جہیز، معاشرہ اور ہماری ذمہ داریاں 

 جہیز، معاشرہ اور ہماری ذمہ داریاں 
 جہیز، معاشرہ اور ہماری ذمہ داریاں 

  

معاشرے کو جہیز کی لعنت سے پاک کرنے کے لئے جہیز کی بات کرنا ضروری ہے،حالانکہ جہیز کی بات تو لڑکے والے کرتے ہیں اور لڑکی والے جہیز کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنا خون خشک کرتے ہیں خون خشک کرنے سے بھی کبھی چراغ جلے ہیں،کیونکہ چراغ جلانے کے لئے خون دینا پڑتا ہے اور وہ بھی خون دِل۔ سوچنے کے عمل میں دماغ کا عمل دخل ہے اور زیست کے مجموعی طور پر معاملات میں دِل و دماغ دونوں کا عمل دخل ہے۔ دِل کہتا ہے بیٹی کو پورے لاڈ پیار سے گھر سے رخصت کیا جائے تاکہ اس کا کل خوش خوش گزرے جب وہ ہر چیز اپنے بابل کے گھر سے لے کر جائے گی تو وہ اپنے میاں، ساس، نند،دیور یا دیگر سسرالی کرداروں کے طعنوں سے محفوظ رہے گی نہیں تو شور شرابا ہو گا اور وہ بے چاری اکیلی اتنے ساروں کو بھگتے گی۔ کبھی ٹھنڈی آہیں بھرے گی کبھی تنہائی میں بیٹھ کر آنسو بہائے گی۔ کبھی کسی ”بابے“ کی تلاش میں چوری چھپے گھر سے نکلے گی تاکہ ٹونے ٹوٹکے سے سب کو رام کیا جا سکے کبھی اپنی اداؤں سے اپنے مجازی خدا کو جیتنے کی کوشش کرے گی اور اس گیم کو جیتنے کے لئے اسے سب کچھ ہارنا پڑے گا۔ ایسے ہی تو نہیں کہتے ہار کا دوسرا نام جیت ہے، بظاہر یہ کھیل بہت آسان ہے، لیکن عملی طور پر بہت ہی مشکل، کیونکہ اس میں ”میں“ کو مار کر ہی جیتا جا سکتا ہے، یعنی مرنے سے پہلے مر کر ہی حوا کی بیٹی زندہ رہ سکتی ہے۔ اس کے اس سارے سفر میں  یہ بھی شرط ہے کہ وہ دوران سفر اندر سے نہ مر جائے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو لوگ اندر سے مر جاتے ہیں  وہ ویسے ہی مر جاتے ہیں  ان کو ساس اور نند کی ضرورت نہیں ہوتی۔

میں سالہا سال تک اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھتا رہا کہ بیٹی  کے پیدا ہونے پر اکثر ماں باپ  روتے ہیں  اور اگر روئیں نہ بھی تو مغموم ضرور ہوتے ہیں۔ پھر میں نے یہ بھی دیکھا کہ بیٹوں کے پیدا ہونے پر تو لڈو بانٹے جاتے ہیں۔ میٹھے چاولوں کی دیگیں  پکا کر نوجوان کے آنے کا با قاعدہ اعلان کیا جاتا ہے،بلکہ بسا اوقات تو خسرے(خواجہ سرا) بلا کر ویلوں کی صورت میں ٹھیک ٹھاک خرچہ کیا جاتا ہے بے شک پیدا ہونے والا بعد میں الو کا پٹھہ بن کر باپ کی داڑھی پکڑ لے اور باپ دادے کی پگ کو لیک لگا دے۔ خیر آج تو موج کریں کل کس نے دیکھا ہے۔ بات جب کل کی ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ والدین تو بیٹی کی پیدائش پر فقط اِس لئے روتے ہیں کہ نہ جانے اس کی آنے والی کل کیسی ہو گی اور بیٹے کی پیدائش پر اس لئے لڈو بانٹے جاتے ہیں کہ کل بیٹی کے سسرال والے بیٹی کو بات کرنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچیں کہ اس کے پیچھے اس کا شینیہہ (شیر کی طرح) جوان بھائی بیٹھا  ہے اور وہ اس کی طرف اٹھنے والے ہاتھ ویسے ہی توڑ دے گا،لہٰذااس کی طرف اٹھنے والے ہاتھ اٹھنے سے پہلے ہی رُک جائیں گے اور ہر بری سوچ اچھی سوچ میں بدل جائے گی۔ سوچ بدلنے سے ہی تو حالات بہتر ہوتے ہیں۔

 افسوس ہماری جہیز کے بارے میں سوچ نہیں بدل سکی۔ میں  زندگی بھر سنتا آیا ہوں کہ جب لوگ پڑھ لکھ جائیں  گے تو سوچ کا معیار بدل جائے گا۔ سوچ کا معیار تو شاید نہیں  بدلا، البتہ جہیز کا معیار بہت ہی بلند ہو گیا ہے اور یہی  وجہ ہے کہ بے شمار قوم کی بیٹیاں پیا  کے گھر نہیں جا سکتیں اور قوم کی سوچ پر ماتم کر کر کے اپنے بابل کے سفر آخرت کو عبرت ناک بنا دیتی  ہیں۔ کاش یہ اپنے مجبور اور لاچار ہاتھوں سے ماتم کرنے کی بجائے معاشرے کے منہ پر طمانچے ماریں تو  سوچ ٹھکانے آ جائے گی کہ ہر جہیز مانگنے والے کی بہن سے بھی جہیز مانگا جانا ہے اور جہیز پورا کرنے کے لئے ایسے ایسے پاپڑ بیلنا  پڑتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔

ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیٹیوں سے کتنا پیار تھا اور عصر حاضر میں جہیز کے مسئلہ کو مدنظر رکھ کر سوچا جائے تو پتہ چلے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ  وسلم کو بیٹیوں کے جہیز بنانے کی کتنی تکلیف ہوئی ہو گی۔ کاش آج کے محب رسول اور اللہ کے نام لیوا کو کوئی بتائے کہ اللہ کے رسول کو اپنی بیٹیوں کے جہیز کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا، چونکہ اللہ اور رسول کی تعلیما ت کے مطابق یہ ساری ذمہ داری آدم زاد کی ہوتی ہے اور حوا جائی کی محض نقل مکانی ہوتی ہے۔ سادگی اسلام کی بنیادی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔شادی کو خوشی کے طور پر منانا اسلام میں جائز ہے، لیکن  ولیمہ لڑکے والوں کے ذمے ہوتا ہے۔کاش ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہؓ سے محبت کے نام پر لڑائیاں کرنے کی بجائے ان کی زندگی کا مطالعہ کر لیں تو کوئی باپ اپنی بیٹی کے جہیز کی فکر نہیں کرے گا کوئی خاوند جہیز کا مطالبہ نہیں کرے گا۔حضور ؐنے اپنی پیاری بیٹی کو جہیز میں جو دیا اس حوالے سے کتب تاریخ بھری پڑی ہیں،لہٰذا وضاحت کی ضرورت نہیں۔ میری معروضات اور گزارشات اہل ِ وطن سے یہی ہیں کہ خدارا جہیز کی لعنت کو پنپنے کا موقع نہ دیا جائے اس نے گھروں کے گھر اجاڑ کر رکھ دیئے ہیں کوئی تو ہو جو ٹھہرے ہوئے پانیوں کا سکوت توڑنے میں پہل کرے۔بقول راقم الحروف! 

حوا جائیاں آدم زاد دے

پاڑے کجن لئی ہندیاں نیں 

مزید :

رائے -کالم -