پی ایس ایل: ون، ٹو میں بڑی مالی بے ضابطگیو ں کا انکشاف 

پی ایس ایل: ون، ٹو میں بڑی مالی بے ضابطگیو ں کا انکشاف 

  

اسلام آباد(آئی این پی)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) ون اور ٹو میں 2 ارب77 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں ہوئیں، پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا محمد تنویر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی ارکان کے علاوہ سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ،چیئرمین پی سی بی،آڈٹ حکام و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان سپر لیگ ون اور ٹو کی خصوصی آڈٹ رپورٹ  پر غور کیا گیا۔چیئرمین کمیٹی رانا محمد تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کیوں نہیں آئی۔سیکریٹری آئی پی سی نے کہا کہ محکمہ آڈٹ نے ہمیں ورکنگ پیپر نہیں دیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی جواب دیں۔چیئرمین پی سی بی احسان مانی  نے کہا کہ میں صرف نگرانی کرتا ہوں، ادارہ کے ہر معاملہ میں مداخلت نہیں کرتا،اس موقع پرکمیٹی نے چیئرمین پی سی بی کے جواب پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ آپ ادارے کے ذمہ دار ہیں، غیر ذمہ دارانہ باتیں نہ کریں۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ سیکریٹری آئی پی سی کرکٹ بورڈ والوں کو بلا کر سمجھائیں کہ نظام کیسے چلتا ہے،چیئرمین پی سی بی ادارہ کے سربراہ ہیں ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔ پی ایس ایل ون اور ٹو کی خصوصی آڈٹ رپورٹ میں پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) ون اور ٹو میں 2 ارب77 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا،آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی ایس ایل میں 3 ٹیموں کی فرینچائز کم قیمت پر فروخت کی گئی،جس سے پی سی بی کو 11 لاکھ ڈالر سالانہ کا نقصان ہوا،اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی اور کوئٹہ کی فرنچائزکم قیمت پر نیلام کی گئی۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے فرنچائزمالکان کو سینٹرل پول سے طے شدہ رقم سے زیادہ ادائیگی کی،پی سی بی نے فرنچائز مالکان کو 24 کروڑ 86 لاکھ روپے اضافی ادا کیے۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اسوقت حالات مشکل تھے پی ایس ایل کا انعقاد ضروری تھا،پی سی بی پر پیپرا قوانین لاگو نہیں ہوتے۔کمیٹی رکن سید نوید قمر نے کہا کہ پی سی بی خودمختار ہو گا لیکن اس کی مالک حکومت ہے۔ کمیٹی نے پی ایس ایل کی مالی بے قاعدگیوں کی محکمانہ انکوائری کی ہدایت کی۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ سیکریٹری آئی پی سی خود ایک ماہ میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔

چیئرمین کمیٹی نے اجلاس ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -