اب غلام بن کر نہیں رہ سکتا، عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لئے جاتے ہیں، پارلیمنٹ کو کٹھ پتلی اور ربڑ سٹیمپ بنا دیا گیا: نوا ز شریف 

        اب غلام بن کر نہیں رہ سکتا، عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لئے جاتے ہیں، ...

  

لندن/لاہور(جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن)کے  قائد  اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا   ہے کہ اپنے ملک میں غلام بن کر نہیں رہ سکتاپاکستانی بن کر رہوں گا،دوٹوک فیصلہ کیا ہے کہ ذلت کی زندگی ہم نہیں جی سکتے، عزت کی زندگی گزاریں گے، ظلم زیادتیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا قوم نے فیصلہ کرلیا تو تبدیلی سالوں میں نہیں چند مہینوں اور ہفتوں میں آئے گی، مسلم لیگ ن کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم  نااہل اور پاگل ہے   اوراس کا ذہن خالی ہے،یہ بندہ تو قصور وار ہے ہی لیکن اسے لانے والے اصل قصور وار ہیں، اس کا جواب بھی انہیں ہی دینا ہوگا، الیکشن میں دھاندلی ہوئی، کیا ہم اسے مان لیں؟ انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہم اپنوں کی غلامی میں آگئے ہیں،آج پارلیمان نمائندے نہیں بلکہ کوئی اور چلارہا ہے، کوئی اور بتاتا ہے کہ کون سا بل لانا ہے، کیا کرنا ہے؟ اس سے بڑی اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لئے جائیں،پارلیمنٹ کو کٹھ پتلی اور ربڑ سٹیمپ بنادیاگیا ہے، شہبازشریف  پر فخر ہے جس نے وفاداری اور نظریاتی وابستگی کی مثال قائم کی،وہ مرد میدان ہیں،شہبازشریف نے ہمارے بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کیا،عاصم سلیم باجوہ کو گرفتار کرنے کی بجائے کلین چٹ دے دی گئی، جس طرح ثاقب نثار نے بنی گالہ کو دے دی تھی، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو وائٹ میں لے کر آئے،سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے جو کیا سب کو معلوم ہے،ظہیرالاسلام نے دھرنوں کے دوران کہاکہ نوازشریف استعفی دیں،آدھی رات کو مجھے پیغام ملا کہ اگر استعفی نہ دیا تو مارشل لاء بھی لگ سکتا ہے،میں نے کہاکہ استعفی نہیں دوں گا جو کرنا ہے کر لو،کہاجاتا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی تو مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کا کیا مطلب ہے؟ اس  بیان کی کوئی تردید نہیں ہوئی، عوام بجلی اور گیس کا بل دینے کے قابل نہیں رہے، دو وقت کی روٹی امتحان بن گئی ہے،لوگوں کی سفید پوشی کا جنازہ نکال دیاگیا ہے، بچوں کی سکول کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں۔ ویڈیو لنک  خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ شہبازشریف کے ساتھ سلوک پر دکھی ہوں،جو کچھ ہورہا ہے اس سے ہمارے جذبے اور بڑھے ہیں،انشاء اللہ ہم اپنی جدوجہد مزید تیز کریں گے،ہمیں اس پرفخر ہے کہ ہمارے ساتھی جرات سے حالات کا مقابلہ کررہے ہیں،ہمارے بچوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے، تاریخ میں ایسا سیاہ رویہ نہیں ہوا،شہبازشریف نے بے مثال جرات وبہادری اور استقلال کا مظاہرہ کیا ہے،شہبازشریف کو سیلوٹ کرتا ہوں کہ انہوں نے دیانتداری سے قوم اور ملک کی خدمت کی،شہبازشریف نے پنجاب میں دن رات محنت کرکے بجلی کے کارخانے لگائے،شہبازشریف، خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی اور ٹیم کے سر یہ سہرا ہے،اسحاق ڈار نے وسائل مہیا کئے، قوم کی خدمت پر اس ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،ان سرکاری افسران کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے توانائی کی قلت ختم کرنے میں کردار ادا کیا،شہبازشریف مرد میدان ہیں، انہوں نے مشکلات کے سامنے سرنہیں جھکایا،شہبازشریف نے ہمارے بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کیا،اپنے بھائی پر بہت فخر ہے جس نے وفاداری اور نظریاتی وابستگی کی مثال قائم کی۔مسلم لیگ(ن)کے قائد  نے کہا کہ گرفتار تو عاصم سلیم باجوہ کو ہونا چاہئے تھا لیکن گرفتار شہبازشریف کو کرلیاگیا،عاصم سلیم باجوہ نے اربوں روپے کیسے بنالئے؟اس کا حساب کسی نے نہیں پوچھا،عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دے دی گئی، جس طرح ثاقب نثار نے بنی گالہ کو دے دی تھی،باطل کے خلاف کھڑے ہوں تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا، یہ ہمارے دین کی تلقین ہے،مشکل کو برداشت کرکے کردار اد اکریں گے تو قوم کو تمام مصیبتوں سے نجات مل جائے گی،ان تمام چیزوں کا حساب دینا ہوگا، انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں۔نواز شریف نے کہا کہ اپنے ملک میں غلام بن کر نہیں رہ سکتا، پاکستانی بن کر رہوں گا،میں غلام بن کر نہیں رہوں گا،،سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے جو کیا سب کو معلوم ہے،ظہیرالاسلام نے کہاکہ نوازشریف استعفی دیں، یہ دھرنوں کے دوران کی بات ہے،آدھی رات کو مجھے پیغام ملا کہ اگر استعفی نہ دیا تو مارشل لاء بھی لگ سکتا ہے،میں نے کہاکہ استعفی نہیں دوں گا جو کرنا ہے کر لو،کہاجاتا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی تو مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کا کیا مطلب ہے؟،مولانا عبدالغفور حیدری کو جنرل باجوہ نے کہاکہ ہم نوازشریف کے خلاف کارروائی کررہے ہیں، آپ بیچ میں نہ آئیں،کیا مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کی کوئی تردید ہوئی؟ اس بیان کا کیا مطلب ہے؟جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بار کے اجلاس میں کیا کہا؟ کیا اس پر کوئی کارروائی ہوئی؟ ،شہبازشریف کو شاباش ہے کہ انہوں نے انتہائی دباو کے باوجود چینی کی قیمت بڑھنے نہیں دی تھی،ہم جب اقتدار میں آئے تھے تو 50 روپے کلو چینی تھی، اقتدار سے گئے تو چینی کی یہی قیمت تھی،آج کوئی ہے جو ان مسائل کو دیکھے؟ کوئی سوال پوچھے؟ کوئی احتساب کرے؟،،جج ارشد ملک نے تسلیم کرلیا کہ میں نے دباؤمیں فیصلہ سنایا،جج ارشد ملک برطرف ہوگیا لیکن فیصلہ برقرار ہے، الٹی گنگا بہہ رہی ہے،،اپنی عزت کو ملحوظ خاطر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے، عزت پر سمجھوتہ کرکے سیاست نہیں ہوسکتی،عزت نہ ہو تو پھر کون سی سیاست اور کیسی سیاست؟آج کا دن ان تمام سوالات پر سوچنے کا دن ہے،قوم کے تعاون اور دعاوں سے ایک مخلص شخص کو تین بار وزیراعظم بنایا،قوم نے جیسے تین بار وزیراعظم منتخب کیا، اس شخص کے ساتھ یہ سلوک کیاگیا؟۔اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاکستان ڈیمو کریٹ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے ہونے والے ہر طرح کے احتجاج میں بھرپور شرکت کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 11اکتوبرکو کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کی کامیابی کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی، شہباز شریف کی گرفتاری قابل مذمت ہے لیکن ایسے ہتھکنڈوں سے مسلم لیگ (ن) کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہوا جس کی نواز شریف نے بذریعہ ویڈیو لنک صدارت کی۔ اجلاس میں شاہد خاقان عباسی،مریم نواز،احسن اقبال،راجہ ظفرالحق،رانا تنویر حسین،مریم اورنگزیب،خرم دستگیر،طارق فضل چوہدری،عطاتارڑ،برجیس طاہر سمیت دیگر سینئر ارکان موجود تھے۔اجلاس میں نیب کی کارروائیوں،شہباز شریف کی گرفتاری اورپی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔اجلاس میں تمام رہنماؤں نے نواز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنی اپنی رائے کا بھی کھل کر اظہار کیا۔اجلاس میں مریم نواز سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف نے ملکی سیاسی و اقتصادی صورتحال پر اجلاس سے خطاب کیا۔ آج ملک میں مہنگائی بد ترین سطح پر ہے،معیشت تباہ ہو چکی ہے اورکوئی امید کی کرن باقی نہیں ہے،مسلم لیگ (ن) پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے، اگلے ہفتے مزید اہم فیصلے ہوں گے، اجلاس میں اس پر بحث کی گئی ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہونے والی تحریک میں ہمارا کیا کردار ہوگا کیونکہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کا عزم ہے کہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے، ہم نے آمریت کا مقابلہ کرنا ہے۔۔انہوں نے کہا کہ پی ڈ ی ایم کے پلیٹ فارم سے فیصلہ ہوا ہے کہ پہلا جلسہ کوئٹہ میں ہوگا جس کے بعد جلسے جلوس احتجاج ہوگا ریلیاں اورلانگ مارچ ہوگا،پوری امید ہے کہ پاکستان کے عوام باہر نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مخالف تحریک میں مسلم لیگ (ن) ایک بڑے ستون کی صورت میں نظر آئے گی جو عوام اور پاکستان کو اس سلیکٹڈ،غیر جمہوری اورغیر اخلاقی حکومت سے نجات دلائے گی۔

نواز شریف

مزید :

صفحہ اول -