ایک وفادار نیولا 

ایک وفادار نیولا 

  

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کسان کھیتوں میں کام کررہا تھا،اسے پاس سے ایک نیولے کا بچہ ملا جو بالکل چھوٹا سا تھا۔اس کی ماں مردہ حالت میں اس کے پاس ہی پڑی تھی۔کسان کو نیولے کے بچے پر بہت ترس آیا اور وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا، اپنی بیوی کو بلایا اور سارا قصہ سنایا۔

کسان کی بیوی کہنے لگی:ہم اسے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ہماراایک بچہ ہے جو بہت چھوٹا ہے اوریہ جنگلی جانور ہے۔ کل کو یہ بڑا ہو گا اور ہمارے بچے کو نقصان پہنچائے گا۔کسان نے کہا ابھی یہ چھوٹا سا بچہ ہے جیسے جیسے یہ بڑا ہو گا اسے ہماری اور ہمارے بچے کی پہچان ہو جائے گی اور وہ اسے اپنا بھائی سمجھے گا اور اپنے بھائی کا کوئی نقصان نہیں کرتا۔ تم اسے اپنے بچے کی طرح پالنا،یہ ہمیں کوئی نقصان نہیں دے گا۔بس تم یہ سمجھو آج سے تمہارے دو بیٹے ہیں۔

    کسان کی بیوی راضی ہو گئی اور نیولے کے بچے کو بھی اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگی۔وقت گزرتا گیا،نیولا بڑا ہو گیا، اس کے دانت بھی بڑے ہو گئے۔ایک دن کسان کی بیوی نے کسان سے کہا”میں پانی بھرنے جارہی ہوں منا گھر پر اکیلا ہے، اس کا خیال رکھنا”کسان ہنس پڑا اور بولا اس کا بھائی اس کے ساتھ ہے، اسے کچھ نہیں ہو گا، تم فکر مت کرومگرکسان کی بیوی نے وہی رٹ لگائے رکھی۔

    کسان نے کہا تم جاؤ۔ اس کی بیوی باہر چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعدکسان بھی باہر چلا گیا۔ کسان کا بیٹا اور نیولا آپس میں کھیلنے لگ گئے۔ کچھ دیر بعد ایک سانپ گھرمیں گھس گیا اور بچے کی طرف بڑھنے لگا۔ نیولے نے جب دیکھا تو اس نے فوراً سانپ پر حملہ کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا اور خود گھر کے باہر جا کر پہرہ دینے لگا۔ اتنی دیرمیں کسان کی بیوی واپس گھر آئی تو اس نے نیولے کے منہ پر خون لگا دیکھا، تو وہ چلانے لگی ہائے میرے بیٹے کونیولے نے کاٹ کھایا۔اس نے بغیر سوچے سمجھے پانی کا مٹکا نیولے کے سر پر دے مارا۔نیولا موقعے پر ہی ہلاک ہو گیا۔جب وہ گھر کے اندر داخل ہوئی تو اس کا بیٹا کھیل رہا تھا اور پاس ہی ایک سانپ مردہ حالت میں پڑا ملا۔ تب اسے ساری بات سمجھ آگئی۔اتنی دیرمیں کسان بھی گھر آگیا۔جب اس نے سارا قصہ سنا تو اس نے اپنی بیوی کو بہت بْرا بھلا کہا اور پچھتا نے لگا۔کسان نے بیوی سے کہا تم نے جلد بازی میں ایک وفادار بیٹا (نیولا)کھودیا۔

    کسان کی بیوی بھی رونے لگ گئی اور اس کسان سے معافی مانگنے لگی۔مگر نتیجہ یہ ہے کہ جلد بازی ہمیشہ نقصان کا باعث بنتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -