سوشل میڈیا پر ایک نیا ڈیفنس چینل!

سوشل میڈیا پر ایک نیا ڈیفنس چینل!
سوشل میڈیا پر ایک نیا ڈیفنس چینل!

  

کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ”دفاعی چینل“ دیکھا اور سنا جا رہا ہے۔ اس کی دو باتیں قابلِ صد ستائش ہیں۔ایک یہ کہ اس کی زبان اردو ہے اور دوسرے یہ کہ اس میں جدید سلاحِ جنگ اور حربی ساز و سامان (Equipment) کی وہ ساری اصطلاحات جو انگریزی زبان میں  ہیں ان کو اردو میں ترجمہ نہیں کیا جاتا بلکہ جوں کا توں پڑھ دیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر یہ کہنا ہو کہ: ”VT4ایک چوتھی نسل کا جدید ٹینک ہے“ تو اس چینل میں اس کو یوں پڑھا جاتا ہے: ”وی ٹی فور ایک فورتھ جنریشن کا ماڈرن ٹینک ہے“……

اس کے بعد اس ٹینک کی ساری تکنیکی اور پروفیشنل خوبیوں کو بیان کیا جاتا ہے، اس کے حصوں اور پرزوں کے نام جو انگریزی میں ہوتے ہیں ان کو اردو میں قرات کر دیا جاتا ہے اور اس کی وہ تمام خامیاں اور خوبیاں جن کو اردو زبان کے قارئین کے لئے پہلے اردو میں ترجمہ / تشریح کرنے کا چیلنج درپیش تھا اس کو حل کر لیا گیا ہے۔ جب ٹینک کی بات ہو رہی ہے تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس کے پہیئے ایک سٹیل کے پٹے پر چلتے ہیں۔ ان پانچ سات پہیوں کو اصطلاح میں ’بوگی وہیلز‘ کہا جاتا ہے لیکن ان کے علاوہ ایک اور چھوٹا سا وہیل اور بھی اِن پہیوں کے آخر میں لگا ہوتا ہے جو دندانے دار ہوتا ہے۔ اس کو سپراکٹ (Sprecket) کہا جاتا ہے۔ یہ سپراکٹ براہِ راست ٹینک کے انجن سے منسلک ہوتا ہے۔ یعنی اصل میں یہ سپراکٹ ہی ہے جو انجن سے پاور لے کر چلتا ہے جبکہ باقی بڑے بڑے ٹینک وہیل اس فولادی پٹے پر گھومتے ہیں جس کو یہ سپراکٹ چلاتا ہے۔ ان بڑے بڑے پہینوں کا کام ٹینک کی باڈی کو اٹھانا ہے، اس کو چلانا نہیں۔ چلانے کا کام سپراکٹ کرتا ہے۔

اسی طرح اس ٹینک (یا کسی بھی جدید مین (Main)بیٹل ٹینک کا عملہ تین افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک ڈرائیور، دوسرا لوڈر (Loader) جو ٹینک گن میں گولہ لوڈ کرتا ہے (آج کل یہ لوڈنگ آٹومیٹک ہو چکی ہے) اور تیسرا اس کا کمانڈر …… اس ٹینک کی کمنٹری جب اردو میں سوشل میڈیا پر کی جاتی ہے تو اس میں ٹینک کے عملے کو عملہ نہیں کریو (Crew) کہا جاتا ہے کیونکہ جب ٹینک کے حصوں پرزوں کے نام لئے جاتے ہیں تو وہ سارے کے سارے انگریزی میں ہوتے ہیں اس لئے اگرچہ کریو کا ترجمہ عملہ بالکل ٹھیک اور درست ترجمہ ہے لیکن ٹینک کی ٹریننگ دینے والے اساتذہ (انسٹرکٹرز)عملے کو عملہ نہیں، کریو کہتے ہیں اور ان کا فقرہ یہ ہوتا ہے: ”اس VT-4 کا کریو تین افراد پر مشتمل ہوتا ہے“…… مجھے ذاتی طور پر یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ انگریزی زبان کی اصطلاحات (Terms) کو جو عرفِ عام میں ہماری روز مرہ بول چال کا حصہ بن چکی ہیں جوں کا توں انگریزی ہی میں لکھ اور بول دیا جائے تو یہ پراسس زیادہ آسان اور قابل فہم ہو گا۔ مثلاً اگر آپ لاؤڈ اسپیکر کا اردو ترجمہ ’آلہء مکبّر الصوت‘ اور میسیج (Message) کا اردو ترجمہ ’پیغام‘ کریں گے تو اس میں سننے اور پڑھنے والے کو مشکل یا ہچکچاہٹ کا سامنا ہو گا۔

