اما نت 

اما نت 

  

     آج سے تقریباً دو سال قبل میں ایک شادی میں شرکت کے بعد اپنے بیٹے کے ساتھ ٹرین میں کراچی سے لاہور آرہا تھا۔گاڑی روہڑی اسٹیشن سے گزری تو ہم ددنوں نے کھانا کھایا اور اپنی اپنی برتھ پر لیٹ گئے۔

    اچانک گاڑی میں موجود لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ ٹرین میں آگ لگ گئی ہے۔

    آگ انجن کے نزدیک دو بوگیوں میں لگی تھی،مگر گاڑی ہوا کی رفتار سے جا رہی تھی،لہٰذا آگ کے شعلے بڑی تیزی سے دوسری بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔لوگوں نے زنجیر کھینچ کر گاڑی روکنے کی کوشش کی اور آخر گاڑی ایک زبردست جھٹکے کے ساتھ رک گئی۔

    جان بچانے کے لئے لوگوں نے ٹرین سے چھلانگیں لگا دیں۔بہت سے لوگ انسان دوستی کے جذبے سے کمزور اور پھنسے ہوئے مسافروں کی مدد کر رہے تھے۔میں بھی اس نیکی کے کام میں اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر لوگوں کی مدد کرنے لگا۔ہماری بوگی انجن سے ذرا دور تھی،اس لئے تپش کم تھی۔قریبی گاؤں کے لوگ بھی مسافروں کی مدد کے لئے آگئے تھے۔ہر طرف چیخ پکار کی آوازیں گونج رہی تھیں۔اچانک میری نظر ایک بوڑھی عورت کی طرف پڑی جو ایک بھاری صندوق کے نیچے دبی ہوئی تھی اور بْری طرح زخمی تھی۔اس کے سر اور منہ سے خون نکل رہا تھا۔میں اس بوڑھی عورت کے قریب پہنچا اور اس کے اوپر سے بکس ہٹایا تو اس نے اشارے سے اور بڑی دھیمی آواز میں کہا:”بیٹا! یہ ایک کالے رنگ کا بیگ ہے جو میری بیٹی کی امانت ہے۔تم اس بیگ کو میری بیٹی تک پہنچا دینا۔“

    میں نے بیٹی کا نام اور پتا معلوم کرنے کی کوشش کی تو اس کے منہ سے صرف اتنا نکلا کہ وہ ملتان میں رہتی ہے اور اس کا نام رضیہ ہے اور وہ سکول سکول۔۔۔۔“ یہ کہتے کہتے بڑھیا کی جان نکل گئی۔میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ اس کالے بیگ کو اپنے سامان کے ساتھ محفوظ کرلے،کیونکہ اگر پولیس آگئی تو ہمیں کوئی چیز اْٹھانے نہیں دے گی۔لہٰذا ہم نے وہ بیگ اپنے سامان کے ساتھ محفوظ کر لیا۔

    گھر پہنچنے کے بعد بوڑھی عورت کی امانت کو اس کی لڑکی تک پہنچانا چاہا،مگر پتا نا مکمل تھا۔پھر بھی میں نے ہمت نہ ہاری اور اپنے بیٹے کے ساتھ ملتان آیا اور مختلف اسکولوں میں رضیہ نام کی استانی یا اس نام کے کسی دوسرے اسٹاف کے بارے میں معلوم کیا،تاکہ یہ بیگ ہم اسے دے دیں۔

    ہماری تمام تر کوشش کے باوجود وہ لڑکی نہ مل سکی اور ہم واپس لاہور آگئے۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک بار پھر ہمارا ملتان جانا ہوا۔اس بار ایک عزم کے ساتھ رضیہ کی تلاش شروع کر دی۔اب ہم جس جگہ بھی جاتے لوگوں سے رضیہ نامی لڑکی کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، تو ایک شخص نے بتایا کہ وہ نام تو نہیں جانتا،البتہ ہمارے محلے میں ایک عورت رہتی ہے جس کی والدہ کا انتقال ٹرین کے حادثے میں ہوا تھا۔

    ہم اس شخص کے ہمراہ وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ اس کا نام رضیہ ہے اور وہ سکول کے قریب ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ہے۔مزید معلوم کرنے پر رضیہ نے بتایا کہ ماں کے پاس میرا کچھ روپیہ اور زیور تھا۔وہ زیورات میری والدہ مجھے واپس کرنے کے لئے ٹرین سے آرہی تھیں کہ یہ حادثہ پیش آگیا۔

    میں ابھی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ میرے بیٹے نے رضیہ سے کہا کہ وہ اپنی والدہ کی کوئی فوٹو ہمیں دکھائے،تاکہ ہمیں تسلی ہو۔مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ میرے بیٹے نے اپنے موبائل سے حادثے کے وقت اس بوڑھی عورت کا فوٹو لے لیا تھا۔

    فوٹو دیکھ کر ہمیں تسلی ہو گئی کہ وہ بوڑھی عورت واقعی رضیہ کی ماں ہی تھی۔ہم نے کالے بیگ کو کھول کر نہیں دیکھا تھا،مگر جب رضیہ کی موجودگی میں ہم نے بیگ کھولا تو واقعی اس میں سونے کے زیورات کے علاوہ معقول نقدی بھی تھی۔ہم نے وہ بیگ رضیہ کے حوالے کیا تو رضیہ کی آنکھوں میں خوشی اور غم سے آنسو تھے۔غم اپنی ماں کے بچھڑنے کا تھا اور خوشی اس بات کی تھی کہ اس کی عمر بھر کی کمائی محفوظ تھی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -