پاکستان، افغانستان روایتی الزامات بند کر کے اقتصادی، معاشی تعاون پر توجہ دیں: عبد اللہ عبد اللہ 

پاکستان، افغانستان روایتی الزامات بند کر کے اقتصادی، معاشی تعاون پر توجہ ...

  

  اسلام آباد (این این آئی)پاکستانی علماء نے افغانستان میں مصالحتی قومی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ اور ان کے وفد کو یقین دلایا ہے کہ پاکستانی علماء افغانستان کیساتھ قانون اور دستور کے مطابق تعاون کیلئے تیار ہیں۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر قبلہ ایاز کی سربراہی میں علماء کے ایک وفد نے بدھ کو اسلام آباد میں ڈاکٹرعبد اللہ عبد اللہ کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے علماء کے مابین رابطوں اور افغان امن عمل میں علماء کے کر دار پر تبادلہ خیال کیا۔ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہاکہ پاکستانی وفد نے افغان علماء کی جانب سے پاکستانی علماء کو دورے کی دعوت دی جوقبول کرلی اور کہاکہ جب بھی ان کو دعوت ملے گی وہ افغانستان کا دورہ کرینگے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہاکہ چونکہ طالبان افغانستان میں اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں تو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس شریعت کا جو خاکہ موجود ہے وہ افغانستان کیساتھ شیئر کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے آئین کی شق نمبر دو میں ریاست کا مذہب اسلام ہے اور اسی طرح افغانستان کے آرٹیکل ٹو میں بھی افغانستان کا ریاستی مذہب اسلام ہے۔دریں اثناء ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ نے پاکستان اور افغانستان کے غیر حکومتی ڈائیلاگ ٹریک ٹو کے پاکستانی اراکین کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ وہ پاکستان کے دورے سے بہت مطمئن ہو کر جارہے ہیں۔پاکستانی رہنماؤں نے امن عمل میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے اور وہ پاکستان کی یقین دہانیوں سے بہت مطمئن ہیں۔ دونوں ممالک روایتی الزامات ختم کر کے اقتصادی اورمعاشی تعاون پر توجہ دیں۔قطر میں طالبان اور افغان حکومتی وفد کے مذاکرات کے حوالے سے ڈاکٹرعبد اللہ نے بتایاکہ انہوں نے اپنی ٹیم سے صبر اور تحمل کا مظاہرہ اور ممکنہ سمجھوتے کیلئے تیار رہنے کا کہا ہے۔اگرچہ مذاکرات میں بہت سی مشکلات موجودہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات جاری ہیں۔پاکستان اور افغانستان کیلئے تعاون کا نیا دور شروع کر نے کا اہم موقع موجود ہے۔ 

عبداللہ عبداللہ 

مزید :

صفحہ اول -