میانوالی،تعلیم کی بد تر حالت!

میانوالی،تعلیم کی بد تر حالت!

معاصر کی تحقیقی خبر کے مطابق میانوالی کے عیسیٰ خیل علاقے میں تعلیم کی حالت ابتر ہے اور قریباً تمام سکولوں میں جماعت نہم کے نتائج برے آئے ہیں،اس صورتِ حال نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو چونکا دیا ہے اور تحقیق بھی شروع کر دی گئی ہے۔ خبر کے مطابق حلقہ کے قریباً تمام سکولوں میں جماعت نہم کے نتائج کے مطابق پورے پورے طلباء فیل ہوئے اور بعض طلباء کو تو اپنا نام بھی لکھنا نہیں آتا اور باقی لوگ اے بی سی بھی نہیں جانتے اور یہ سب طلباء سرکاری پرائمری اور مڈل سکولوں سے بالترتیب پاس ہو کر آتے ہیں،کہ ان سکولوں میں معیار کا دھیان نہیں اور تمام کے تمام طلباء پاس کر دیئے جاتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کی تحقیق کے مطابق اس علاقے میں جو وزیراعظم عمران خان کا حلقہ ہے،سیاسی مداخلت کے باعث آئے روز اساتذہ کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں،حتیٰ کہ کسی سکول میں مستقل ہیڈ ماسٹر نہیں،مقامی ایم این اے اور ایم پی اے کے زور دینے پر تبادلے ہوتے رہتے ہیں۔پرائمری اور مڈل کے اداروں کی حالت بھی پتلی ہے۔ یہ صورتِ حال صرف میانوالی عیسیٰ خیل کی نہیں،بلکہ اسے اگر ایک نمونہ کے طور پر لیا جائے تو پورا پنجاب متاثر ہے اور یہ زیادہ افسوسناک حقیقت ہے کہ پرائمری اور مڈل سکولوں والے تمام طلباء کو ہی پاس کر دیتے ہیں۔وزیراعظم اور حکومت کا وژن اور زور تعلیم پر ہے، یہاں تو تعلیمی نظام اور نصاب کو یکساں بنانے اور معیار بڑھانے کی باتیں ہوتی ہیں،لیکن حالاتِ حاضرہ کی تصویر یہ ہے کہ ہائی سکول تک پہنچ جانے والے طلباء کو کچھ آتا جاتا نہیں۔ یہ سارا نظام ہی خراب ہے اور اسے ٹھیک اور درست کرنے کی جو بات کی جاتی ہے اس پر عمل درآمد کب ہو گا؟ اس سلسلے میں خصوصی توجہ تو جو نظام موجود ہے پہلے اسے بہتر کرنے پرتوجہ مرکوز ہونا چاہئے اس کے بعد اصلاحات بھی ممکن ہوں گی۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...