اقوال زریں 

اقوال زریں 

  

٭عالم کا امتحان اس کے علم کی کثرت سے نہیں ہوتا بلکہ دیکھنا چاہیے وہ فتنہ انگیز باتوں سے کیسے بچتا ہے۔

٭زیادہ گفتگو سوچ و فکر کو مردہ کردیتی ہے۔۔

٭خلوص اور عزت بہت نایاب تحفے ہیں اس لیے ہر کسی سے ان کی امیدنہ رکھوکیونکہ بہت کم لوگ دل کے امیر ہوتے ہیں۔

٭تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ کا خوف دل میں رکھا کرو، اور گناہ (سرزد ہوجانے) کے بعد نیکی کر لیا کرو، وہ اس گناہ کو مٹا ڈالے گی، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آیا کرو۔

٭جب تعلیم کا مقصد صرف نوکری کا حصول ہوگا تو سماج میں نوکر ہی پیدا ہوں گے راہنما نہیں۔

٭دو چیزیں اپنے اندر پیدا کرلو۔۔

1۔چپ رہنا

2۔ معاف کرنا

کیونکہ چپ رہنے سے بڑا کوئی جواب نہیں اور معاف کردینے سے بڑا کوئی انتقام نہیں۔

بے وقوف جب تک خاموش رہتا ہے عقل مند شمار ہوتاہے۔۔

٭مصیبت سب سے بہترین کسوٹی ہے جہاں پر دوست پرکھے جاتے ہیں۔

٭جب آپ یہ سوچیں کہ ہار کی صورت میں کیا کریں گے؟ تو آپ شکست کھا گئے ہیں۔

٭اس رب کی ناراضگی سے ڈرتے رہو جس کی صفت یہ ہے کہ اگر تم بولتے ہو تو وہ سنتا ہے اور اگر دل میں رکھو تو وہ جانتاہے۔

٭اگر آپ کسی کام کا پختہ ارادہ کرلیں تو پھر اللہ کی مدد بھی شامل حال ہو جاتی ہے اور کام جلد تکمیل تک پہنچ جاتاہے۔

٭صبح کی نیند انسان کے ارادوں کو کمزور کرتی ہے، منزلوں کو حاصل کرنے والے کبھی دیر تک سویا نہیں کرتے۔

٭پرانا تجربہ نئی تعمیر کی بنیاد ہوتاہے۔۔

٭کام شروع کرو اللہ کے نام کے ساتھ اور کرتے رہواللہ کی مدد کے ساتھ اور ختم کرواللہ کے شکریے کے ساتھ۔۔کیونکہ اللہ کی مدد کے بغیر کو ئی بھی کام تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔

٭زندگی کی ترقی و تنزلی کا انحصار بیوی کی محبت پر ہے۔

٭محبت دور کے لوگوں کو قریب، اور عداوت قریب کے لوگوں کو دور کردیتی ہے۔

٭کسی فکر کو قبول کیے بغیر اس پر غور کرنا آپکے تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی ہے۔

٭جو شخص بہانہ بنانے میں بہت اچھا ہو وہ کسی اور کام میں اچھا نہیں ہو سکتا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -