’’ محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا ‘‘پاک فوج کا وہ کم سن شہید افسرجو دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے یہ نعت شریف پڑھا کرتا تھا ،اس نے داستان شجاعت کیسے رقم کی، جان کر آپ بھی اسکے جذبہ شہادت کو سلام کریں گے

’’ محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا ‘‘پاک فوج کا وہ کم سن شہید افسرجو ...
’’ محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا ‘‘پاک فوج کا وہ کم سن شہید افسرجو دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے یہ نعت شریف پڑھا کرتا تھا ،اس نے داستان شجاعت کیسے رقم کی، جان کر آپ بھی اسکے جذبہ شہادت کو سلام کریں گے

  

تحریر:  محمد طاہر تبسم درانی

وطن عزیز میں امن سکون بحال کرانے میں پاک فوج کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں ۔ان عظیم قربانیوں میں ایک قربانی لیفٹینٹ سید ارتضیٰ عباس گردیزی کی بھی ہے۔ان کے والد محترم سید اعجاز حسین گردیزی بنک ملازم تھے ، وہ نہیں جانتے تھے کہ اُن کا لخت جگر ملک و قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے نہ صرف خاندان کا نام روشن کرے گا بلکہ شہید کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گا۔

شہادت سے پہلے ارتضٰی اپنے والد سے کہا کرتاتھا ’’ ابو جان ان دشمنوں کی جرأت نہیں کہ وہ پاکستان کو کوئی نقصان پہنچا سکیں ،نہ ان کے ساتھ کوئی ڈیل ہو گی نہ ان کی کسی بات کو مانا جائے گاان کے مقد ر میں جہنم لکھ دی گئی ہے ‘‘وہ اپنے ماں باپ کی آنکھوں کا تارہ بہن بھائیوں کا دلدار تھا بچپن سے ہی اسے پاک فوج میں شمولیت کا شوق تھا ، قربانی کے جذبے سے سر شارتھا۔شہادت سے پہلے اپنی امی سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا تھا ’’ امی جان آپ نے رونا نہیں ہے بہادری اور صبر کا دامن نہ چھوڑنا ‘‘ جب آپریشن میں جانے لگا تو والدہ سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تو کامیابی کی دعا کے لیے کہا۔

ارتضٰی عباس کے خمیر میں شہادت لکھی ہوئی تھے۔اہل بیت کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان سپوت کی نظر میں سب سے افضل کام حق کے لئے گردن کٹوانا تھا۔اسکا یہ شوق شہادت ہر کوئی جانتا تھا کہ وہ اکثر فخریہ طور پر اس نعت شریف کے شعر پڑھا کرتا تھا کہ ’’ محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا ‘‘ اسکے ساتھیوں اور گھر والوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ جب بھی اسے کسی آپریشن پر بھیجا جاتا تو دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ یہی نعتیہ شعر پڑھتااور اسکا جذبہ دیدنی ہوتا تھا ۔

وہ قوم کا بہادر سپوت ہر مشکل میں سب سے آگے رہتا، ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا اور مقابلہ کرتا، اُس کے دل میں صرف ایک ہی بات ہوتی تھی ،دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملاکر ہی لوٹنا ہے۔ جان رہے یا نہ رہے ملک کی بقا اور عزت قائم رہے گی اور کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔

وہ باپ جو بیٹے کی پل بھر کی جُدائی نہ سہہ سکتا تھا ،آج بیٹے کی قربانی پر سر فخر سے بلند اور کمال حوصلے سے اس صدمے کو برداشت کیے ہوئے اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتا ہے کہ ہمارے بیٹے نے شہداء میں اپنا نام لکھوا کر آخرت کے حَسین پھول چُن لیے ہیں ، جنت میں اعلیٰ مقام پا لیا ہے ، اس کے عزم اور ارادوں کے مطابق مقام ملا۔باپ کی آنکھیں اس انتظار میں تھیں کہ بیٹا واپس لوٹے گا ہاں وہ لوٹا ضرور مگر تابوت میں ۔ بوڑھے باپ نے کانپتے ہاتھوں لرزتے ہونٹوں چھلکتی آنکھوں سے بیٹے کا استقبال کیا۔ باپ کو جب بیٹے کی یاد ستاتی ہے تو تصوروں سے باتیں کر کے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتا ہے ۔

