’’کھیل ابھی جاری ہے‘‘

’’کھیل ابھی جاری ہے‘‘
 ’’کھیل ابھی جاری ہے‘‘

  


پاکستان میں عشروں سے کھیلا جانے والا سیاست اور جمہوریت کا کھیل ابھی جاری ہے، ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری نسل اس کھیل کا حصہ بن چکی ، تاریخ کی کتابوں میں درج کہانیوں کی طرح پاکستان میں بھی سیاست کی کہانی اورکھیل خونی ہے، اس کھیل میں دو طرح کے کھلاڑی ہیں، ایک وہ ہیں جو صرف لطف اندوز ہونے کے لئے کھیلتے ہیں مگر دوسرے سردھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں، جو لطف اندوز ہونے کے لئے کھیلتے ہیں وہ چوکے چھکے بھی لگاتے ہیں مگر جب انہیں کارڈ دکھایا جاتا ہے تو وہ خاموشی سے میدان سے باہر چلے جاتے ہیں۔

یہ کھیل نواز شریف سے پہلے بھی کھیلا جا رہا تھا اور نواز شریف کے بعد بھی کھیلا جاتا رہے گا، ہاں، نواز شریف نے اس کھیل میں ایک تبدیلی کی ہے کہ اس سے پہلے جس کھلاڑی کو میدان سے باہر نکالا جاتا تھا وہ یا تو ذاتی طور پرواپس آنے کی جرات نہیں کرتا تھایا وہ اس قابل ہی نہیں رہتا تھا کہ اپنے وجود کے ساتھ واپس آئے، آوٹ کا مطلب مکمل طور پر آوٹ ہوتا تھا، نواز شریف سے پہلے جس کھلاڑی نے اپنے کھیل سے داد حاصل کی وہ ذوالفقار علی بھٹو شہید تھے، ساٹھ کی دہائی کے وسط میں نمودار ہوئے، پیپلزپارٹی بنائی، ملک دولخت ہوا تو اس کٹھن ترین دور میں کھیل بہت کامیابی کے ساتھ کھیلا مگر وہ گیارہ برس ہی کھیل سکے، ذوالفقار علی بھٹو گیارہ ، بارہ برس بعدسیاست ہی نہیں بلکہ اپنے تئیں ہر میدان سے ہمیشہ کے لئے نکال دئیے گئے مگر دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو کبھی نہیں نکالا جا سکا، بھٹو آج بھی پاکستان کی سیاست میں کھیل رہا ہے۔آج بھی قومی اسمبلی کی اپوزیشن لیڈری بھٹو کے پاس ہے ، نواز شریف سے وزارت عظمیٰ لینے والے بھٹو سے اپوزیشن لیڈری چھیننے کی کوشش میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔

یہ کہا گیا اورخوب داد لی گئی کہ کھیل ختم ہو چکا ہے،پاناما کیس کے فیصلے کوکھیل ختم ہونے کی دلیل بھی سمجھا جا سکتا ہے اور تشریح بھی، پاکستان کی سیاست میں بہت سارے ایسے آئے کہ جب انہیں نکالا گیا تو وہ ایوانوں سے اپنا بوریا بسترا اٹھائے خاموشی سے چلے گئے مگرنواز شریف کو جب نکالا گیا تو اس نے واپسی کا سفر شروع کردیا۔

مجھے پاناما کیس پر کھیل ختم ہونے کی باتیں کرنے والوں سے اختلاف ہے، بظاہر اس سے کہیں زیادہ برے طریقے سے کھیل بارہ اکتوبر ننانوے کو ختم ہوا تھا، حکومت کے ساتھ ساتھ آئین کی بساط بھی لپیٹ دی گئی تھی۔ چودھری برادران سمیت بہت ساروں کا خیال ہی نہیں ایمان بھی تھا کہ اب نواز شریف اس کھیل میں دوبارہ اِن نہیں ہوسکیں گے اورسعودی عرب جلاوطنی نے ان کے سیاسی کھیل کے اختتام پر گویامہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔

دوہزار دو کے انتخابات ہوئے تو پنجاب میں ان لوگوں نے ٹوکرا الٹا کر دیا تھا جوخود اسی ٹوکرے کے نیچے دانا دنکا چُگا کرتے تھے۔ میں ذاتی طور پر نواز شریف کی جلاوطنی کے فیصلے کے خلاف رہا ، میں ہی نہیں، مسلم لیگ نون کی ایک ایسی رہنما بھی تھیں جو اس وقت شریف خاندان کے ساتھ آخری حدوں تک جاتے ہوئے وفاداری نبھا رہی تھیں ، انہوں نے شریف فیملی کی طرف سے جلاوطنی قبول کرنے کے فیصلے پر مجھے ماڈل ٹاون میں کہا تھا، ’یہ ملک بچاو تحریک نہیں، یہ شوہر بچا وتحریک تھی، بیگم کلثوم نوازاس تحریک میں کامیاب ہو گئی تھیں‘، یقینی طور پر اس وقت جمہوریت کے خیر خواہوں کے لئے بدترین دن تھا، وہ سمجھ رہے تھے کہ کھیل ہی ختم نہیں ہوا بلکہ ان کی نمائندہ ٹیم ہی میدان چھوڑ گئی ہے، اندھیری غار میں کہیں دور، بہت دورجو ایک روشنی نظر آ رہی تھی، نظروں نے اس روشنی کا تعاقب بھی چھوڑ دیا تھا۔ یقین مانئے پاکستان میں جمہوریت سے محبت کرنے والوں کے لئے پاناما کیس کا فیصلہ مونگ پھلی کا دانہ بھی نہیں ہے اور نہ ہی نیب کورٹ کے متوقع فیصلوں کی رائی برابر اہمیت ہے کہ کھیل تو اس وقت بھی ختم نہیں ہوا تھا جب جمہوریت کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کے بعداسے راتوں رات چھوٹے سے قصبے گڑھی خدا بخش کی اندھیری قبر میں اتار دیا گیاتھا۔

اس کے بعد کا کھیل بیگم نصرت بھٹو او ربے نظیر بھٹو نے کھیلا تھا اور جس جرات اور ہمت کے ساتھ کھیلا تھا اسے آج کی عظمیٰ کاردارائیں اور شیریں مزاریاں نہیں سمجھ سکتیں، میری نظر سے اس عشروں سے جاری کھیل کو دیکھیں تو آپ کو کرپشن اور نااہلی کے ہزاروں الزامات کے باوجود آصف زرداری اور بلاول بھٹو، اسد عمروں اور نعیم الحقوں جیسے بہت سارے پروفیشنل سیاسی اداکاروں سے بہتر لگیں گے کیونکہ وہ جدوجہد کے ایک بڑے تاریخی ورثے اور اثاثے کو سنبھالے ہوئے ہیں۔

میں بیگم کلثوم نواز شریف کی صحت کے لئے دعا گو ہوں کہ میں نے مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کو جدوجہد کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور مجھے وہ دور ملا جس نے مذہب کو استعمال کرتے ہوئے میرے نظریات کو اینٹی بھٹو بنا دیا مگر میں نے محترمہ کلثوم نواز کو جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا ہے اور آج میں سمجھتا ہوں کہ بیگم کلثوم نواز کا وہ فیصلہ درست تھا کہ وہ آمریت کی بچھائی خونی بساط سے اپنے شوہر کو زندہ سلامت باہر لے جائیں جس بساط پر اس سے پہلے بھی منتخب وزرائے اعظم کا کسی نہ کسی صورت خون گرایا جا چکا ہے، اس شطرنج نے بے نظیر بھٹو کا لہو بھی پی لیا۔

مجھے تاریخ میں مزید پیچھے جانے دیجئے کہ کھیل تو اس وقت بھی ختم نہیں ہوا تھا جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کوانتخابات میں شکست دے دی گئی تھی اور پھر ایک صبح وہ پراسرار طور پر مردہ پائی گئی تھیں۔میں تاریخ کے اوراق کو پلٹتا ہوں تو مجھے امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں میں یہ کھیل صدیوں تک جاری نظر آتا ہے، بہت سارے یہ سمجھتے ہیں کہ ان ملکوں میں عوام کو جمہوریت اور حکمرانی کے حقوق پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دئیے گئے تھے۔

آج اس کھیل کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، کچھ لوگ اسے ٹی ٹوئینٹی سمجھتے ہیں مگر یہ کھیل ٹیسٹ کی صورت ہے، میاں نواز شریف کوآج قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات کے قانون اور بعد ازاں مسلم لیگ نون کی جنرل کونسل کی طرف سے پارٹی آئین میں ترمیم کے بعدکل تین اکتوبر کو دوبارہ پارٹی صدر منتخب کر لیا جائے گا۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس کھیل میں اعتزاز احسن نے رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جو خود کو ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا ساتھی کہتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ میاں نواز شریف ابھی دوبارہ وزیراعظم بنتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے مگر درست تو یہ بھی ہے کہ وہ اس صدی کے پہلے عشرے کے آغاز میں سیاست میں حصہ لیتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔عدالت نے بارہا ہماری سیاست کو کھایا ہے اور اب بھی یوں لگ رہا ہے کہ یہ قانون منظوری کے بعد چیلنج اور منسوخ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں تو آئینی ترامیم تک معطل ہوتے ہوئے دیکھی گئی ہیں۔

فیض احمد فیض تو عشروں پہلے اپنے وطن کی گلیوں پر نثار ہوئے تھے جس میں کسی کے بھی سرنہ اٹھا کے چلنے کی رسم چلی تھی، اس کھیل میں جسم وجاں بچا کے اور نظر چرا کے چلنے کے دور پہلے بھی آئے تھے جب سنگ و خشت آزاد تھے اور سگ مقید مگر آگ میں پھول ہمیشہ کھلائے جاتے رہے ہیں۔

’’یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق

نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی

یونہی ہم نے ہمیشہ کھلائے ہیں آگ میں پھول

نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی

اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے

ترے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے

گر آج تجھ سے جدا ہے تو کل بہم ہوں گے

یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں

گر آج اوج پہ ہے طالع رقیب تو کیا

یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

جو تجھ سے عہد وفا استوار رکھتے ہیں

علاج گردش لیل و نہار رکھتے ہیں۔‘‘

مزید : کالم