افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، مذکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ: صدر مملکت 

افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، مذکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ: صدر ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)  صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی  نے کہا   ہے کہ ا فغان تنازعے کا فوجی حل نہیں  ، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے، پاکستان افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے افغان قوم کے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہو گا، دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز اہم سنگ میل ہے، افغان طلباء کو اعلیٰ تعلیم کیلئے مزید مواقع فراہم کر رہے ہیں۔بدھ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی  سے چیئرمین افغان مصالحتی کونسل ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ملاقات کی۔ ملاقات  میں صدر مملکت  نے افغان امن عمل میں ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور افغان  امن عمل کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی  نے کہا  کہ ا فغان تنازعے کا فوجی حل نہیں ہے، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ افغان قیادت کو مسئلے کے سیاسی تصفیئے کیلئے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے افغان قوم کے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز اہم سنگ میل ہے جبکہ افغان  امن عمل میں روڑے اٹکانے والے عناصر سے ہوشیار  رہنا ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کورونا وباء کے باوجود افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے سرحدی پوائنٹس  کھول دیئے ہیں اور پاکستان نے افغانستان میں متعدد  ترقیاتی منصوبے مکمل کئے ہیں۔ افغان طلباء کو اعلیٰ تعلیم کیلئے مزید مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

صدر مملکت

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستانی علماء نے افغانستان میں مصالحتی قومی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ اور ان کے وفد کو یقین دلایا ہے کہ پاکستانی علماء افغانستان کیساتھ قانون اور دستور کے مطابق تعاون کیلئے تیار ہیں۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر قبلہ ایاز کی سربراہی میں علماء کے ایک وفد نے بدھ کو اسلام آباد میں ڈاکٹرعبد اللہ عبد اللہ کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے علماء کے مابین رابطوں اور افغان امن عمل میں علماء کے کر دار پر تبادلہ خیال کیا۔ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہاکہ پاکستانی وفد نے افغان علماء کی جانب سے پاکستانی علماء کو دورے کی دعوت دی جوقبول کرلی اور کہاکہ جب بھی ان کو دعوت ملے گی وہ افغانستان کا دورہ کرینگے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہاکہ چونکہ طالبان افغانستان میں اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں تو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس شریعت کا جو خاکہ موجود ہے وہ افغانستان کیساتھ شیئر کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے آئین کی شق نمبر دو میں ریاست کا مذہب اسلام ہے اور اسی طرح افغانستان کے آرٹیکل ٹو میں بھی افغانستان کا ریاستی مذہب اسلام ہے۔دریں اثناء ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ نے پاکستان اور افغانستان کے غیر حکومتی ڈائیلاگ ٹریک ٹو کے پاکستانی اراکین کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ وہ پاکستان کے دورے سے بہت مطمئن ہو کر جارہے ہیں۔پاکستانی رہنماؤں نے امن عمل میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے اور وہ پاکستان کی یقین دہانیوں سے بہت مطمئن ہیں۔ دونوں ممالک روایتی الزامات ختم کر کے اقتصادی اورمعاشی تعاون پر توجہ دیں۔قطر میں طالبان اور افغان حکومتی وفد کے مذاکرات کے حوالے سے ڈاکٹرعبد اللہ نے بتایاکہ انہوں نے اپنی ٹیم سے صبر اور تحمل کا مظاہرہ اور ممکنہ سمجھوتے کیلئے تیار رہنے کا کہا ہے۔اگرچہ مذاکرات میں بہت سی مشکلات موجودہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات جاری ہیں۔پاکستان اور افغانستان کیلئے تعاون کا نیا دور شروع کر نے کا اہم موقع موجود ہے۔ 

عبداللہ عبداللہ 

مزید :

صفحہ اول -