”کرونا وائرس پر بین الاقوامی امن کانفرنس 2020“

”کرونا وائرس پر بین الاقوامی امن کانفرنس 2020“
”کرونا وائرس پر بین الاقوامی امن کانفرنس 2020“

  

مکہ مکرمہ (محمدعامل عثمانی )  بین الاقوامی امن کانفرنس 2020 میں کرونا وائرس کو شکست دینے کے لئے اتحاد کا مطالبہ کیاگیا،  ’سمیرہ عزیزایونٹس“ کمپنی نے اقوام ِ متحدہ کے زیرِ نگراں ’ سپمودہ انٹرنیشنل ‘ کے ما تحت اس ویبی نار کا انعقاد کیا۔دنیا بھر سے تقریباً چھ لاکھ افراد، روٹری کلب کے ممبران اور ڈھائی سو امن پسندوں نے آن لائن کانفرنس کا مشاہدہ کیا۔اس بین الاقوامی امن کانفرنس کا موضوع ”کرونا وائرس کو شکست دینے کے لئے اتحاد کا مطالبہ“ تھا۔ مندرجہ ذیل نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا:

1.  ایسی متحد اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جوکرونا وائرس کے وبائی مرض کا زور کم کرسکے۔

2.  ایک بہتر دنیا کی تشکےل کے لئے دانشمندانہ خیالات کاتبادلہ بہتر ابتداءاورمثبت تبدیلیاں لاسکتا ہے۔

3. کرونا وائرس کےلئے لڑنے والے ہر ملک میںعظیم’ فرنٹ لائنر‘ لوگوںکواعزازدینا ہماری کوششوں کو د±گنا طور پراثرانگیز کرسکتا ہے۔

4. کرونا وائرس نے فرد کنبہ ، گروہ ، ادارہ اور حکومتوں اور معیشت کو کس طرح متاثر کیاہے۔

5.  کرونا وائرس کی اختتام پذیری کے بعد کیا توقعات وابستہ ہےں؟

6.  مستقبل میںآنے والی ممکنہ وبائی بیماری سے نپٹنے کے لیے کیا منصوبے ہیں؟ 

 کانفرنس کی میزبانی سعود ی میڈیا کی پراثرشخصیت اور بزنس وومن سمیرہ عزیز نے کی۔کانفرنس کا افتتاح ”سپمودہ انٹرنیشنل “چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کارگزار صدرمسٹر آمور بی پینڈی لیڈے، ایڈ ڈی نے کی۔انہوں نے کانفرنس میںسپمودہ انٹرنیشنل کے بانی عالی جناب ڈاکٹر کماد علی کا پیغام پڑھ کر سنایا۔

 کانفرنس کے مقررین میں انسان دوست،امن پروموٹر اور اینارگروپ کے چیئرمین جناب شیام سنگھانیا، بین الاقوامی میڈیا شخصیت اور نیلسن منڈیلا کے سابق مشیر ڈاکٹر طارق خان نیازی ، اور امن پروموٹر اور عالمی امن دوستی مشن کے صدر جناب نےلے بنڈشامل تھے۔

 کرونا وائرس کی وبائی بیماری کے پر آشو ب دور مےں اقدامِ عمل کرتے ہوئے ’سمیرہ عزیز ایونٹس“ کمپنی نے ستائےس ستمبر کو آن لائن پلیٹ فارم (زوم) کے ذریعے ایک بین الاقوامی امن کانفرنس کاانعقاد کیا ،جس کا عنوا ن ”کرونا وائرس کو شکست دینے کے لئے اتحاد کا مطالبہ“ تھا۔ایک غیر منفعتی ، غیرجانبدار غیر سرکاری تنظیم سپمودہ انٹرنیشنل برائے امن و ترقی ، جو کہ اقوام متحدہ (ڈپارٹمنٹ آف اکانومکس اینڈ سوشل افیئر)،یورپین کمیشن ، آسیان یوتھ ،فرینڈس آف کامن ویلتھ اور اٹھائےس دیگر نامور بین الاقوامی انسان دوست تنظیموں سے ملحق ہے، کے زیرسایہ عوام کے لئے Sameera.Aziz.Official کے فیس بک پیج پراس کانفرنس کو براہ راست نشر کیا گیا۔

 کانفرنس میں ”بانگسامورو آئیل اینڈ فیول کارپوریشن “کے صدر اور سپمودہ انٹرنیشنل چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کارگزار صدرجناب آمور بی پینڈی لیڈے، ایڈ ڈی نے سپمودہ انٹرنیشنل کے بانی عالی جناب ڈاکٹر کماد علی کا پیغام پیش کیا ،جس میں درج تھا کہ ”ہم نے ایسے منصوبوں کے ادراک کے لئے بہت جدو جہد کی ہے ،جن سے ہمارے خیال میں فلپائن اور دیگر عالمی مقامات پر متعدد معاشی و سماجی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اس طرح ،ہم احترام کے ساتھ ان مجوزہ فائدہ مند منصوبوں کی مالی اعادے میں آپ کا پورا تعاون اورمدد چاہتے ہیں، جوفلپائن اور جنوب مشرقی ایشیاءکے عوام کے لیے ہےں۔“

 آنے والے برسوں میںتنظےم کی کاروباری منصوبہ بندی پیش کرتے ہوئے سپمودہ انٹرنیشنل نے ان سرمایہ کاروں اور مخیر حضرات کا خیرمقدم کیا، جو تعلیم ، زراعت ، مائیکرو فنانس ، اسلامک بینکنگ ، سستی ہاو¿سنگ منصوبے ، زراعت کے تجارتی مراکز ، حلال فیڈ پروڈکشن اینڈ پروسیسنگ پلانٹس ، حلال بکرے ، مویشی اور پولٹری کی پیداوار ، نوجوانوں اور کھیلوں کے مراکز ، آئل ