تاریک غاروں اور کانوں میں اڑنے اور چلنے والا ڈرون

تاریک غاروں اور کانوں میں اڑنے اور چلنے والا ڈرون
تاریک غاروں اور کانوں میں اڑنے اور چلنے والا ڈرون

  


سٹاک ہوم(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈرون ٹیکنالوجی اپنے بہترین دور سے گزررہی ہے اور اب ایک ایسا ڈرون تیار کیا گیا ہے جو ضرورت کے تحت پرواز کرسکتا ہے اور زمین پر چل بھی سکتا ہے اور اس کیلیے اسے کسی انسانی آپریٹر کی ضرورت نہیں بھی نہیں پڑتی اور یہ لیزر کے ذریعے غاروں اور کانوں کا سروے کرکے نقشہ سازی کرسکتا ہے۔کھلی فضا میں اپنی سمت کیلیے ڈرون اور ہوائی جہاز جی پی ایس سیٹلائٹ سے رہنمائی لیتے رہتے ہیں لیکن زیرِزمین غاروں اور کانوں تک اس کے سگنل نہیں پہنچ پاتے اور یوں وہاں استعمال ہونے والے ڈرونز کو انسانی آپریٹر یا پائلٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔سویڈن کی ایک کمپنی ’انکونووا‘ سے وابستہ احمد النعمانی اور ان کے ساتھیوں نے اس ایجاد پر کام کیا ہے۔یہ ڈرون بہت تیزی سے لیزر اسکینر اور ایس ایل اے ایم نامی ایک دوسری تکنیک کے ذریعے اپنے آس پاس کی اشیا سے خود اپنا فاصلہ ناپتا ہے اور بہت تیزی سے اپنے اطراف اور ماحول کا نقشہ بناتا جاتا ہے۔ کمپنی نے اپنا ایک ڈرون تیار کیا ہے جسے ٹِلٹ رینجر کا نام دیا گیا ہے۔ اس نے صرف 10 منٹ میں 30,000 مربع میٹر کی ایک کان کا پورا نقشہ بنایا جو لندن کے رائل البرٹ ہال جتنی جگہ ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4