سید الشہداء کی عظیم شہادت نے مسلمانون کیلئے ایک خصوصی درس فراہم کیا ،وزیراعظم آزاد کشمیر

سید الشہداء کی عظیم شہادت نے مسلمانون کیلئے ایک خصوصی درس فراہم کیا ...

مظفرآباد(بیورورپورٹ)آزادجموں وکشمیر کے صدر سردار محمد مسعود خان، وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان اور وزیر اطلاعات راجہ مشتاق منہاس نے کہا ہے کہ انسانی آزادی وعظمت کی خاطر اپنی اور اپنے جان نثار ساتھیوں کی جانیں تک قربان کر کے حریت پسندی کی ایک روشن مثال تاریخ انسانیت میں چھوڑی ہے ۔اس مثال پر جس قدر بھی فخر کریں کم ہے ۔ سید الشہداء کی عظیم شہادت نے مسلمانون کیلئے ایک خصوصی درس فراہم کیا ہے کہ بندہ مومن کی معراج یہ ہے کہ راہ حق میں ضرورت پڑنے پر اپنی عزیز ترین متاع بھی قربان کر دے اس عظیم شہادت کے مختلف پہلو ہیں اور ہر پہلو دوسرے سے روشن ہے ۔ان خیالات کا اظہارصدر سردار محمد مسعود خان، وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان اور وزیر اطلاعات راجہ مشتاق منہاس نے یوم عاشور کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔ صدر سردار محمد مسعود خان نے کہا کہ امام عالی مقام اور ان کے مقدس ساتھیوں کی شہادت کا یہ منفرد اور ممتاز واقعہ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کیلئے کئی شاندار درس فراہم کرنا ہے امام عالی مقام کا صبر ، ان کی جرات ، بے غرضی اور دین میں سے مکمل وابستگی ہمارے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی ۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج بھی اپنے اعلیٰ مقاصد کے حصول کیلئے ہم اس واقعہ سے راہنمائی حاصل کریں مقبوضہ کشمیر کے ہمارے مجبور بہن بھائی بھارتی جبر و تشدد کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ان کی نظریں ہم پر لگی ہیں ۔آج اس مقدس موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ہم اپنی قومی زندگی میں اخوت ، ہم آہنگی اور قربانی کے جذبے کو فروغ دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی صفوں میں نظم و ضبط اور یک جہتی پیدا کریں گے اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے امام عالی مقام اور ان کے ساتھیوں کی پاکیزہ مثال کو اپنے سامنے رکھیں تو مجھے پورا یقین ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت سوا کروڑ کشمیروں کی آواز کو نہیں دبا سکتی ۔وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے عاشورہ محرم کے دوران بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ تاریخ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بہادر ایسی بے سرو سامانی غم و الم کے ہجوم اور بھوک و پیاس کی انتہائی تکالیف میں ایک کثیر فوج سے عرب کے ریگستانی دھوپ کے شعلوں میں نہ لڑا نہ لڑ سکتا ہے ۔نواسہ رسول اور فرزند حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بہادری اورقوت ان کی اس کمال روحانیت کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اسلام اورمقصد کی سچائی پرکس قدر مضبوط ارادے کے حامل تھے ۔آپ ؑ میں وہ اعلیٰ جوہر اورکمالات تھے جو عام انسان میں نہیں پائے جاتے ۔ آپ کی عظیم الشان اور عدیم النظیر قربانی نے نہ صرف اسلام کو ابدالآباد تک مسخ ہونے سے بلکہ مکمل تباہی سے بچا لیا ۔ آپ نے اپنے دور کے تمام مسلمانوں اور آنے والی نسلوں کو مستقل گمراہی اوربے راہ روی سے محفوظ کر لیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس دن کے حوالے سے میں بھارت پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کرئے تا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو اور کشمیر سکون اور آرام سے اپنی منزل حاصل کر سکیں ۔ میں ایک بار پھر تمام جمہوریت پسند ممالک اور بالخصوص اقوام متحدہ سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ بھارت کی ان مجرمانہ حرکتوں کا نوٹس لے بھارت کا جنگی جنون پاکستان سے کشیدگی اور تناؤ جنوبی ایشیاء کے امن کو تباہ وبرباد کر دے گا۔ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں بھارت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق ،حق خودارادیت دے۔وزیر اطلاعات راجہ مشتاق منہاس نے کہا کہ امام عالی مقام نے حق کی ترویج ، عدل کے نفاذ ہر قسم کے ظلم ، ہر قسم کی ذاتی اور معاشرتی برائی کے خاتمہ کیلئے نہ صرف اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور اس عظیم مقصد کی خاطر اپنی اولاد ، اپنے احباب ، اپنے دوست ، اپنے مال ، اپنے عزیز و اقرباء کوقربان کو دیا اسی کا نام شہادت حسین یا شہادت عظمیٰ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امام عالی مقام کے اگر ا ن مقاصد کو سامنے رکھا جائے جن کیلئے دین السلام کے اس عظیم محافظ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا تو آج مقبوضہ کشمیرکا ہر مسلمان بچہ اپنی جان کی بازی بھی ان ہی اقدارکے تحفظ کیلئے لگا رہا ہے ۔وہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن سے بر سرپیکار ہے ۔ اب تمام دنیا جان چکی ہے کہ بھارت ایک سیکولر حکومت ہونے کے لبادے میں میں اسلام دشمنی میں کسی حد تک آگے جا چکا ہے ۔آج کشمیری مسلمان اسلام کے تحفظ کی جنگ لڑ رہا ہے ۔لیکن ہمیں افسوس ہے کہ عالمی طاقتیں بھارت کے اس وحشانہ کردار کودیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ کشمیر کا مسلمان جس عظیم مقصد کیلئے گزشتہ نصف صد ی سے اپنا خون پیش کرتا چلا آرہا ہے ۔اس کے حصول تک یہ عمل جاری رہے گا ۔اور جب تک مقبوضہ کشمیر کا چپہ چپہ بھارتی قبضہ سے آزاد نہیں ہوجاتا معرکہ کربلا کی یاد تازہ ہوتی رہے گی اور رسم شبیری ادا ہوتی رہے گی ۔

مزید : کراچی صفحہ اول