سول جج چیک کیش ہونے کیخلاف حکم امتناع جاری نہیں کرسکتا،چیف جسٹس 

سول جج چیک کیش ہونے کیخلاف حکم امتناع جاری نہیں کرسکتا،چیف جسٹس 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے قراردیاہے کہ سول جج چیک کیش ہونے کے خلاف حکم امتناعی جاری نہیں کرسکتا فاضل جج نے یہ ریمارکس پسرورشوگرملز کیس میں چیک کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کرنے والے سول جج ضیاء الرحمن کو طلب کرتے ہوئے دیئے عدالت نے 34کروڑ روپے کا جعلی چیک دینے کے ملزم شیخ احمد لطیف کی 7اکتوبر تک عبوری ضمانت منظورکرلی شیخ احمد لطیف کی درخواست ضمانت کے دوران چیف جسٹس نے ان نکات پر بھی معاونت طلب کرلی ہے کہ عدالت کو بتایا جائے کمپنی کے معاملے چیک کی ذمہ داری ایک ڈائریکٹر پر ہوگی یا سب پر؟چیک کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے،اگر بورڈ ایک نائب قاصد کو چیک ایشو جاری کرنے کی اتھارٹی دیدے تو پھر کس کے خلاف کارروائی ہوگی؟ مدعی مقدمہ کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے چیک جاری کیا وہ ذمہ دار ہے جس پر فاضل جج نے کہا کہ کوئی قانون اس حوالے سے پیش کردیں، پنچائتی باتیں یہاں نہ کریں ایسا نہ ہو کہ کروڑوں روپے کا مالک سائیڈ پر مزے لیتا رہے اور غریب نائب قاصد چیکوں کے کیس بھگتا رہے شیخ احمد لطیف پر الزام ہے کہ انہوں نے پسرورشوگرملز خریدنے کیلئے 34کروڑ روپے کا بوگس چیک دیاجو کیش نہیں ہوسکا فاضل جج نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا مجھے بتائیں کہ آپ کا کوئی دعویٰ سول کورٹ میں زیر التواء ہے؟ایک چیک ڈس آنر ہوگیا اس کی ذمہ داری کس پرعائد ہوگی؟15 اپریل کو سول جج نے آرڈر غلط پاس کیا اس کو اختیار ہی نہیں تھا، ڈپٹی پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی نے ان کو چار خط لکھے لیکن جواب نہیں آیا، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ عدالت کے سامنے ابھی متعلقہ خطوط پیش کردیں میں ابھی ادائیگی کے لئے تیارہوں مخالف پارٹی اپنی ذمہ داری پوری کردیں توتین سو ملین سے زائد رقم کیش میں دوں گا سرکاری وکیل نے کہا کہ نیب میں بھی ملزم کے خلاف انکوائری چل رہی ہے، مدعی مقدمہ کے وکیل نے کہا کہ شوگر ملز 84 کروڑ روپے میں فروخت کرنے کا معاہدہ ہوا 50 کروڑ کی ادائیگی ہوچکی 34 کروڑ روپے کی ادائیگی پر تنازعہ ہوگیا ملز کا قبضہ اور دستاویزات ان کے نام منتقل کر دئیے لیکن ادائیگی نہیں کی جارہی،چیف جسٹس نے رجسٹرار لاہورہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ آج یکم اکتوبر کو متعلقہ سول جج ضیاء الرحمن کی عدالت میں حاضری یقینی بنائی جائے۔

طلبی

مزید :

صفحہ آخر -