بابری مسجد شہادت کیس، ایل کے ایڈوانی سمیت 32ملزمان بری، پاکستان کی بھارتی عدالتی فیصلے کی مذمت 

بابری مسجد شہادت کیس، ایل کے ایڈوانی سمیت 32ملزمان بری، پاکستان کی بھارتی ...

  

 لکھنو،  ممبئی،اسلام آباد(آئی این پی،این این آئی) بھارت میں لکھنو کی عدالت نے مشہور زمانہ بابری مسجد کی شہادت کے کیس کا فیصلہ28سال بعد سنا دیا، عدالت نے بی جے پی رہنماایل کے ایڈوانی سمیت تمام 32ملزمان کو   بری کر دیا،فیصلے کے موقع پر 26 ملزمان عدالت میں موجود تھے،عدالت نے فیصلہ سناتے وقت کہا کہ بابری مسجد کا واقعہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا،  واقعے کی ویڈیو کو جعلی  ہے،تحقیقاتی ٹیم تصاویر کے نیگٹو پیش نہیں کرسکی، ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود نہیں،انٹیلی جنس رپورٹ کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق لکھنو کی عدالت نے 28سال بعد بابری مسجد شہادت کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق لکھنو کی عدالت نے بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے سینئر رہنما ایل کے ایڈوانی سمیت تمام 32 ملزمان کو کیس سے بری کردیا ہے۔عدالت نے مرلی منوہر جوشی اور اما بھارتی سمیت دیگربی جے پی رہنماؤں کو بھی بری کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق کیس کے فیصلے کے موقع پر 26 ملزمان عدالت میں موجود تھے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بابری مسجد کا واقعہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا۔عدالتی فیصلے میں واقعے کی ویڈیو کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم تصاویر کے نیگٹو پیش نہیں کرسکی جب کہ ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود نہیں ہے۔عدالت نے کہا کہ مقامی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں اس طرح کے واقعات کے تسلسل کے بارے میں پہلے آگاہ کردیا گیا تھا لیکن اسے نظر انداز کیا گیا۔جبکہ پاکستان نے بابری مسجد شہید کرنے والے ملزموں کی رہائی کے بھارتی عدالتی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حافظ نے جاری بیان میں کہا کہ۔دنیا پر ثابت ہوگیا کہ ہندوتوا سے متاثر بھارتی عدلیہ انصاف کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی نے پلاننگ کے تحت ہندو رائے عامہ کو بھڑکانے کے لیے رتھ یاترا کی تھی۔ ترجمان کے مطابق بابری مسجد شہید کرنے کے نتیجے میں بی جے پی کی زیرقیادت فرقہ وارانہ تشدد ہوا۔ تشدد کے  نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نام نہاد جمہوریت میں اں صاف کی علامت ہوتی تو سرعام مجرمانہ فعل پر فخر کرنے والوں کو آزادی نہیں کیا جاسکتا تھا۔  آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کورٹ کا فیصلہ بھارتی عدلیہ کی تاریخ کے لیے سیاہ دن ہے۔ بابری مسجد شہادت کیس کے فیصلے پر آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے اپنے ردِ عمل کا اظہار  کرتے ہوئے کہا کہ آج افسوس ناک دن ہے، عدالت کہتی ہے کہ کوئی سازش نہیں ہوئی تھی۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا بابری مسجد پراپرٹی کیس میں اسے منصوبہ بندی سے تباہ کرنے کا کہہ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث افراد کو سیاسی طور پر نوازا گیا، انہیں وزارتیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد شہید کرنے کے واقعے کی وجہ ہی سے بی جے پی اقتدار میں آئی۔

بابری مسجد شہادت کیس

مزید :

صفحہ اول -