ارتضیٰ عباس ایک ہونہار طالبعلم بھی تھا۔ مقابلے کے امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی،پی اے ایف لوئر ٹوپہ مری کے لیے سلیکٹ ہونے والا بچہ تھا۔ یہ اس کی پہلی کامیابی تھی۔ فوج میں جی ڈی پائلٹ بننے کی خواہش رکھتا تھا ۔ ایف ایس سی کے بعد آئی ایس ایس بی کیا جو کہ بہت ضروری ہوتا ہے ، فلائنگ ٹیسٹ بھی پاس کر لیا، میڈیکل بھی پاس کر لیا۔ جی ڈی پائلٹ کے لیے آنکھوں کا فِٹ ہو نا بہت ضروری ہوتا ہے ،آنکھوں میں تھوڑا مألہ تھا جس کی وجہ سے بطورپائلٹ سلیکشن نہ ہو سکی۔

باپ نے بیٹے سے کہا’’ تم اتنے ہونہار ہو، انجینئرنگ میں چلے جاؤ ‘‘لیکن ارتضیٰ کی خواہش تھی کہ وہ پاک فوج میں ہی جانا چاہتا ہے ۔ جذبوں کا دھنی تھا۔ کہتا تھا’’ اگر میں یہاں بھی نہ ہوا تو پاک بحریہ میں شامل ہو جاؤں گا،بس کچھ بھی ہو جائے میں پاک آرمی میں ہی جاؤں گا‘‘والد نے بیٹے کے عزم اور ارادوں کو دیکھتے ہوئے اجازت دے دی۔

کاکول سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد42 پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر شمولیت اختیار کی اور رحیم یار خان تعیناتی ہوئی۔کچھ عرصہ ہی گذرا تھا کہ ایک دن فون پر گھر والوں سے بات ہو رہی تھی تو اس کا لب لہجہ اداس ہوگیا۔ والد نے پوچھا’’ بیٹے کیوں اداس ہو ، آپ چھٹی لے کر گھر آ جاؤ‘‘

جواب دیا ’’میرا روم میٹ لیفٹیننٹ حکیم اللہ شہید ہو گیا ہے بابا‘‘یہ سن کر باپ کے دل میں انجان سی ہوک پیدا ہوگئی ۔

کچھ عرصے کے بعد ارتضیٰ عباس کی پوسٹنگ کرم ایجنسی میں ہو گئی۔ اِ ن دنوں دہشتگردی کا وہاں بہت زیادہ زورتھا۔ دشمن ملک کو نقصان پہنچانے کے پے در پے وار کر رہے تھے ،ان کا قلع قمع کرنا نہا یت ضروری تھا۔ دہشتگردوں وہاں کی پہاڑیوں پر مختلف جگہوں پر اپنے مورچے بنا رکھے تھے چنانچہ وہ علاقے ان دہشتگردوں سے خالی کرانے انتہائی ضروری تھے ۔ان علاقوں کوکلئیر کر انے کا ٹارگٹ صرف چار دنوں کا دیا گیا تھا۔اس ذمہ داری کو لیفٹیننٹ سید ارتضیٰ گردیزی شہیدنے بہادری سے قبول کیااور اپنے کمانڈنگ آفیسر سے کہا’’سر آپ اطمینان رکھیں یہ مٹھی بھر چند دہشتگردمیرے ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔آپ بہت جلد ان پہاڑوں پر سبز ہلالی پرچم لہراتا ہوا دیکھیں گے‘‘

لیفٹیننٹ سید ارتضیٰ گردیزی شہیدنے اپنی ٹیم کے ہمراہ رات کے اندھیرے میں سطح سمند ر سے تقریباََ 7000 فٹ پہاڑی پر اونچی جگہ پر اپنا اسلحہ پہنچایااور مورچہ بنالیا۔صبح کے وقت پہاڑ کی چوٹی سے نیچے دیکھنے لگے تو دشمن کے مورچے اور حرکات واضع نظر آنے لگیں ۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’اپنی گنیں سیدھی کر لیں ان ظالم سفاک درندوں کو بھاگنے نہیں دینا‘‘اس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کمانڈنگ آفیسر نے کہا ’’فائرنگ شدید ہو رہی ہے اللہ خیر کرے ‘‘ارتضیٰ کی طرف سے کو ئی پیغام بھی مو صول نہیں ہو رہاتھا۔ سی او جانتے تھے کہ دشمن کے مو رچے بہت مضبوط ہیں ۔کئی گھنٹے گذر چکے لیکن کوئی خبر نہیں آرہی ۔ پھر سی او کی وائرلس پر ایک پیغام موصول ہوا۔ جو ارتضیٰ کی آواز میں تھا۔’’ سر اپنے شمال کی طرف دوربین لگا کر دیکھیے سبز ہالی پرچم لہرا رہا ہے‘‘ سی او نے پہاڑی کی چوٹی پر سبز ہلالی پرچم دیکھا تو نعر ہ بلند کیا۔ نعرہ تکبیر۔ اللہ اکبر۔اور ارتضیٰ کو مبارکباد دی اور کہا ’’میں اوپر آرہا ہوں‘‘ ۔

