ہمارے حکمران لاوارث، دشمن من مرضی کر رہا ہے: سراج الحق 

ہمارے حکمران لاوارث، دشمن من مرضی کر رہا ہے: سراج الحق 

  

شرقپور شریف (نمائندہ پاکستان) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آج ہند وستان کی عدالت میں وہ تمام ملزمان کوبری کردیا جنہوں نے بابری مسجد کو شہید کیا،ہمارے حکمران لاوارث، دشمن اپنی من مرضی کررہا ہے۔ ہم بھارت کی خدمت کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کو تباہ کرتا نظر آرہا ہے۔ کاش دنیا میں کوئی غیرت مند مسلم حکومت ہوتی تو مودی کو یقین ہوتا کہ اس ا قدام سے عالم اسلام کی طرف سے سخت ردعمل آئے گا تو وہ سو بار سوچتا آج ہماری مساجد اور مدارس لاوارث ہیں۔ عالم اسلام اس وقت ایک قبر ستان کی مانند ہے۔ اگر شان صحابہ چاہتے ہیں تو ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آستانہ عالیہ شیر ربانی شرقپور شریف کے پیر ممبر صوبائی اسمبلی صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری سابق ایم این اے وضلع ناظم شیخوپورہ کی رہائشگاہ اور مقامی ہال میں شان صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا مسلم لیگ کی حکومت نے ممتاز قادری کو پھانسی دی اور گستاخ رسول آسیہ کو پروٹو کوال کے ساتھ رخصت کیا ہمارے ایک ہی مطالبہ ہے پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور اس ملک میں اسلام ہی کو نافذ کیا جائے غلام مصطفےٰ اور عاشقان مصطفےٰ ایک ہوکر اس ملک میں اسلا می نظام نافذ کیا جائے۔ سراج الحق نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں بل پیش کیا گیا کہ انبیا ئے کرام کے ساتھ علیہ السلام اور صحابہ کرام کے نام کے ساتھ رضی اللہ تعالی لکھا جائے گا لیکن یہ بل ابھی تک ویسے ہی پڑا ہے۔ صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری نے کہا پنجاب اسمبلی میں بل پاس ہونے کے باوجود بھی ابھی تک گورنر نے دستخط نہیں کئے۔ تمام قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بل کو فوری طور پر دستخط کرکے منظور کیا جائے۔ملک کے دشمن باہر سے سازشیں کررہے ہیں تاکہ ملک کے اندر فرقہ واریت پھیل سکے۔ علامہ احسان الہی ظہیر نے کہا حق چار یار میں ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق حضرت عثمان غنی حضرت علی ؑ نے بے شمار اہل ایمان غلاموں کو آزاد کرایا ان صحابہ کی عظمت کو دنیا میں منوا کر رہیں گے۔ موقع پر خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ آستانہ عالیہ کوٹ مٹھن شریف،پیر اختر رسول،مولانا معاویہ اعظم فاروقی مولانا غیاث الدین ایم پی اے،پیر غلام رسول اوسی پیر بابا اسلم حیدر ی ڈاکٹرامجد حسین،علامہ محمد احمد لاھیاتوی علامہ عبدالروف فارقی،خواجہ اکمل اویسی نے بھی خطاب کیا۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -