سب سے اچھا نمونہ 

سب سے اچھا نمونہ 

  

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہئ حسنہ ہمارے لئے سب سے اچھا نمونہ ہے۔حدیث و سیرت اور تاریخ کی کتابوں کے ساتھ ساتھ قرآنِ حکیم سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اسوہئ حسنہ کی زیادہ پیروی ہی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو باتیں پسند تھیں، وہ ہمیں بھی پسند ہونی چاہئیں۔جو چیزیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نا پسند تھیں،وہ ہمیں بھی ناپسند ہونی چاہئیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو اخوت اور بھائی چارے کی سختی کے ساتھ تاکید فرماتے تھے۔

    اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہر مسلمان کو اپنا بھائی سمجھیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم یتیموں کے والی،محتاجوں کے داتا،بیواؤں کے سر پرست،مسلمانوں کے رہبر،حتیٰ کہ کافروں اور مشرکوں کے لئے بھی رحمت تھے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا معیار دراصل ان کے اوصاف کو اپنانا ہے۔مسلمانوں کے ہادی برحق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو سکتے ہیں،دوسرا کوئی نہیں۔

    پاکستان اسلام کا قلعہ ہے،مسلمانوں کا گہوارہ ہے۔اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کی حفاظت اور اس کی فلاح و بہبود کے لئے انتھک کوشش کرے،تاکہ مسلمانوں کا یہ محبوب وطن جو اسلام ہی کے نام پر حاصل ہوا ہے،غیروں کی شرارتوں کا شکار نہ ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے اور ہم مسلمانوں کو سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد اور نا قابل تسخیر بنائے۔

    ہم جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اْمتی ہیں،وہ اخلاق کے سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔یہ بات میں نہیں لکھ رہا، کسی انسان کی بات نقل نہیں کر رہا،بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

    قرآن حکیم کی سورۂ القلم کی چوتھی آیت کا ترجمہ یہ ہے:”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔“

    خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”میں تو بھیجا ہی اس لئے گیا ہوں کہ اخلاق کی فضیلتوں کو کمال کے درجے تک پہنچا دوں۔“

    اور حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی بڑائیوں سے انسانی تاریخ روشن ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اخلاق کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ایسا نمونہ نہ پہلے دنیا نے دیکھا نہ آئندہ دیکھے گی۔مسلمان ہی نہیں،غیر مسلم بھی یعنی وہ لوگ بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہیں مانتے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی بلندیوں کو ماننے پر مجبور ہیں۔

    برطانوی مفکر جارج برنارڈشا نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت موجود ہوتے تو دنیا میں امن ہوتا۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اپنوں کے ساتھ ہی نہیں،رشتے داروں کے ساتھ ہی نہیں، دوستوں کے ساتھ ہی نہیں،دشمنوں کے ساتھ بھی اخلاق برتے اور وہ عمدہ سلوک کیا جس کی مثال نہیں مل سکتی۔

    ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اْمتی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی ہمارے لئے ہر لحاظ سے بہترین نمونہ ہے۔اگر ہم اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کریں تو دین اور دنیا دونوں کی بھلائی کے دروازے ہمارے لئے کھل جائیں گے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے،اس کے محبوب تھے،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان بھی تھے۔خود اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا ہے کہ:”میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔“ (سورۂ کہف،آیت 110)

    اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سے اعمال ہر انسان کے لئے قابل عمل ہیں اور ہر انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔یہ نہ سمجھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رسول تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی بات مجھ میں کہاں!حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کو زندگی کا آسان اور سچا طریقہ سکھایا اور جو کچھ فرمایا اس پر عمل کرکے بھی بتایا،اس لئے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس طریقے کو اپنائیں۔

    اسلام آسان دین ہے۔اسلام ایسا طریقہئ زندگی ہے جس پر عمل کرنے سے انسان کو تکلیف نہیں ہو سکتی۔جس پر عمل کرنے سے انسان کو سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کو ہر مسلمان کے لئے فرض قرار دیا ہے۔سب سے بڑی دولت علم ہے۔روپیہ پیسہ آنے جانے والی چیز ہے،لیکن علم ہمیشہ رہنے والی،ہمیشہ طاقت دینے والی،ہمیشہ مدد کرنے والی چیز ہے۔ہم جتنا علم حاصل کریں گے،اتنے ہی خوش رہیں گے، لہٰذا ہمیں دولت حاصل کرنے یا بڑھانے کے بارے میں نہیں،اپنا علم بڑھانے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -