نئے اضلاع کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ایجنڈے میں سرفہرست ہے، محمودخان 

نئے اضلاع کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ایجنڈے میں سرفہرست ہے، محمودخان 

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے شعبہ صحت اور اعلیٰ تعلیم میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ عوام کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی موجودہ حکومت کے اولین اہداف میں شامل ہے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جس میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کامران بنگش، رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر حقیقت پسندانہ ترقیاتی حکمت عملی وضع کی گئی ہے جس کے تحت منصوبوں کاٹائم لائن کے مطابق اجراء اور تیز رفتار تکمیل کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ عوامی مفاد میں شروع کئے گئے منصوبوں کا جلد افتتاح چاہتے ہیں تاکہ عوام ان منصوبوں سے مستفید ہو سکیں۔ ہر محکمہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے۔ اس مقصد کے لئے تمام تر پیشگی لوازمات کو جلد پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کو صحت اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں جاری مختلف منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ موجودہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال مٹہ کو کیٹگری 'بی' میں اپگریڈ کرنے کے حوالے سے ضروری کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور رواں سال نومبر میں منصوبے پر عملی کام شروع کردیا جائے گا، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سوات میں پیڈز ہسپتال کے قیام کے لیے زمین کی حد بندی کر لی گئی ہے جبکہ مذکورہ منصوبے کا پی سی 2 بھی متعلقہ فورم سے پہلے سے منظور ہو چکا ہے اور رواں سال دسمبر میں سول ورک شروع کر دیا جائے گا۔ سوات زرعی یونیورسٹی کے قیام کے لیے زمین کی نشاندہی ہو چکی ہے جس کی باضابطہ خریداری کے لیے سمری بھی متعلقہ حکام کو بھیج دی گئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ آئندہ سال جنوری میں یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ وومن یونیورسٹی سوات کے بارے میں بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے زمین کی حد بندی اور ہینڈنگ / ٹیکنگ آور ہوچکی ہے جبکہ عنقریب منصوبے پر کام شروع کر دیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیدو میڈیکل کالج میں ڈینٹسٹری کالج قائم کرنے لیے پی سی 2 منظور ہو چکا ہے جبکہ منصوبے کے لیے کنسلٹنٹ بھی ہائر کر لیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ ٹیکنالوجی سوات کے قیام کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر ہائر کر لیا گیا ہے جو منصوبے کی تمام تر سرگرمیوں کو دیکھے گا۔ منصوبے پر رواں سال دسمبر تک کام شروع کر دیا جائے گا جو آئندہ تین سال تک مکمل ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو مقررہ ٹائم لائن کے مطابق تمام منصوبوں کو مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں میں التواء کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے لوگوں کی محرومیوں کا ازالہ موجودہ حکومت کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، حکومت کو قبائلی عوام کی مشکلات کا نہ صرف بخوبی احساس ہے بلکہ ان مشکلات کے ازالے کے لئے دستیاب وسائل کا بروقت استعمال یقینی بنایا جارہا ہے۔ قبائلی عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے جارہے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں خاصہ دار اور لیویز کو باقاعدہ پولیس میں ضم کیا گیا ہے جو بلاشبہ مشکل مالی حالات میں کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ضلع مہمند سے قبائلی عمائدین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایم این اے ساجد خان مہمند، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری داخلہ، کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر مہمند اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجودتھے۔ وزیراعلیٰ نے وفد سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ وہ خطے کے لئے قبائلی عوام کی قربانیوں کے معترف ہیں اور قبائلی عوام کو درپیش مشکلات کا بھرپوراحساس رکھتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے خود بھی ان حالات کا براہ راست سامنا کیا ہے۔ محمود خان نے کہا کہ سابقہ فاٹا کا صوبے میں انضمام اور وہاں نئے نظام کا اجراء بلا شبہ ایک بڑا چیلنج تھاجسے موجودہ حکومت نے پورا کیا ہے،قبائلی عوام سے کئے گئے وعدے رفتہ رفتہ پورے کئے جارہے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ کسی بھی خطے یا علاقے میں نظام کی تبدیلی کے عمل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم ہمت اور حوصلے کے ساتھ مشکل سے مشکل ہدف بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حکومت نے نئے اضلاع تک صوبائی اداروں اور محکموں کی کامیاب توسیع یقینی بنا کر اس امر کا عملی ثبوت دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ترقیاتی اور اصلاحاتی عمل میں قبائلی عوام کی خواہشات اور توقعات کاپوراخیال رکھا گیا ہے اور آئندہ بھی قبائلی عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔ عمائدین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کیلئے صوبائی حکومت کی دلچسپی اور کاوشوں کو سراہا۔ 

مزید :

صفحہ اول -