بروقت فیصلہ ہی نتائج دیتا ہے!

بروقت فیصلہ ہی نتائج دیتا ہے!
بروقت فیصلہ ہی نتائج دیتا ہے!

  

ہم تو خواہش کرتے اور اپیل ہی کر سکتے ہیں کہ ملکی حالات کی روشنی میں اندرونی اور سیاسی استحکام ہو،کیونکہ آج ہم خود بھی مہنگائی اور بدامنی کے ہاتھوں پریشان ہیں کہ ہم گھر کے چار فرد اور ایک بچے سمیت گذارہ نہیں کر پا رہے کہ گھر کے  تین افراد برسر روزگار ہیں اور ہمارا صاحبزادہ اپنی ملازمت کے بعد بھی محنت پر مجبور ہے، اس کے باوجود ہم ہر روز دن چڑھے اللہ سے دُعا کرتے ہیں کہ یہ دن بخیریت گذر جائے،لیکن سبزی والی دکان پر جاتے ہی پسینہ آ جاتا ہے کہ قیمتیں آسمان سے باتیں کر ر ہی ہیں۔ آج صبح بچوں نے کفائت کے نکتہ نظر سے تجویز کیا کہ مکس ویجی ٹیبل(ملی،جلی، سبزیاں) ہی پکا لیتے ہیں، یقین مانئے ہم سوا چار افراد کے کنبے کے لئے ان سبزیوں کے 425 روپے ادا کرنا پڑے، مصالحہ جات اور آئل گھر میں لایا ہوا استعمال ہو گا، یہ سالن آج رات اور کل صبح ناشتے تک چلے گا کہ ہم زیادہ نخرہ نہیں کرتے،ناشتے میں بھی سالن کے ساتھ روٹی یا ایک چپاتی ہی کھا لیتے ہیں۔یوں اصل پریشانی مہنگائی ہو گئی کہ یکم (آج) سے بلوں کی یلغار بھی شروع ہونے والی ہے،جو گیس کے بل سے لے کر بجلی، پھر نلکے اور ٹیلیفون کے بل تک پہنچے گی،گرمی کے لمحات بڑھ گئے، رات یوں بھی ٹھنڈی نہیں ہوتی،چھتوں پر سونے کی روایت بالکل دم توڑ چکی ہے، لہٰذا رات کو ایئر کنڈیشنر سے مستفید ہونا لازم  ٹھہرا اور اس کا جرمانہ ہر ماہ بھگتنا ہوتا ہے، گزشتہ ماہ کا بل قریباً 19ہزار روپے ادا کیا کہ بجلی والوں نے بھی گیس والوں کی طرف سے سلیس کا چکر چلا رکھا ہے، اور ہمیں 24روپے فی یونٹ تک بھی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ یوں ہماری حالت پتلی ہے تو جو لوگ آٹھ، دس یا  پندرہ ہزار روپے ماہوار کماتے ہیں وہ کیسے گذارہ کریں گے۔ یہ حضرات بہرحال ایئر کنڈیشن کی ”عیاشی“ کے تو متحمل نہیں،لیکن پنکھا ان کی بھی ضرورت ہے اور یہ بھی ہر ماہ کی پہلی تاریخوں میں بجلی کا بل پکڑے میٹر ریڈنگ سے تقابل کر رہے اور واویلا کرتے پائے جاتے ہیں کہ محترم میٹر ریڈر صاحب نے بھی مہربانی فرما دی ہے۔

یہ حالات عام ہیں اور عوام کو شکوہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کو شاید یہ فکر نہیں وہ اپنے اپنے خواب اور مفاد کو  سیدھا کرنے کے لئے برسر پیکار ہیں،ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کار بھی نہیں، حالانکہ یہ جمہوریت کا چلن ہے، کہ ایوانوں کی سطح پر حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں ایوان کی کارروائی کے حوالے سے تعلقات کار ہوتے ہیں اور عوامی مفاد کے لئے فیصلے لازم ہوتے ہیں، لیکن یہاں ایسا بھی نہیں، کپتان کی ہٹ جاری وہ احتساب احتساب کا نام لیتے لیتے،ہر عمل سے لاپرواہ ہیں اور حزبِ اختلاف کو انہیں ہٹانے کی فکر ہے،حالانکہ احتساب ایک قانونی عمل ہے،جسے آئین و قانون ہی کے دائرے میں جاری  رہنا چاہئے اور اس سے کسی بھی دوسرے امر کو متاثر نہیں ہونا چاہئے،لیکن ہم ایسے خوش قسمت کہاں؟ اور اب تو نوبت کسی اور حد تک چلی گی ہے، جس کا فیصلہ ہوا تو بادشاہت ہو گی یا پھر نئے لوگ آئیں گے وہ کوئی بھی ہو سکتے ہیں۔

حزبِ اختلاف کے گیارہ رکنی اتحاد پی ڈی ایم نے محمد شہباز شریف کی گرفتاری سے قبل ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اکتوبر سے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے گی، تاہم اس گرفتاری نے  مہمیز کیا اور اب پہلے جلسے کا اعلان کر دیا گیا، جو 11اکتوبر کو کوئٹہ میں ہو گا۔ یہ صوبہ یوں بھی حساس گنا جاتا اور اس میں جمعیت علماء اسلام کے گہرے اثرات ہیں۔دوسری صرف حزبِ اقتدار کی اپنی چال ہے،منگل کو ہونے والے معمول کے کابینہ اجلاس میں حزبِ اختلاف کو پھر سے ”حقارت“ ہی سے دیکھا گیا اور محاذ آرائی جاری ر کھنے ہی والے فیصلے ہوئے۔ایک فیصلہ نواز شریف کو وطن واپس لانے کا ہے،جنہوں نے گذشتہ روز لندن سے پھر خطاب کیا، جو ویڈیو لنک کے ذریعے ان کی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین نے سنا۔ بہرحال سوشل میڈیا پر بھی اسے جاری کر دیا گیا یوں طبل ِ جنگ تو بج ہی گیا۔

