اہل کشمیر کا شیردل سفیر

اہل کشمیر کا شیردل سفیر

مقبوضہ وادی کشمیر میں نافذ کرفیو کو آج 58واں دن ہے۔ کسی نہ کسی طرح سے وادی سے باہرآنے والی خبر سے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اہل کشمیر اس نوعیت کے المیے سے دوچار ہیں جو اسلام کے ابتدائی ایام میں شعب ابی طالب کے حوالے سے مسلمانوں پر گزرا تھا۔ اللہ کریم کشمیریوں کو صبر جمیل عطا فرمائے، ان کے حوصلوں کو بلند رکھے اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ کشمیری خواتین، بچے، مرد اور بوڑھے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور آزادی کے حصول کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ اللہ پاک پاکستان کے جواں عزم وزیراعظم عمران خان کو ہمت اور استقامت بخشے کہ جس نے ان کی سفارت کاری کا ذمہ اپنے کندھوں پر رکھا ہے اور اپنی آواز کو کشمیریوں کی آواز بنا دیا ہے۔

پاکستان کے بے خوف اور بے باک وزیراعظم نے 27ستمبر کو اقوام متحدہ کے 74ویں اجلاس میں اپنی تقریر سے نہ صرف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا بلکہ اقوام متحدہ کو ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر زور دیا کہ جن کی ادائیگی اس کی منظور کردہ قراردادوں کے حوالے سے اس کا فرض بنتی ہے۔

1945ء میں لگ بھگ 180ریاستوں نے بلا جبر رفاقت کے تحت اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کرکے ایک عالمی ادارے کو قائم کیا تھا۔ اس ادارے کا اولین مقصد بین الاقوامی سطح پر امن اور تحفظ کو برقرار رکھنا تھا، بین الاقوامی معاونت کے ساتھ دنیا کے معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کو حل کرنا اور انسانی حقوق کے احترام کو مستحکم بنانا تھا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ لیگ آف نیشنز کے ملبے پر استوار ہوا تھا تاہم ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس ادارے کی بنیادیں بھی سرکنے والی ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے پچاس منٹ خطاب کیا اور نصف آخر کے 26منٹ میں کشمیر کے مقدمے کو پورے خلوص، دردمندی اور وضاحت کے ساتھ اقوام عالم کے سامنے رکھ دیا۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریر بلاشبہ تاریخی اور لائق صد تحسین ہے۔ اس فی البدیہہ تقریر میں عمران خان نے دماغ سے نہیں، دل سے بات کی ہے۔ وہ مصلحتوں سے دور رہے اور لفظوں کے گورکھ دھندے میں نہیں پڑے۔ انہوں نے لچھے دار الفاظ کے چناؤ اور پیچ در پیچ فقروں سے اجتناب کیا بس سیدھے سادے پیرائے میں ماضی الضمیر بیان کیا۔ وزیراعظم کی تقریر کے الفاظ چونکہ دل سے ادا کئے گئے تھے اس لئے سننے والوں کے قلوب میں اتر گئے۔

وزیراعظم عمران خان نے سچ کہا کہ بھارت کشمیریوں کو خونی غسل دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ غاصب بھارتی فوج سے اس قسم کے بزدلانہ اقدام کے علاوہ اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ پہلے ہی وہ ہزاروں افراد کو شہید کر چکے ہیں، لاکھوں لوگوں کو زخمی اور اپاہج بنا چکے ہیں اور گیارہ ہزار عورتوں کو بداخلاقی کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 193ممالک کے نمائندوں کے کانوں میں عمران خان نے اپنی معرکتہ الآرا تقریر کے دوران وہ تمام حقائق ڈال دیئے جو بھارت کے اصل مقصد اور اس کا اصل عزائم سے متعلق تھے۔ وزیراعظم پاکستان نے بھارت کے چہرے سے امن و آشتی کا مصنوعی نقاب اتار کر اس کا گھناؤنا فسطائی مہر دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ سب جانتے ہیں کہ یہ چہرہ ان لوگوں کا ہے جو گاندھی کے قاتل نتھورام گاڈ سے کوگاڈ سے جی پکارتے ہیں اور اس قاتل کی پستول کو بھاری قیمت کے عوض خریدنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کتنے ہی پاکستانی رہنماؤں کو خطاب کا موقع ملا لیکن جو عزت رب کریم نے عمران خان کو عطا کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

وادی جنت نظیر کشمیر جہاں قبرستانوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، نوجوان گھروں سے اٹھائے جا رہے ہیں۔ بچوں کے چہرے پیلٹ گنوں سے داغدار کئے جا رہے ہیں اور جہاں عورتوں کی عزت پامال کی جا رہی ہے، اب کرفیو اٹھائے جانے کی منتظر ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے کرفیو اٹھنے کی صورت میں خونی نسل کے اندیشے کا اظہار کیا ہے لیکن اہل کشمیر کو امید بھی دلائی ہے کہ پاکستان ہر لمحہ ان کے ساتھ ہے اور ان کی سالمیت اور عافیت کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی یکا و تنہا نہیں چھوڑے گا اور اس حقیقت کے حوالے سے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، عمران خان نے اقوام عالم پر یہ بات بھی واضح کر دی کہ ان کا ملک اپنی آزادی اور بقاء کے لئے کسی بھی راست اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔ اگرچہ ایسی صورت میں دنیا کا امن اور ماحول یقینا متاثر ہو گا۔ لاہور واپس پہنچ کر وزیراعظم نے اپنی بات کا اعادہ کیا کہ دنیا ساتھ دے نہ دے پاکستان کشمیر کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ بہرحال پاکستان ایک امن پسند اور صلح جو ملک ہے جو آخری ساعت تک بہتری کی امید رکھتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...