وہ واقعہ جب جنگ صفین سے واپسی پر حضرت علیؓ نے کربلا میں نماز اداکرتے ہوئے اسکی مٹی کو سونگھا اورایسی بات ارشاد فرمائی جس کا گواہ یزیدی لشکر کا سپاہی تھا

وہ واقعہ جب جنگ صفین سے واپسی پر حضرت علیؓ نے کربلا میں نماز اداکرتے ہوئے ...
وہ واقعہ جب جنگ صفین سے واپسی پر حضرت علیؓ نے کربلا میں نماز اداکرتے ہوئے اسکی مٹی کو سونگھا اورایسی بات ارشاد فرمائی جس کا گواہ یزیدی لشکر کا سپاہی تھا

  


واقعات کربلا کے رونما ہونے کی قبل ازوقت شہادتیں سنی و شیعہ کتب میں موجود ہیں۔رسول کریم ﷺ نے اپنے نواسے حضرت امام حسینؓ کی کربلا میں شہادت کا ذکر فرمادیا تھا تو حضرت علیؓ نے بھی کربلا کی مٹی میں اپنے لاڈلے کے پاکیزہ خون کی مہک محسوس کرلی تھی۔اس ضمن میں ایک واقعہ جومشہور ہے وہ یہ کہ جنگ صفین کے بعد حضرت علیؓ جب واپس لوٹ رہے تھے اورآپؓ نے کربلا کی سرزمین پر نماز ادا کی اور پھر مٹھی بھر خاک کربلالی ، اور اسے سونگھنے کے بعد فرمایا’’ آہ ، اے خاک ! بے شک تجھ سے ایک قوم اٹھے گی جو بغیر حساب کے بہشت میں داخل ہوگی‘‘ اس واقعہ کی شہادت یزیدی لشکر میں شامل حرثمہ سے معروف ہے۔حرثمہ کا بیان ہے ’’اس ماجرے کو بیتے کئی سال گزرے ، یہاں تک کہ جب عبیداللہ بن زیاد نے اپنا لشکر امام حسینؓ کے ساتھ جنگ کرنے کی غرض سے کربلا بھیجا ، میں بھی اس لشکر میں تھا جب ہم سرزمین کربلا پہنچے تو اتفاق سے اسی جگہ کو دیکھا جہاں امام علیؓ نے نماز پڑھی تھی اور اس جگہ کی مٹی کو سونگھا تھا ۔ حضرت علیؓ کی باتیں یاد آگئیں ، میرا دل گھبرایا اور اس لشکر میں شریک ہونے سے پیشمان ہوا ، اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر سیدھا امام حسینؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے امام علیؓ سے اس جگہ پر سنا اور مشاہدہ کیا تھا آپؓ کے حضور بیان کیا ۔ امام حسینؓ نے فرمایا ’’ کیا ابھی ہماری مدد کے لئے آئے ہو یا جنگ کرنے کے لئے؟‘‘

میں نے کہا ’’ اے فرزند رسول اللہ ﷺ میں مدد کے لئے آیا ہوں نہ کہ جنگ کے لئے۔ لیکن اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ آیا ہوں اور ابن زیاد کی جانب سے ان کے بارے میں خوف اور پریشانی میں مبتلا ہوں‘‘

حضرت امام حسینؓ نے جب یہ باتیں سنیں تو فرمایا ’’ اگر ایسی بات ہے تو جلدی سے اس سرزمین سے دور ہوجاؤ تا آنکہ ہماری قتل گاہ کو نہ دیکھ پاؤ اور ہماری آواز نصرت کو نہ سن پاؤ ، خدا کی قسم جس نے بھی آج ہماری صدائے مظلومیت کو سنا ہو اور ہماری مدد کو نہ پہنچا ، وہ یقیناً جھنم کی آگ میں داخل ہوجائے گا ‘‘

مزید : روشن کرنیں