اس صورتِ حال نے ہمیں ماضی میں جھانکنے پر مجبور کر دیا۔ یہ19 اپریل77ء کا ذکر ہے جب اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے گورنر ہاؤس لاہور کے دربار ہال میں ایک پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جوا بند، شراب پر پابندی، جمعہ کی چھٹی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کے اعلان کئے، ہم وہاں تھے کہ کوریج کی ڈیوٹی تھی اور اُس وقت بھٹو کو اپنی کرسی مضبوط ہونے کا بہت زیادہ یقین تھا، اور انہوں نے کرسی ہی کے دستے پر ہاتھ مار کر کہا تھا ”یہ کرسی بہت مضبوط ہے“۔ قارئین! اُس روز ہمارے دِل نے گواہی دی اور ہم نے جہانگیر بدر(مرحوم) سے کہہ  دیا ”آج تمہارا صاحب گیا“ اور پھر ایسا ہی ہوا، یہ اسی روز (19اپریل) دن کا ذکر ہے،جب ڈاکٹر جہانگیر بدر کی دعوتِ ولیمہ پر حاجی حیات(مرحوم، ٹرانسپورٹ فیڈریشن والے) سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ گذشتہ شب(18اپریل کی شب) بہت طویل اجلاس ہوا اور مولانا کوثر نیازی نے بھٹو کو قائل کر لیا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذکا اعلان کر کے پی این اے(پاکستان قومی اتحاد) کے غبارے سے ہوا نکال دیں، اس وقت تک نظام مصطفےٰ ؐ کے نفاذ کا نعرہ مقبولیت کی اعلیٰ سطح پر تھا، شیخ رشید اور ڈاکٹر مبشر حسن نے مخالفت کی تھی،تاہم مولانا کوثر نیازی کی بات مان لی گئی اور بھٹو صاحب نے پریس کانفرنس میں اعلان کر دیا،جس کی بنا پر ہی ہمارے دِل نے گواہی دی کہ اب بچنا مشکل ہو گا۔ ہمارے پاس دلیل یہ تھی کہ نفاذ اسلام کے حوالے سے عوام بھٹو کی نہیں، مفتی محمود  اور مولانا شاہ احمد نورانی کی بات مانیں گے یا پھر نظام مصطفےٰ ؐ  کا پہلے پہل نعرہ لگانے والے رفیق باجوہ کی سنیں گے۔بھٹو صاحب کے پاس وزارتِ عظمیٰ ہونے کے باوجود دینی امور کا اختیار نہیں ہے اور پھر یہی ہوا، اور آخر کار 4-5جولائی کی شب سب کچھ ہو گیا۔ اگرچہ دوسرے حضرات کے ہاتھ بھی کچھ نہ آیا، ماسوا چند ماہ کی وزارتوں کے، تاہم بھٹو صاحب کا انجام جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں ہو گیا۔

ہمیں یہ اچھی طرح یاد ہے کہ تب سنجیدہ فکر اور ترقی پسند حلقوں کے علاوہ خود پیپلزپارٹی کے مفکرین کی رائے تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو صوبائی اسمبلیوں کے بائیکاٹ کا نتیجہ دیکھ لینے کے بعد مذاکرات کا اعلان کرنا اور نئے انتخابات پر رضا ندی ظاہر کر دینا چاہئے تھی کہ زمینی حقائق کے مطابق اتنی موثر اور بڑی تحریک کے باوجود نئے انتخابات میں بھی کامیابی پیپلزپارٹی کی ہوتی،جو جنرل ضیاء الحق کی طرف سے اکتوبر77ء کے انتخابات کی انتخابی مہم سے بھی ظاہر ہوا اور جنرل ضیاء الحق کو انتخابات ملتوی کرنا پڑے،لیکن ہونی ہو کر  رہتی ہے، اب ہمارا موجودہ حزبِ اقتدار کو مشورہ ہے کہ وہ احتساب کو چھوڑ کر باقی ملکی مسائل پر حزبِ اختلاف سے سنجیدہ مذاکرات کریں اور ملک کے اندر استحکام پیدا کر لیں تاکہ عوام کی مشکلات کا ازالہ ہو،دوسری صورت میں کچھ اور ہو گا، ہم نے عرض کیا تھا کہ حزبِ اختلاف بکھری ہوئی ہے،لیکن حزبِ اقتدار کی طرف سے اسے دیوار سے لگانے کا سلسلہ جاری رہا تو یقینا یہ اتحاد بن جائے گا اور تحریک بھی چلے گی اور اب ہم یہ عرض کر دیں کہ11اکتوبر کو یہ سلسلہ شروع ہو ا تو پھر ایک روز بھوکے لوگ بھی اس تحریک کاحصہ ہوں گے،پھر کیا ہو گا،یہ کوئی بھی نہیں جانتا۔

مزید :

رائے -کالم -