عزت لٹنے کے خوف سے خودکشی کرنے کی بجائے خاتون کو کیا کرنا چاہئے؟ ایک عالم دین کاایسا فتویٰ جسے پڑھ کر بدقماش مردوں کو کسی عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا پڑے گا

عزت لٹنے کے خوف سے خودکشی کرنے کی بجائے خاتون کو کیا کرنا چاہئے؟ ایک عالم دین ...
عزت لٹنے کے خوف سے خودکشی کرنے کی بجائے خاتون کو کیا کرنا چاہئے؟ ایک عالم دین کاایسا فتویٰ جسے پڑھ کر بدقماش مردوں کو کسی عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا پڑے گا

  


لاہور(نظام الدولہ)برسوں سے یہ بات مشاہدے میں چلی آرہی ہے اور یہ بہت سے علاقوں میں روایت بھی بن چکی ہے کہ جب کسی خاتون کو عزت کے لٹ جانے کا خیال ہوتو وہ خودکشی کرلیتی ہے اور اسکو عظمت بھی خیال کیا جاتا ہے ۔ہندوستان میں صدیوں تک یہ رواج بھی رہاہے جب مفتوح بادشاہ یا مہاراجوں نوابوں کی بیگمات اور خواتین خانہ نے دشمن کے ہاتھوں اپنی عزتوں کے پائمال ہونے کے خوف سے خود کشی کرلی اور یہ فعل پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے ،غیر مسلم اور مسلمان خواتین زمانہ جہالت سے دور جدید تک عزت کے لٹ جانے کے خوف پر خود کشی کو آسان اور قابل عزت سمجھتی ہیں لیکن اسلام میں خودکشی کو ہر صورت میں حرام سمجھا جاتا ہے ۔

ممتاز عالم دین علامہ عبدالقیوم ہزاروی سے میر پور کی ایک خاتون ردا خان نے جب سوال کیا کہ کیا لڑکی عزت بچانے کے لیے خودکشی کر سکتی ہے؟ جس کا جواب انہوں نے ادارہ منہاج القرآن کی فتوٰ ی آن لائن ویب پر دیتے ہوئے اس موت کو قرآن و سنت کی رو سے حرام موت قرار دیا اور کہا کہ اس سے بہتر کام مزاحمت ہے اور مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہوجانا افضل ہے۔

انہوں نے کہا کہ خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے اور اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے۔ زندگی اور موت کا مالکِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ تلف کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ اسلام میں خودکشی قطعاً حرام ہے۔ اس لیے اگر کسی لڑکی پر خدا نخواستہ حملہ ہو اور اسے عزت کے لٹنے کا ڈر ہو تو لڑکی اپنی بساط کے مطابق مزاحمت کرے، نہ کہ اپنی جان لے۔ کیوں کہ دورانِ جہاد بھی خودکشی کرنے والا جہنمی ہے، جس پر حدیثِ مبارکہ گواہ ہے۔

کسی غزوہ کے دوران میں مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خوب بہادری سے جنگ کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کی شجاعت اور ہمت کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علمِ نبوت سے انہیں آگاہ فرما دیا کہ وہ شخص دوزخی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ سن کر بہت حیران ہوئے۔

بالآخر جب اس شخص نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خود کشی کرلی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ خود کشی کرنے والا چاہے بظاہر کتنا ہی جری و بہادر اور مجاہد فی سبیل اللہ کیوں نہ ہو، وہ ہرگز جنتی نہیں ہو سکتا۔ آقا علیہ السلام نے واضح طور پر فرما دیا کہ مشکلات کا مقابلہ کرنا جنتیوں والا، اور مشکلات میں خود کشی کر لینا جہنمیوں کا کام ہے۔ اگر کوئی فرد اپنے اہلِ خانہ، اپنی جان اور دین کے تحفظ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، تو وہ شہید کہلائے گا، تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ عورت اپنی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے مزاحمت میں ماری جائے، تو اس کو بھی مرتبہ شہادت نصیب ہوگا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس