بہت غریب ہیں مہنگائی بانٹنے والے

بہت غریب ہیں مہنگائی بانٹنے والے
بہت غریب ہیں مہنگائی بانٹنے والے

  

پاکستانی عوام کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بھوک، غربت وافلاس اور مہنگائی ہے جس سے یہ بے چارے عوام ہر دن نبرد آزما رہتے ہیں۔ اس کمر توڑ مہنگائی نے تو غریب کے سر سے چادر، کھانے کے لئے دو وقت کی روٹی،سر چھپانے کے لئے چھت اور تن کے کپڑے تک چھین لئیے ہیں۔ غریب تو غربت کی لکیر سے بھی بہت نیچے جا چکا ہے اور سفید پوش لوگ اس مہنگائی کے ہاتھوں خود کشیوں پر مجبور ہو چکے ہیں۔ گھروں میں بچوں کو روٹی ناپ تول کر تقسیم کی جا رہی ہے اور خاندان کے بڑے ایک وقت کی کھا کر گزارہ کرکے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں تو در کنار ایک وقت کا کھانا کھانا مشکل ہو چکا ہے۔ زیادہ تر ریڑھی بان، نان فروش، گوالے، حلوائی اور قصاب ملاوٹ کر نے پر مجبور ہیں۔ 

.

حال ہی میں ورلڈ بینک کی ’ساؤتھ ایشیا اکانومک فوکس اکسپورٹس وانٹڈ‘ نامی رپورٹ نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالیاتی سال کے آخر تک پاکستان میں مہنگائی کی شرع 7.1 فیصد بڑھے گی۔ اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بد قسمتی سے اگلے سال تک مہنگائی کا گراف 13.5 فیصد کی حد تک جانے کاامکان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مہنگائی کا یہ طوفان قریب الوقت تھمنے والا نہیں۔ 

یوٹیلیٹی اسٹورز پر کوکنگ آئل، گھی اور دودھ کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھا دی گئیں جبکہ وزیراعظم نے یو ٹیلیٹی سٹورز کو عوام کی مدد کے لئے سبڈی دینے کا حکم بھی دیا تھا بالکل اْسی طرح جیسے کراچی کا کچرا صاف کرنے کاوعدہ ہوا اور سب دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اب یو ٹیلٹی سٹورز بھی وہیں ہیں اور کراچی بھی۔ 

 آئل وگھی 4روپے، برانڈ دودھ کے ایک لیٹر کا پیک 5 روپے تک مہنگا، بچوں کی سیلریلز کی قیمت میں 20سے 38روپے تک اضافہ فرما کر حکومت کا ایک بار پھر عوام دوستی اور گڈ گورننس کا پول کھل گیا۔ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق دودھ، ٹی وائٹنر اور کافی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جبکہ برانڈ شیمپو کی قیمت میں 9 روپے سے 20 روپے تک اضافہ کیاگیا جس سے 90 ملی گرام شیمپو کی بوتل 89 سے بڑھ کر98 روپے کی ہوگئی۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر کپڑے دھونے کے ڈٹرجنٹ کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ94دواؤں کی قیمتوں میں 262 فیصد تک اضافہ کیا گیا۔ بخار، سردرد، امراض قلب، ملیریا، شوگر، گلے میں خراش، فلو، پیٹ درد، آنکھ، کان، دانت منہ اور بلڈ انفیکشن کی دوائیوں میں ہوش روبا اضافہ کیا گیا۔ 

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مارکیٹ میں دواؤں کی دستیابی کم ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت کو مجبوراً اضافہ کرنا پڑا۔جو میری نظر میں عوام کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے۔ اگر ادویات میں اضافہ مجبوری ہے تو کیا باقی اشیاء میں اضافے کی دعوت آپکو عوام نے دی تھی؟اس صورت حال سے تو یوں محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت کو مجبور کرنا بہت آسان ہے جو چاہے جب چاہے حکومت کو بلیک میل کر کے اپنی بات منوا لے۔ اس عمل سے نا صرف حکومتی مشینری کی کمزوری واضح محسوس ہو رہی ہے بلکہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی بھی جھلک دیکھائی دے رہی ہے۔ 

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرفیصل سلطان نے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کے بارے میں کہا کہ حکومت قیمتیں بڑھانے کے معاملے پر فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے دباؤ میں نہیں آئی جو کہ ایک دیوانے کا خواب اور حقائق سے مْبرا بات محسوس ہو رہی ہے۔ جب بازار میں زندگی بچانے والی ادویات مریضوں کے لئے آسانی سے موجود نہ ہوں اور غائب کر دی جائیں تو اس کا کیا مطلب ہے۔کیا یہ فارما سیو ٹیکل کمپنیوں کی طرف سے کھلی دھمکی نہیں ہے۔ حکومت کا دوسرا دعویٰ بھی سراسر عقل سے عاری ہے کہ جو دوائیں مہنگی ہوئیں وہ لائف سیونگ ہیں اور ان دواؤں کی قیمتوں پرمناسب تبدیلی نہ آنے سے یہ مارکیٹ سے غائب ہو جاتی تھیں۔ 

میں پوچھتا ہوں کہ جناب کیا ادویات کا غائب ہونا بھی آپکی نظر میں دوا ساز کمپنیوں کی طرف سے بلیک میلنگ نہیں ہے اور اگر ادویات غائب ہو جاتی ہیں اور حکومت بیچارگی کا شکار ہے تو پھر حکومت کی رٹ کہاں ہے۔ کل کوئی بھی کمپنی من مانی قیمت رکھے گی یا پھر اشیاء کو ذخیرہ کر کے مارکیٹ سے غائب کر دے گی اور تب تک ان کو گوداموں میں  رکھے گی جب تک اْن کے مطالبے پورے نہیں ہوتے تو کیا پھر بھی حکومت اس مافیا کو کنٹرول کرنے کی بجائے اپنی نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈال کر قیمتوں میں اضافہ کر دے گی؟

 حکومت کا کام ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی بھی ہے۔ ملک میں دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کا آپ کو حق ہے مگر پہلے عوام کی آمدنی میں اضافہ تو کریں۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ ان زندگی بچانے والی ادویات کی سب سے زیادہ ضرورت عوام کے کس طبقے کو ہے؟ تو جناب وہ اس ملک کے بزرگ غریب، معذور اور پنشن یافتہ بزرگ ہیں، جن کی پنشن میں آپ نے اس سال ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں کیا تو ان پر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا حق بھی آپکو ہر گز نہیں ہے۔

 دوسری جانب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صارفین پر 164ارب 87کروڑ روپے کا مزید بوجھ ڈالنے کی بھی منظوری دے دی ہے جو عوام سے علاج تک کی سہولت چھیننے کے مترادف ہے۔ میں تو اب عوام سے یہ ہی کہو ں گا کہ یہ حکومت تو خود بہت غریب ہے ان سے غریب پروری کی توقع کیا کرنی۔ افسوس تو یہ ہے کہ جن کو عوام کے دکھ سننا چاہئے وہ عوام کو دن رات اپنے دکھ سْناتے رہتے ہیں۔ان کی تصویر کشی تو حنیف راہی نے کیا خوب کی ہے کہ 

یہ منہ سے سوکھے نوالے بھی چھین لیتے ہیں 

بہت  غریب  ہیں   مہنگائی   بانٹنے    والے

مزید :

رائے -کالم -