یہ12دسمبر کا واقعہ ہے۔ گھر فون کیا کہ ایک مشکل آپریشن پر جار ہا ہوں ۔ دعا کی درخواست کی ۔ پہاڑی پر ایک گاؤں کٹہ سرائے کودہشتگردوں نے یر غمال بنا رکھا تھا اور دہشتگرد پاک فوج کے فوجی کیمپوں پر بھی فائرنگ کرتے تھے۔ تب ان کو یہ مشن ملا کہ اس علاقے کو خالی کرایا جائے ۔یہ لوگ بچے بچیوں کو سکول نہیں جانے دیتے تھے ،لوگوں پر ظلم و ستم اور جبر کر رہے تھے اور کھلے عام دھمکی دیتے تھے کہ اگر کسی نے ہماری مخبری کی تو اسے ذبح کر دیا جائے گا، سر کاٹ دیا جائے گا۔

لیفٹیننٹ سید ارتضیٰ گردیزی شہید اور میجر علی اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچے، دشمنوں کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ اُن کو وہاں سے نکالا اور گاؤں آزاد بھی کرایا۔

فجر کی نما ز کے وقت قریبی پہاڑی سے فائرانے لگا تو میجر علی نے کہا ’’ اس پر صبح آکر دیکھیں گے ۔ابھی اندھیرا ہے دن کی روشنی میں صحیح معلوم ہو سکے گا اور جو کر نا ہو گا وہ بھی سوچ سمجھ کر کریں گے ۔ یہاں فی الحال خطرہ ہے کوئی بھی گولی لگ سکتی ہے ‘‘صبح کا انتظار کیا اور تقریباََ نو بجے کے قریب دوبارہ وہاں گئے ۔ میجر علی کی ٹانگ زخمی تھی ۔وہ تھوڑا پیچھے پیچھے تھے اور قیادت سید ارتضیٰ گردیزی کر رہے تھے ۔ان کے ساتھ ایک اورساتھی بھی تھے ۔ایک حوالدار سجاد علی اور ایک سپاہی ۔ سید ارتضیٰ گردیزی تیزی سے سب سے آگے پہاڑی پر چڑھ رہے تھے ۔ سید ارتضیٰ گردیزی جب مورچے کے پاس پہنچے تو اپنے انجینئر ساتھی سے کہا’’ مورچے کا معائنہ کرو‘‘ مورچہ خالی تھا۔اب مورچے کی طرف سے کوئی فائرنگ بھی نہیں ہو رہی تھی ۔کوئی مزاحمت بھی نہ تھی کہ اچانک باہر دوسری طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی ۔ دشمن بہت چالاک اور مکار تھا۔وہ مورچے میں بم نصب کر کے بھاگ گیا تھا۔ سید ارتضیٰ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مورچے کا معائنہ کرنے خود گئے، جیسے ہی اندر داخل ہوئے ایک ساتھی کا پاؤں نصب آئی ای ڈی پر آیااور بم پھٹ گیا۔ سید ارتضیٰ گردیزی کوئی بیس گز دور جا گرے ۔ وہ بہت زخمی ہو چکے تھے اُن کو ایمبولینس میں ہسپتال لے جا یا گیا جہاں ڈاکٹرز نے کہاکہ سید ارتضیٰ گردیزی شہید ہو چُکے ہیں ۔ ارتضیٰ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا بھائی تھا اور زیادہ وقت اپنے والد محترم کے ساتھ گذارتا تھا۔ وہ وطن عزیز پر قربان ہو گیا لیکن اپنے مشن کو مکمل کر گیا۔ اللہ شہید کے درجات بلند فرمائے۔

مزید : دفاع وطن