‘‘ مگر اُن سب نے بیک زبان اپنے ہی لکھے ہوئے خطوط کا انکار کردیا۔ اس پر آپ نے فرمایا سبحان اللہ بخدایہ خطوط تم ہی نے لکھے تھے لیکن اگر اب تمہیں میرا آنا پسند نہیں تو میرا پیچھا چھوڑدو میں کسی طرف نکل جاؤں گا۔(تاریخ طبری)

امام حسینؓ کے موعظہ کا اثر جناب حرؓ پر پڑا اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور امام حسینؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر گھوڑے سے اُتر کر آپؑ کی رکاب کو بوسہ دیا امام نے حُرؓ کو معافی دے کر جنت کی بشارت دی (روضۃ الاحباب۔طبری)

حُرؓ کے ساتھ ان کا بیٹا بھی تھا۔ حمید ابن مسلم بیان کرتے ہیں کہ لشکر حسین پر پہلا تیر عمر ابن سعد نے چلایا۔ جناب حُرؓ کو قصور ابن کنانہ نے شہید کیا۔

عمر ابن سعد نے جب لشکرِ حسینی کا جذبہ شجاعت دیکھا توسمجھ گیا کہ ان سے انفرادی مقابلہ ناممکن ہے۔ چنانچہ اُس نے بے شمار تیر اندازوں کے ذریعے تیر بارانی شروع کردی جسکے نتیجے میں امام حسینؓ کا تقریباً تمام لشکر مجروح ہوگیا، تقریباً 40 اصحاب اُسی وقت شہید ہو گئے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ دوران جنگ نماز ظہر کا وقت ہو گیا تونماز کا تہیہ فرمایا تیر چونکہ مسلسل آ رہے تھے اس لئے زہیر ابن قیس اور سعید بن عبداللہ امام حسینؓ کے سامنے کھڑے ہو کر تیروں کو سینے پر لینے لگے یہاں تک کہ امام نے نماز تمام فرمالی۔

انصارانِ باوفا کی شہادت کے بعد امام حسینؓ کے اعزہ و اقارب یکے بعد دیگرے میدان کارزار میں داد شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوئے۔

جب امام حسینؓ بے یارو مددگار ہو گئے ۔تو خود بقصدِ شہادت میدان کے لئے عازم ہوئے اور وہاں پہنچ کر آپؓ ھل من ناصر ینصر ( کوئی ہے جو میری مدد کرے ) کی صدا بلند فرمائی۔ آپؓ کی آواز سُن کر امام زین العابدین اپنی کمال علالت کے باوجود خیمے سے نکل آئے امام نے حضرت ام کلثوم کو آواز دی بہن عابدبیمار کو روکو۔حضرت علی اصغر کو گود میں اُٹھا کر ایک ٹیلہ پر بلند ہوئے اور قوم اشقیاء سے فرمایا دیکھو میں اپنے چھ ماہ کے بچے کو پانی پلانے آیا ہوں اس کو پانی پلا دو اگر تمہارے زعم میں خطا وار ہوں تو یہ تو بے خطا ہے عمر بن سعد نے حرملہ ابن کاہل اردو کو حکم دیاچنانچہ ا س ملعون نے تیر سہ شعبہ جو زہر سے بجھا ہوا تھا چلا دیا جو حضرت علی اصغر کے گلے میں پیوست ہو گیا۔

حضرت علی اصغر کی شہادت کے بعد حسین میدان کربلا میں تنہا رہ گئے ۔ خیام حرم کی طرف اہل بیت سے رخصت ہونے کے لئے آئے فرمایا: سلام الوادع ( پس یہ میرا سلام اور آخری رخصت ہے) ہر بلا میں خدا کو یاد رکھنا اپنے رحیم و کریم خالق کو نہ بھولنا اور عنان صبر کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔اس کے بعد میدان کارزار میں اترے تو عمر ابن سعد نے لشکر والوں سے کہا سب مل کر حملہ کر دو،40افراد نے آپ ؓ کو گھیرے میں لے کر وار کرنا شروع کر دئیے۔ ابوالحتوف جعفی نے جبین مبارک پر تیر مارا پھر ایک تیر سہ شعبہ آپ کے سینے میں پیوست ہو گیا۔ اس کے بعد صالح بن صہب نے ایک نیزہ مارا ۔ابن شریک نے آپ کے دائیں شانے پر تلوار ماری سنان بن انس نے آپ کی ہنسلی پر نیزہ مارا پھر اس نے ایک تیر گلوئے مبارک پر مارا۔ آپ نے تیر کو کھینچا اس کے بعد بن مالک بن نسبر کندی نے سر مبارک پر تلوار ماری۔حصین نے دہن اقدس پر تیر مارا ۔ ابو ایوب غنوی نے حلق پر حملہ کیا پھر نصر بن حرشہ نے جسم پر تلوار ماری یہ دیکھ کر عمر ابن سعد نے کہا ان کا سر فوراً کاٹ لو سر کاٹنے کے لیے شیث ابن ربعی بڑھا اور واپس ہو گیا پھر سنا ن بن انس آگے بڑھے اس کے جسم پر رعشہ طاری ہو گیا اسکے بعد شمر آپ کے سینہ مبارک پر سوار ہو گیا آپ نے اس سے پوچھا مجھے کیوں قتل کرنا چاہتا ہے ۔اس نے کہا مجھے یزید کی جانب سے مال و دولت ملے گا آپ نے اس سے کہا مجھے اجازت دے کہ میں اپنے خالق کی آخری نماز عصر ادا کر لوں، آپ سجدہ میں گئے تو شمر نے آپ کے گلو ئے مبارک کو خنجر کی بارہ ضربوں سے قطع کر کے نوک نیزہ پر بلند کر دیا ۔ حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ جب ابن زیاد نے آپؓ کے سرِ اقدس کو نوک نیزہ پر چڑھا کر کوفہ کی گلیوں میں پھرانے کا حکم دیا۔

حضرت زید بن ارقم کہتے ہیں کہ میں پکار اٹھا اللہ کی قسم یہ سر تو ابن رسول اللہؐ کا ہے ۔ اس کے بعد دیگر شہدا کے سر کاٹے گئے،خیموں میں کہرام مچ گیا دشمنوں نے خیموں کو آگ لگا دی اور سامان لوٹنا شروع کر دیا ۔ پھر اس قافلہ کو کوفہ لے جانے کے لئے مقتل کی طرف سے گذارا گیا تو حشر کا سماں بن گیا قافلہ آگے بڑھا آل رسولؐ کی لاشیں بے گورو کفن زمین کربلا پرپڑی رہیں چند دنوں بعد بنی اسد نے انہیں سپرد خاک کر دیا گیارہ محرم کو رسول پاکؐ کی نواسیوں کا یہ قافلہ دربار کوفہ گیا پھر ایک ہفتہ انہیں کوفہ میں رکھا گیا ۔رہائی کے بعد اہل بیت نبوت بتاریخ 20صفرسن26 ہجری کربلا سے ہوتے ہوئے 8 ربیع الاول کو مدینہ منورہ پہنچ گیا ۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

مزید : ایڈیشن 2