مجھے GHQ میں پوسٹنگ کے دوران ایک اضافی ڈیوٹی یہ بھی دی گئی کہ ایک ’انگلش۔ اردو ملٹری ڈکشنری‘ کی ترتیب و تالیف کا کام کروں۔ مختلف صیغوں (Arms) اور خدمات (Services) کے ڈائریکٹوریٹس سے ایک ایک لیفٹیننٹ کرنل رینک کا آفیسر نامزد کر دیا گیا اور ایک بڑا سا کمرہ مختص کر دیا گیا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ فوج (آرمی) میں پانچ شعبے / صیغے (Arms) لڑاکا (Fighting) شعبے / صیغے کہلاتے ہیں جو بالترتیب یہ ہیں۔(1) آرمر…… (2) آرٹلری ……(3) انفنٹری ……(4) انجینئرز…… اور (5) سگنلز ہیں …… اسی طرح سروسز کے بھی کئی شعبے ہیں۔ مثلاً سپلائی،آرڈیننس، میڈیکل، ایجوکیشن، ملٹری پولیس، ملٹری ٹرانسپورٹ، وٹرنری وغیرہ وغیرہ …… ان کی ٹریننگ دینے کے لئے انگریزی میں جوکتابیں (pamphlets) موجود ہیں ان کی تعداد درجنوں میں ہے اور ان کو جنرل سٹاف پبلی کیشنز (GSPs) کہا جاتا ہے۔ان کو ملٹری کے تدریسی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے۔ آرمی میں کمیشنڈ آفیسرز کی زبان تو انگریزی ہے اور اس میں ٹریننگ کے لئے ان کتابوں کی تدریس میں کوئی مشکلات پیش نہیں آتیں۔ لیکن ہمارے سولجرز (سپاہی سے لے کر صوبیدار میجر صاحب) کی زبان اردو ہے۔ جب ان سولجرز کی تدریس کا مسئلہ آتا ہے تو ان کو اصطلاحات سمجھانے اور بتانے میں کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر ٹینک کی مین (Main) گن کی نالی چونکہ اندر سے بالکل صاف (Smoth) ہوتی ہے  اس لئے یہ بیرل (نالی) سموتھ بور کہلاتی ہے لیکن کسی توپ کی یہی نالی اندر سے جھری دار ہوتی ہے جس میں سے گولہ گھومتا ہوا باہر نکلتا ہے اس لئے ٹارگٹ پر لگنے کے لئے بالکل سیدھا جاتا ہے۔ ان جھریوں کو Groves کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ’سموتھ بور‘ اور ’گروبور‘ بتانے اور سمجھانے میں کچھ مشکل کا سامنا ضرور ہوتا ہے۔

میں اردو۔ انگلش ڈکشنری کی بات کر رہا تھا۔ اس کانفرنس کو’ڈکشنری کانفرنس‘ کا نام دیا گیا اور صبح 9 بجے سے 11بجے تک روزانہ مختلف شعبوں کے آفیسر ایک جگہ جمع ہوتے اور ایک ایک اصطلاح (Term) سامنے رکھ کر اس کے اردو ترجمے پر بحث و مباحثہ ہوتا  اور جب کوئی حتمی ترجمہ فیصل ہو جاتا تو اس کو مجوزہ ڈکشنری کا باقاعدہ حصہ بنا لیا جاتا…… مجھے اس کانفرنس کا سیکرٹری بنا دیا گیا کہ مجھے نہ صرف یہ کہ السنہء شرقیہ کی کچھ شُد بُد حاصل تھی بلکہ ملٹری ہسٹری کا بھی کچھ نہ کچھ پتہ تھا۔ اس نامزدگی کی دوسری وجہ شائد یہ ہو گی کہ میں GHQ سے شائع ہونے والے پروفیشنل اردو جریدے ”پاکستان آرمی جرنل“ کا ایڈیٹر بھی تھا۔ یہ ’عہدہ‘ بھی اضافی اور اعزازی تھا۔چنانچہ یہ کانفرنس بڑی باقاعدگی سے 12برس (1985ء تا 1996ء) تک جاری رہی۔ آفیسرز آتے جاتے رہے لیکن بندۂ ناچیز کو اس عرصے میں وہیں Post رکھا گیا۔ اس کی ایک تیسری اضافی اور اعزازی وجہ یہ بھی تھی کہ مجھے ایران اور افغانستان سے آنے والے فوجی وفود کی ترجمانی (انٹرپریٹرشپ) بھی کرنی ہوتی تھی۔

