چین کا قومی دن اور مڈآٹم فیسٹیول

چین کا قومی دن اور مڈآٹم فیسٹیول
chinese-flag
کیپشن:   china-flag سورس:   

  

آج یکم اکتبوبر چین میں دوہری خوشی کا دن کا دن ہے۔ آج چینی قوم اپنے ملک کی اکہترویں سالگرہ اور اپنا روائتی تہوار مڈآٹم فیسٹیول منا رہی ہے۔ چین میں قیام کے دوران اس کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی ثقافت کے رنگوں کا مشاہدہ کر نا  بھی ایک حسین تجربہ ہے۔ ایک ارب چالیس کروڑ لوگوں کا یہ ملک محنتی  افراد کی ایک ایسی فوج ہے جس کے سر پر صرف ایک ہی دھن سوار ہے اور وہ دھن ہے اپنے ملک کو عظیم تر بنانے کی۔

گزشتہ صدی کی  80 اور 90 کی دہائی کے بعد  سےچین  میں بہت سے لوگ کام کاج اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے دوردراز علاقوں کا سفر اختیار کرتے ہیں اور یوں اپنی  ذمہ داریوں کی انجام دہی کے سلسلے میں سال کا بیشتر حصہ یہ  لوگ اپنے پیاروں سے دور گذارتے ہیں۔ سال میں کچھ ایسے روائتی تہوار آتے ہیں جب  بچھڑوں کو اپنوں سے ملنے کا موقع میسر آتا ہے۔ ایسا ہی ایک موقع "مڈآٹم فیسٹیول" یا مون کیک فیسٹیول ہے۔

چین میں وسط خزاں کا یہ تہوارہر سال چین کی قمری تقویم کے مطابق آٹھویں مہینے کے 15 ویں دن منایا جاتا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں اس تہوار کا ذکر تانگ خاندان (618 ء تا 907 ء) کے عہد حکومت سے جا ملتا ہے ، اس کے بعد یہ تہوار سونگ عہد  (960ء تا 1279ء) نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا تھا۔۔ صدیاں بیت گئیں لیکن اس تہوار کو منانے میں چینیوں کے جذبے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ اس تہوار سے بہت سی روائتیں جڑی ہیں ۔وسط خزاں کے تہوار کے رواجوں میں چاند کی تعریف کرنا اور مون کیک کھانا وغیر شامل ہے۔ وسط خزاں کی رات کو ، آسمان میں جگمگاتا پورا چاند چینی لوگوں کے اتحاد اور ہم آہنگی کی علامت ہے۔  

چینی نئے سال یعنی جشن بہار  کے بعد وسط خزاں کا تہوار چین کا دوسرا عظیم الشان تہوار ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب اہلخانہ ایک بار پھر مل بیٹھتے ہیں، پورے چاند کی تعریف کرتے ،خوشیاں مناتے ہیں اور مون کیک کھاتے ہیں ۔  چین میں  پچاس سے زائد قومیتیں آباد ہیں ۔ لہذا چین کی مخلتف قومیتیں  اور علاقے اپنے اپنے انداز میں اس تہوار کو مناتے ہیں۔

یکم اکتوبر پاکستان کے سب سے قریبی دوست اور ہمسائیہ ملک چین کے قیام کا دن ہے۔ آج سے اکہتر برس پہلے چینی قوم نے اپنی نشاۃ ثانیہ کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ آج ہر چینی کا مسرور چہرہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس سفر کے دوران شاندار کامیابیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ موجود برس اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ یہ چین میں غربت کے خاتمے کا سال ہے۔ اس سال کے آغاز میں چین سمیت دنیا کو نوول کورونا وائرس کی صورت ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی رہنمائی میں چینی قوم نے نہ صرف خود اس وبا سے نجات حاصل کی بلکہ دنیا کی بھی وبا کا بھر پور مقابلے کرنے میں مدد کی۔

اکہتر برسوں میں چین کی جانب سے حاصل کی جانے والی یہ کامیابیاں چینی کمیونسٹ پارٹی کی رہنمائی میں چینی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ نظام کی وجہ سے ہیں۔ ان کامیابیوں کو رقم کرنے کے لئے چینی قوم نے نظم و ضبط کے ساتھ سخت جدوجہد کی اور کامیابی کا راستہ ترک نہیں کیا، نہ ہی اپنے ہدف کو آنکھوں سے اوجھل ہونے دیا۔

اس وقت چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ چین اپنے اس مقام کو مستحکم بناتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ ترقی اور جدوجہد کے اس سفر میں چینی قوم کی سخت محنت کے ساتھ ساتھ بہترین منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔ اب تک چین کا زیادہ تر انحصار کم درجے کی حامل صنعتوں اور مینو فیکچرنگ کے شعبے پر رہا۔ عہد حاضر میں ایک نئی جہت بھی اس فہرست میں شامل ہو چکی ہے اور وہ ہے انوویشن ،حالیہ دنوں چین کی صف اول کی یونیورسٹی چھن ہواکے ایور گرینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کی گئی ایک تازہ تحقیق کے مطابق چین کے دس بڑے شہروں کی ترقی کے اہم ترین اہداف میں انوویشن سر فہرست ہے۔ چینی شہر انوویشن کو ترقی کے انجن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ چین کا کردار اب دنیا کے مینو فیکچرنگ سینٹر سے تبدیل ہو چکا ہے۔ ایشیا کا یہ عظیم ملک دنیا کو جدت کاری کی حامل نئی ترقی سے روشناس کروا نے میں اپنا قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے 31 اکتوبر ، 2017 کو ، چینی کمیونسٹ پارٹی کے سیاسی بیورو کی مجلس قائمہ کی سربراہی کرتے ہوئے پارٹی کی پہلی کانگریس کے مقام کا دورہ کرنے کے لئے، شنگھائی اور جیاژنگ، زی جیانگ کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پارٹی کے قیام کے اولین مقام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس عہد کی تجدید کرنا تھا جس کے تحت اس پارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس کے علاوہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی نئی قیادت کے سیاسی عزم کو مزید مضبوط بنانا بھی مقصود تھا۔

صدر شی جن پھنگ نے بار ہا لفظ "چھو شن کا استعمال کیا جس کے معنی ہیں ابتدائی مقصد ۔ جیسا کہ انھوں نے انیسویں قومی کانگریس کی رپورٹ میں زور دیا، کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی اصل وجہ اور مشن چینی عوام کے لئے دائمی خوشی کا حصول اور چینی قوم کی عظمت رفتہ کی بحالی ہے۔ یہی اصلی وجہ اور مشن چینی کمیونسٹوں کو آگے بڑھنے کے لئے تحریک دیتا ہے اور بنیادی قوت محرکہ فراہم کرتا ہے۔آج اس موقع پر ہم چینی دوستوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -