آیئے مسکرائیں 

آیئے مسکرائیں 

  

٭ایک انجینئر کو نوکری نہ ملی تو اس نے کلینک کھولا اور باہر لکھا 300 میں علاج کریں علاج نہ ہوا تو 1000 واپس۔

ایک آدمی نے سوچا کہ 1000 کمانے کا اچھا موقع ہے، وہ کلینک آیا اور کہا مجھے کسی بھی چیز کا ذائقہ نہیں آتا۔

ڈاکٹر: بکس 22 سے دوا نکالو اور اسکو 3 قطرے پلاؤ، نرس نے پلا دیئے۔

مریض: یہ کیا، یہ تو پٹرول ہے۔

ڈاکٹر: مبارک ہو، آپ کو ذائقہ محسوس ہوگیا لاؤ 300 روپے۔

مریض کو غصہ آیا کچھ دن بعد وہ پھر گیا کہ اب ڈاکٹر سے پْرانے پیسے بھی واپس لینے ہے۔

مریض: ڈاکٹر صاحب میری یاداشت کام نہیں کرتی۔

ڈاکٹر: بکس 22 سے دوا نکالو اور اسکو 3 قطرے پلاؤ۔

مریض: لیکن وہ دوا تو زبان کے ذائقے کے لئے ہے۔

ڈاکٹر: مبارک ہو، آپ کی یاداشت بھی واپس آگئی لاؤ 300 روپے

٭ڈاکٹر نے پوچھا“ سردار جی کیا آپ کا اور آپ کی بیوی کے خون کا گروپ ایک ہی ہے؟“

سردار جی“ ایک ہی ہو گا۔ پچھلے 25 سال سے میرا خون پی رہی ہے۔“

٭اردو کے ایک استاد گرائمر پڑھارہے تھے۔ زمانہ حال پڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا:

”شاکر! اگر میں کہوں کہ میں نہاتا ہوں، تم نہاتے ہو، وہ نہاتا ہے۔ یہ کون سا زمانہ ہوا؟“

شاکر کافی دیر تک سوچتا رہا۔ پھر خوش ہوکر بولا۔”میں سمجھ گیا سر! یہ عید کا زمانہ ہے“۔

٭ایک صاحب کی شادی جس لڑکی سے ہوئی اس کی ہم شکل جڑواں بہن بھی تھی۔ مشابہت اتنی تھی کہ والدین بھی ان میں تمیز نہیں کر پاتے تھے۔ معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ان صاحب کو شادی کے بعد سسرال میں ہی رہنا پڑا۔ ایک دوست پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔

دوست: تمہیں اپنی بیوی کو پہچاننے میں توبڑی دشواری ہوتی ہوگی۔

دوسرا دوست: کوئی خاص نہیں۔ میں جسے اپنی بیوی سمجھ کر بے تکلف ہونے کی کوشش کرتا ہوں، اگر وہ مزاحمت کرنا شروع کردے تومیں سمجھ جاتا ہوں کہ وہ میری بیوی نہیں سالی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -