پہلا صدارتی مباحثہ، ٹرمپ غصے، بے چینی، تناؤ کا شکار، جوبائیڈن مسکراتے رہے 

پہلا صدارتی مباحثہ، ٹرمپ غصے، بے چینی، تناؤ کا شکار، جوبائیڈن مسکراتے رہے 

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) ایک سال سے زیادہ عرصہ تک ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہوئے  بالآخر صدر ٹرمپ اور ان کے حریف ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے منگل کی شب ریاست اوہائیو میں مباحثے کی سٹیج پر ایک دوسرے کا سامنا کیا۔ ڈیڑھ گھنٹے کے اس مباحثے میں ماحول مسلسل تندوتیز رہا جس میں جوبائیڈن نے ٹرمپ کو ”مسخرہ“ بھی کہا اور ایک دفعہ ”شٹ اپ“ کال بھی دی،  لیکن خلاف توقع صدر ٹرمپ نے اس پر فوری ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جوبائیڈن مسلسل سخت جملے بولتے رہے لیکن زیادہ تر مسکراتے رہے۔ صدر ٹرمپ تناؤ اور بے چینی کے ساتھ غصے کے عالم میں بات کرتے رہے۔ ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں ایک یونیورسٹی کے سٹیج کے دونوں کونوں پر 74سالہ صدر ٹرمپ اور 77سالہ جوبائیڈن مباحثے کی روایت کو توڑتے ہوئے ایک دوسرے کو ٹوکتے رہے اور الجھتے رہے۔ رات 9بجے سے ساڑھے 10بجے تک نوے منٹ کا طویل مباحثہ پندرہ پندرہ منٹ کے چھ حصوں اور  موضوعات پر مشتمل تھا۔ صدر ٹرمپ جارحانہ انداز میں بات کرنے کے عادی ہیں لیکن سٹیج پر انہوں نے جوبائیڈن کو بہت کم فقرہ مکمل کرنے دیا۔ ایک مرتبہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ”آپ کے بارے میں کچھ بھی سمارٹ نہیں ہے۔ آپ نے 47سال میں کچھ نہیں کیا“۔ دونوں امیدواروں کے درمیان  سٹیج پر بیٹھے ”فوکس نیوز“ کے کرس ویلس مباحثے کو کنڈکٹ کرتے ہوئے انہیں مداخلت سے روکنے کیلئے بہت مشکل میں پڑے رہے۔ جن موضوعات پر دونوں امیدواروں کو باری باری اظہار خیال کا موقع دیا گیا وہ یہ تھے۔ سپریم کورٹ میں خالی نشست  کو پر کرنے کیلئے صدر ٹرمپ کی طرف سے خاتون جج ایمی بیرٹ کی نامزدگی، کووڈ19- کا پھیلاؤ معیشت، نسلی منافرت، امیدواروں کا ریکارڈ، ماحولیات اور انتخابات کی سالمیت۔ صدرٹرمپ مسلسل جوبائیڈن اور صحافی ویلس کو ٹوکتے رہے اور اپنے لئے الاٹ کئے گئے وقت کی حد عبور کرتے رہے۔ سابق نائب صدر جوبائیڈن نے مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کروناوائرس کی وباء کے بارے میں اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ صدرٹرمپ کے پاس اسے نمٹنے کیلئے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر یہ جانتے بجھتے کہ یہ مہلک وبا ہے لیکن انہوں نے عوام کو اس سے بے خبر رکھا۔ انہوں نے کہا کہ وبا کی پیش قدمی کو روکنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کئے گئے۔ صدر ٹرمپ نے جوبائیڈن کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسے نمٹنے کیلئے شاندار اقدامات  کئے ہیں اور ہم نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے بہت سی جانیں بچائیں ہیں۔ اس کے علاوہ چند ہفتوں میں اس کی ویکسین بھی آرہی ہے جس سے حالات مزید بہتر ہو جائیں گے۔ جوبائیڈن نے صدارتی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے ووٹروں سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالیں اور صدر ٹرمپ کے بیانات سے مت گھبرائیں۔ انہوں نے کہا کہ صدرٹرمپ  ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں پر غیر ضروری  پر شک کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ان کو ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے بڑے پیمانے پر دھاندلی کا خدشہ ہے۔ مباحثے میں صدر ٹرمپ کی ٹیکس ادائیگی پر سوال پر سوال اٹھاتے ہوئے جوبائیڈن نے کہا کہ ان کا ٹیکس ایک سکول ٹیچر سے بھی کم ہے۔ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست نہیں ہے کیونکہ وہ لاکھوں ڈالر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر متعدد بار ذاتی حملے کئے۔ جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ  امریکہ کی تاریخ کے بدترین صدر ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ انہوں نے اپنی صدارت کے 47ماہ میں اتنا کام کیا ہے جتنا جوبائیڈن نائب صدر اور سینیٹر کے طور پر 47 سالوں میں نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے کی صورت میں عوام مایوسی کا شکار ہو جائیں گے کیونکہ ان کی ڈیموکریٹک پارٹی ٹیکسوں میں اضافے کے حق میں ہے۔ جوبائیڈن نے ایک موقع پر اٹلانٹک میگزین کے ایک مضمون کا حوالہ دیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے 2018ء میں پیرس میں پہلی جنگ عظیم کی صدسالہ تقریبات کے موقع پر جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کو شکست خوردہ قرار دیا تھا لیکن صدر ٹرمپ نے اسے غلط قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے جوبائیڈن کے بیٹے ہنٹر پر الزام لگایا جس نے ان کے بقول یوکرین کی گیس کمپنی میں اپنے والد کی نائب صدارت کے وقت ایک اہم عہدہ حاصل کیا۔ یہ صدر ٹرمپ اور جوبائیڈن کے درمیان پہلا صدارتی مباحثہ تھا جس میں موقع پر کوئی حاضرین موجود  نہیں تھے اسے تمام بڑے نشریاتی اداروں اور انٹرنیٹ پر براہ راست نشر کیا۔ 3نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل اب مزید دو مباحثے ہوں گے۔ دوسرا مباحثہ 15اکتوبر کو فلوریڈا اور تیسرا اور آخری مباحثہ ریاست ٹینیسی میں 22اکتوبر کو ہوگا۔

مباحثہ

مزید :

صفحہ اول -