اس کانفرنس کے دوران کئی بار ایسا ہوا کہ صرف ایک اصطلاح کا ترجمہ کرنے پر پورے دو گھنٹے لگ جاتے اور وقت ختم ہو جاتا…… میں یہاں ایک دو مثالوں سے اپنی مشکل واضح کرنی چاہتا ہوں …… ایک وہ اصطلاح تھی جو برج ہیڈ (Bridghead) کے نام سے موسوم تھی اور تمام افسروں کو اس کے مفہوم کا پتہ تھا۔ اس اصطلاح کا مطلب ہے ”دشمن کی زمین میں وہ چھوٹا سا علاقہ جو قبضہ میں لے کر اپنی بڑی فورس کی آمد اور حملے کے لئے تیار کیا جاتا ہے“…… یعنی اس میں نہ تو برج (Bridge) کا کوئی شائبہ تھا اور نہ ہیڈ (Head) کا…… اس کا اردو لغوی ترجمہ ”سر پُل“ بنتا تھا…… اس پر کافی بحث و مباحثہ ہوا لیکن کوئی فیصلہ نہ ہو سکا…… اسی طرح ایک اور لفظ Repost تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ دشمن کے حملے کے جواب میں ایسا حملہ جو اصل حملے کی جگہ نہ کیا جائے بلکہ کسی اور جگہ کیا جائے۔ مثال کے طور پر اگر دشمن لاہور محاذ پر حملہ کرکے داتا صاحب کے مزار تک آ جائے تو ہم امرتسر پر حملہ کرکے دربار صاحب کے سامنے جا نکلیں تو اس موخر الذکر جوابی حملے کو Repost کہا جائے گا۔

لیکن اگر لاہور محاذ پر حملے کے جواب میں ہم اس محاذ پر دشمن کو دھکیلتے ہوئے کھیم کرن پر جا نکلیں تو اسے کاؤنٹر اٹیک (جوابی حملہ) کا نام دیا جائے گا…… یہ دونوں بادی النظر میں جوابی حملے ہیں لیکن ان میں جو فرق ہے اس کو ایک الگ اصطلاح میں کیسے بیان کیا جائے؟…… اس پر بھی کافی طویل بحث ہوئی اور مسئلہ لاینحل رہا۔ نزدیک ترین اصطلاح تھی: ”جوابی حملہ بمقامِ دگر“…… لیکن تمام افسروں نے اس کو ’قبول‘ کرنے سے انکار کر دیا…… جوں جوں یہ کانفرنس طول کھینچتی گئی میرا یہ استدلال اور خیال زیادہ مضبوط اور قابلِ قبول ہوتا گیا کہ کسی بھی اصطلاح کو اردو میں ترجمہ نہ کیا جائے، صرف اردو میں املاء کر دیا جائے…… لیکن جب یہ استدلال حکامِ بالا تک گیا تو اس کی شنوائی نہ ہوئی۔ ہماری تیار کردہ بارہ برس کی محنت رائیگاں نہ گئی۔ اسے بطور  GSP شائع کرکے تمام آرمی میں تقسیم کر دیا گیا۔

لیکن آج میں جب اس نئے دفاعی چینل کو سوشل میڈیا پر دیکھتا اور سنتا ہوں تو بڑی خوشی ہوتی ہے کہ چلو فوج نے تو میری بات نہ مانی لیکن اب یہ چینل اگر سوشل میڈیا پر قبول عام حاصل کر رہا ہے تو یہ اس کی ایک بڑی کامیابی ہو گی…… میں اس چینل کے مالکان، بانیان، لکھاریوں اور مقررین کو مبارک باد دیتا ہوں …… اگرچہ اس میں قباحت یہ ہے کہ جو اصطلاحیں آپ استعمال کرتے ہیں ان کے معانی اور مفہوم کے لئے ایک الگ ڈکشنری کی ضرورت ہے لیکن افواجِ پاکستان اپنی روزمرہ کی بول چال میں آج جو زبان استعمال کر رہی ہیں وہ ان کے تمام عہدیداروں (کیا آفیسر اور کیا سولجرز) کی تفہیم میں تو ہے!

مزید :

رائے -کالم -