واشنگٹن، سفارت خانے میں حسین حقانی کی تصویر دوبارہ لگ گئی

واشنگٹن، سفارت خانے میں حسین حقانی کی تصویر دوبارہ لگ گئی

واشنگٹن (اظہر زمان/ بیوروچیف) واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے میں سابق سفیروں کی فوٹو گیلری سے سابق سفیر حسین حقانی کی تصویر ہٹانے کے بعد دوبارہ لگا دی گئی ہے۔ اس گیلری میں سفارت خانے کے قیام سے لے کر اب تک کے سفیروں کی فریم شدہ تصویریں ان کے دور کے عرصے اور مختصر تعارف کے ساتھ دیوار پر آویزاں ہیں، جو سفارتخانے کا تاریخی اثاثہ ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ہفتہ دس دن قبل اس گیلری میں سے صرف حسین حقانی کی تصویر کو نا معلوم وجہ کی بناء پر دیوار سے اتار دیا گیا تھا۔ یہ خبر پاکستانی کمیونٹی تک پہنچی تو اس کارروائی پر ناگوار ردعمل شروع ہوگیا۔ 20 ستمبر کوسفارت خانے میں دفاع پاکستان کی تقریب تھی جس میں شریک پاکستانی کمیونٹی کے ارکان نے حقانی کی تصویر موجود نہ ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا اور اس سے قبل کہ یہ ردعمل زیادہ شدت اختیار کرتا 28 ستمبر کو یہ تصویر دوبارہ خاموشی سے واپس اسی جگہ پر لگا دی گئی۔ اس نمائندے نے یہ واقعہ علم میں آنے پر حقائق معلوم کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی سفیر اعزاز احمد چودھری کے دفتر سے رابطہ کیا تو وہ ملاقات میں مصروف تھے، جہاں ان کے لئے پیغام چھوڑا جن کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ تاہم پریس اتاشی ثوبیہ مسعود نے جواب میں پہلے سے تیار شدہ ’’سرکاری موقف‘‘ ٹیکسٹ کی صورت میں بھیج دیا اور اس میں جو ’’کہانی‘‘ بیان کی، وہ کچھ اس طرح ہے۔ ’’سفارت خانے میں 20 ستمبر کو ایک تقریب کیلئے اس دیوار کے قریب عملے کے ارکان فوڈ سٹال کی میزیں لگا رہے تھے جہاں سفیروں کی فوٹو گیلری ہے، اس کام کے دوران اتفاق سے سابق سفیر حسین حقانی کی تصویر نیچے گر گئی۔ جب اس کا علم ہوا تو جمعرات کی شام یہ تصویر دوبارہ اس جگہ پر لگا دی گئی‘‘ اس ’’کہانی‘‘ میں بہت خلاہے۔ ایک تو یہ تصویر بدھ کی تقریب سے کافی دن پہلے وہاں موجود نہیں تھی۔ دوسرے یہ کہ میزیں لگاتے وقت تمام باقی تصویروں کو کچھ نہیں ہوا صرف حسین حقانی ہی کی تصویر کیوں گری۔ جب اس نمائندے نے حسین حقانی سے رابطہ کرکے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ میرے علم میں نہیں ، اس لئے میں اس پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں کہ میری تصویر کیوں ہٹائی اور پھر کیوں لگائی گئی اور ایسا کرنے والوں کے کیا مقاصد تھے۔پاکستانی کمیونٹی کے ایک سرگرم رپورٹر اور واشنگٹن پریس کلب آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل کوثر جاوید سے ان کی رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’’حسین حقانی کی تصویر کو ہٹانا افسوسناک اور غیر اخلاقی اقدام ہے اور مخالف ردعمل کے خوف سے کوئی بھی اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہ ہوگا۔ کوئی پسند کرے نہ کرے حسین حقانی کا دور سفارت تاریخ کا ایسا حصہ ہے جسے کوئی کھرچ کر نکال نہیں سکتا۔ میں ریکارڈ درست کرنے کے لئے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ چند لوگوں نے حقانی کو متنازعہ بنانے کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن یہاں پاکستانی کمیونٹی میں ان کے چاہنے والوں کی بھی کثیر تعداد موجود ہے۔ ان کا سفارت کا زمانہ ایک سنہرا دور تھا، جب پاک امریکہ تعلقات بہتر تھے، امریکی امداد بھی وافر مل رہی تھی اور سفارت خانے میں پاکستانی کمیونٹی بہت اہمتی دی جاتی ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں میڈیا کے لوگ سفارت خانے کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔

مزید : صفحہ آخر