ایجوکیشن کمیٹی کا تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال پر اظہار تشویش 

  ایجوکیشن کمیٹی کا تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال پر اظہار تشویش 

  

 اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے تعلیم نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کیلئے وزارت داخلہ، وزارت انسداد منشیات اور وزارت صحت سے تجاویز طلب کر لیں۔کمیٹی نے  اقلیتوں کو ہائیر ایجوکیشن تک رسائی اور حیدرآباد انسٹیٹیوٹ فار ٹیکنیکل اینڈ مینجمنٹ سائنسز بل منظور کر لئے۔۔بدھ کو ذیلی کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس کنوینر صداقت عباسی کی زیر صدارت ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی ارکان کے علاوہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود،وزارت قانون،ہائر ایجوکیشن کمیشن و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں اسٹوڈنٹ یونینز کی بحالی کا معاملہ زیر غور آیا۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ اسٹوڈنٹ یونینز کے متعلق پالیسی  فیصلہ وفاقی کابینہ میں ہو گا، پاکستان میں جس قسم کی اسٹوڈنٹ یونینز تھیں ایسی دنیا میں کہیں نہیں، اسٹوڈنٹ یونینز کے متعلق جو بھی فیصلہ ک وفاقی کابینہ میں ہو گا اس کو قومی اسمبلی میں لیکر جائیں گے،بچوں کو تعلیم کے ساتھ دوسری صحت افزا سرگرمیوں کی آسانیاں دینی ہے، کراچی یونیورسٹی میں ایک خاص جماعت کے کارکن اسٹوڈنٹ یونینز کے نام پر مار دھاڑ کرتے تھے،یونیورسٹی وائس چانسلرز کے اجلاس میں اسٹوڈنٹ یونینز کے متعلق بات چیت ہونی چاہئے۔رکن قومی اسمبلی کیسومل کھیل داس نے کہا کہ سندھ میں اسٹوڈنٹ یونینز کے متعلق بل پاس ہو چکا ہے۔جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ میرا کام بطوروزیر تعلیم بچوں کو صرف معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے،سندھ میں پاس ہونے والا اسٹوڈنٹ یونینز کا بل دیکھیں گے کہ وہ قابل عمل ہے یا نہیں۔کمیٹی میں اقلیتوں کو ہائیر ایجوکیشن تک رسائی کے بل پر بھی غور کیا گیا،اقلیتوں کو ہائیر ایجوکیشن تک رسائی کا بل رکن قومی اسمبلی جمشید تھامس نے پیش کیا  اور کہا کہ یونیورسٹیز میں اقلیتوں کا کوٹا ہونا چاہئے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ ملک میں اقلیتوں کی 3.72 فیصد نمائندگی ہے،اقلیتوں کی شرح کے مطابق تعلیمی اداروں میں ان کا کوٹا مختص کرنے پر کام کر رہے ہیں۔وزارت قانون کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ غریب اور نادار بچوں کے لیے وفاقی تعلیمی اداروں میں کوٹا مختص کرنے کا بل 2012 میں پاس ہوا تھا۔رکن کمیٹیمہناز اکبر عزیز  نے کہا کہ غریب بچوں کیلئے کوٹا مختص کرنے کے لیے پیرا سے بات کرنے کی ضرورت ہے، کمیٹی نے تفصیلی غور کے بعد اقلیتوں کو ہائیر ایجوکیشن تک رسائی  سے متعلق بل منظور کر لیا۔ذیلی کمیٹی نے حیدرآباد انسٹیٹیوٹ فار ٹیکنیکل اینڈ مینجمنٹ سائنسز بل بھی منظور کر لیا۔کمیٹی اجلاس میں یونیورسٹیوں میں منشیات کے استعمال کے روک تھام  کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ ایچ ای سی حکام نے بتایا کہ ہائیر ایجوکیش کمیشن 2015 تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے روک تھام پر کام کر رہا ہے، رکن کمیٹی ڈاکٹر شازیہ صوبیہ نے کہا کہ اب تک کتنے اسٹوڈنٹس کے انسداد منشیات کے لیے کام کیا گیا ہے، قائد اعظم یونیورسٹی میں سب سے زیادہ منشیات کے استعمال کے کیسیز سامنے آئے۔کمیٹی نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کیلئے وزارت داخلہ، انسداد منشیات اور وزارت صحت سے تجاویز طلب کر لیں۔

ایجوکیشن کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -