نواز شریف کے علاج کیلئے 10رکنی بورڈ بنایا، ڈاکٹرز پر یقین، تمام رپورٹ ٹھیک ہیں: یاسمین راشد

  نواز شریف کے علاج کیلئے 10رکنی بورڈ بنایا، ڈاکٹرز پر یقین، تمام رپورٹ ٹھیک ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر)صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ جب نوازشریف ہمارے پاس آئے تو ان کی بیماری کی تشخیص کے بعد علاج شروع کر دیا گیا جس کے باعث ان کی حالت قدرے بہتر ہو گئی۔ اگر طبیعت بہتر نہ ہوتی تو وہ باہر جانے کے قابل بھی نہ ہوتے۔ ابھی تک نوازشریف کے پلیٹ لیٹس کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔ نوازشریف نے ملاقات کے دوران علاج سے متعلق مکمل تسلی کا اظہار کیا تھا اور ہم نے نوازشریف کو دل کے علاج کے لئے بھی آفر کی تھی لیکن انہوں نے اپنے معالج کے ذریعے علاج کو بہتر سمجھا۔گزشتہ روزیہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یاسمین راشد نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کو لمحہ بہ لمحہ نوازشریف کی حالت کے بارے میں بتایا گیا۔ نوازشریف بیرون ملک سے علاج کرانے کے بعد واپس آنے کا وعدہ کر کے گئے تھے جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی۔ میں نے ذاتی طور پر نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹرعدنان سے بات کر کے رپورٹس بھجوانے کا کہا لیکن رپورٹس نہ آ سکیں۔ نواز شریف کا رپورٹس بھیجنا فرض بنتا تھا۔ اطلاع کے مطابق 26 فروری کو علاج ہونا تھا لیکن وہ ضد کر کے بیٹھ گئے کہ میری بیٹی آئے گی تو علاج کرواؤں گا۔ باقی بچے وہاں ہیں آپ کو علاج کروا لینا چاہیے تھا۔ آپ بڑی پارٹی کے لیڈر ہیں تو وطن واپس آ کر سیاست کریں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نوازشریف کے علاج کے لئے 10 سینئر ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ تمام رپورٹس ٹھیک ہیں اور مجھے اپنے ڈاکٹرز پر مکمل یقین ہے۔ یاسمین راشد نے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ اگر نوازشریف خود وطن واپس نہیں آتے تو ان کو بلوایا جائے گا جس کے لئے برطانیہ کی حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ نوازشریف کو اپنی ہی حکومت کے دوران نااہل قرار دے دیا گیا۔ نیب کا ادارہ ہم نے نہیں بلکہ خود ان کی حکومت نے بنایا تھا۔ شہبازشریف کی ضمانت عدالت نے مسترد کی ہے لیکن حکومت پر الزام تراشیاں کی جاتی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عدالت کے کہنے پر پیش ہوئے۔ پانامہ لیکس آپ کی حکومت میں آئیں۔ اگر آپ کو نیب نے پکڑا تو آپ کی کرپشن پر پکڑا۔یاسمین راشد نے کہا کہ محکمہ صحت پنجاب نے گزشتہ 2سالوں کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 86افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔پنجاب میں کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹوں کی تعداد کو بڑھا دیا گیا ہے۔ پنجاب میں تعلیمی اداروں کے دوبارہ کھولنے سے ہم بہت زیادہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کروا رہے ہیں۔اساتذہ یا طلباء و طالبات میں اگر کورونا وائرس کی تشخیص ہوتی ہے تو فوراً کنٹیکٹ ٹریننگ شروع کر دی جاتی ہے۔ زیادہ متاثر ہونے والے علاقہ جات میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ٹیسٹوں کی تعداد بڑھانے کیلئے صوبہ بھر میں نئی 18جی ایس ایل لیبز قائم کی گئی ہیں جن میں سے 9صرف لاہور میں موجود ہیں۔ وینٹی لیٹرز کی تعداد کو بھی بڑھایاگیا۔ باقی صوبوں کی نسبت پنجاب میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی شرح بہت کم رہی ہے۔تاریخ میں پہلی بار 32ہزار ہیلتھ پروفیشنلز کو بھرتی کیاگیا۔ پنجاب کے مختلف اہم اضلاع میں 7 مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑا ہسپتال گنگارام میں 600بستروں پر مشتمل بن رہا ہے جو انشاء اللہ دسمبر 2021ء کو مکمل فعال ہوجائے گا۔

یاسمین راشد

مزید :

صفحہ اول -