نیب اقدامات سے اعلیٰ عدلیہ سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں‘ سراج الحق 

  نیب اقدامات سے اعلیٰ عدلیہ سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں‘ سراج الحق 

  

ملتان (پ ر) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ نیب نے ریاست کے اندر ریاست بنا رکھی ہے۔ چیف جسٹس درست کہتے ہیں کہ نیب مخالفین کو ڈرانے دھمکانے، ان کی وفاداریاں تبدیل کرانے اور بازو مروڑنے کا کام کرتاہے۔ نیب کے اقدامات (بقیہ نمبر22صفحہ 6پر)

سے اعلیٰ عدلیہ سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں۔ اب تک یک طرفہ احتساب ہورہاہے۔ نیب کو حکومت میں بیٹھے آٹا و چینی چور نظر آتے ہیں نہ وہ قوم کو لوٹنے والے بڑے بڑے مافیاز پر ہاتھ ڈالتاہے۔ حکومت کے اعصاب بہت کمزور ہیں اسی لیے وہ مخالفین کو دھمکیاں دینے پر اتر آئی ہے۔ حکومت صحافیوں کی پکڑ دھکڑ اور ڈرانے دھمکانے سے انہیں خوف زدہ نہیں کر سکتی۔ حکومت کے پاس میڈیا کے سوالات کا کوئی جواب نہیں اس لیے وہ اپنے چہرے کو صاف کرنے کی بجائے آئینہ توڑنے پر اتر آئی ہے۔ ملک پر لادین اور غیر شرعی نظام مسلط ہے جس کی وجہ سے ہمارا نظریہ اور جغرافیہ محفوظ نہیں۔ جس عظیم مقصد کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا، اس کو فراموش کر دیاگیاہے۔ شعائر اسلام، انبیاؑو صحابہ کرام ؓ کے ناموس کے تحفظ کے لیے عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا۔ حکمران توہین مذہب و انبیاء ؑ کے مسئلے کو جنرل اسمبلی میں اٹھائیں۔ اقوام متحدہ کا چارٹر کسی بھی مذہب کی محترم و مقدس ہستیوں اور عبادت گاہوں کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شرقپور میں اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے میاں جلیل احمد شرقپوری، صدر علماء و مشائخ رابطہ کونسل میاں مقصود احمد، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔  سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان پر مسلط رہنے والی حکمران پارٹیاں ملک و قوم کی آزادی و خود مختاری کا تحفظ نہیں کر سکیں۔ آج بھی ملک پر انگریزکا وہی قانون اور نظام مسلط ہے جس سے نجات کے لیے پاکستان بنایا گیا تھا۔ جس طرح پی پی، مسلم لیگ ن اور مشرف بیرونی اشاروں پر چلتے تھے اسی طرح پی ٹی آئی بیرونی دباؤ کا رونا رورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تینوں پارٹیاں بیرونی ایجنڈے کی تکمیل میں لگی ہوئی ہیں جبکہ عوام جان و مال اور عزت کے تحفظ سے محروم ہیں۔ اگر اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں حضرت محمد ؐ، صحابہ کرام ؓ اور اہل بیت ؒ کی ناموس کا تحفظ نہیں ہوسکتا تو دوسروں سے ہم کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ توہین رسالت ؐ اور قرآن کریم کی اہانت کرنے والے مجرموں کو ہر حکومت پروٹوکول دے کر باہر بھجوادیتی ہے۔ اب تو کسی نے ویزے اور ایک پیسہ خرچ کیے بغیر امریکہ برطانیہ یا کسی دوسرے ملک جانا ہوتو وہ قرآن کریم یا توہین رسالت ؐ کا ارتکاب کرتاہے اور حکومت اسے راتوں رات ملک سے فرار کرادیتی ہے۔ سینیٹر سرا ج الحق نے بابری مسجد کو شہید کرنے والے بدبختوں کو بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے بری کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ آج اگر امت میں کوئی صلاح الدین ایوبی ؒ، محمد بن قاسم ؒ یا محمود غزنوی ؒ ہوتا تو مودی کو مسجد یں گرانے اور مسلمانوں کے قتل عام کی جرأ ت نہ ہوتی۔آج عالم اسلام کے بزدل حکمران کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل نہیں جس کی وجہ سے امت کو یہ دن دیکھنا پڑے ہیں۔

سراج الحق

مزید :

ملتان صفحہ آخر -