توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار، منی لانڈرنگ قانون بھی طاقتور وں کو نہیں پکڑسکتا: وزیراعظم 

توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار، منی لانڈرنگ قانون بھی طاقتور وں کو نہیں ...

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کا منی لانڈرنگ قانون بھی طاقتوروں کو نہیں پکڑ سکتا، پاکستان میں ایلیٹ کلاس کیلئے پالیسیاں بنائی گئیں۔ گزشتہ روزیہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تعلیمی نظام میں تفریق ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ملک میں غریبوں کو اوپر لانا ہمارا وژن، پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ 60ء کی دہائی کے بعد پاکستان میں ایلیٹ کلاس کیلئے پالیسیاں بنائی گئیں جس کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے۔ تعلیم اور صحت کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ ڈیجیٹل پاکستان اب ہمارا مستقبل ہے۔ فورجی اور فائیوجی کے ذریعے رابطوں کا نظام بہتر بنائیں گے۔ آئی ٹی کے شعبے کو ترقی دے کر برآمدات میں اضافہ کریں گے۔ دور دراز علاقوں میں ورچوئل تعلیمی نظام متعارف کرائیں گے۔انہوں نے کہا کہ انصاف اور ترقی کے کم مواقع سے معاشرے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ملک میں تعلیم کا نظام بھی یکساں نہیں ہے۔  ملک کے پیچھے رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں اشرافیہ کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔دنیا کی ترقی کو بھی دیکھیں،غریب ملک غریب تر ہوتے ہیں اور جب امیر ممالک میں سارا پیسا لگ جاتا ہے تو منی لانڈرنگ کے قانون بھی طاقت ور ممالک کو تحفظ دیتے ہیں اور کمزور ممالک کو کوئی تحفظ نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت غربت ہے وہ بہت وسیع علاقہ ہے تاہم اس علاقے کو بہت نظرانداز کیا گیا اور وہ بہت پیچھے رہ گیا، یہاں تک کہ جہاں سے سوئی گیس نکلی وہاں سے دیگر علاقوں کو فراہم کی گئی لیکن وہ علاقہ پتھروں کے دور میں ہے۔ ایک وقت تھا کہ سرکاری اردو میڈیم سے بہت بڑے دانشور آتے تھے لیکن آہستہ آہستہ پیسے بنانے کیلئے انگیریزی میڈیم اسکولز کی دکانیں کھل گئیں اور سرکاری اسکولز پیچھے چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا بہت بڑا کردار ہے اور 4جی اور 5جی سے بہت بہتر اثر پڑے گا جبکہ کورونا وائرس کے دوران ورچوئل ایجوکیشن کا بہت فائدہ ہوا ہے اور اب ہمیں بھی یہ آئیڈیا ملا ہے کہ اسے ان علاقوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں اساتذہ کو نہیں بھیج سکتے۔دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات میں پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء اسد عمر، عمر ایوب، میاں محمد سومرو، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاونین خصوصی شہزاد قاسم، ندیم بابر اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر  و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے،سبسڈی کے نظام کو منصفانہ، شفاف اور مستحقین تک موثر طریقے سے پہنچانے کے نظام پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ماضی میں کیے جانے والے مہنگی بجلی کے معاہدوں کے بوجھ سے نہ صرف عام آدمی اور صنعتی شعبہ متاثر ہوا ہے بلکہ سستی بجلی فراہم کرنے کی کوشش میں گردشی قرضوں کا پہاڑ کھڑا ہوگیا ہے جس کا سارا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے بجلی کی پیداوار، ضروریات، سال کے مختلف مہینوں میں استعمال میں اتار چڑھاؤ کی شرح، پیداواری لاگت، فروخت اور ریونیو اور بجلی کے نرخوں کی وجہ سے دیگر شعبوں پر اثرات سمیت مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر حکمت عملی اور روڈ میپ کا تعین کیا جائے تاکہ نہ صرف اس شعبے کو بحران سے نکالا جا سکے بلکہ ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ تمام شعبہ جات کی توانائی کی ضروریات احسن طریقے سے پوری کی جا سکیں۔

وزیراعظم 

مزید :

صفحہ اول -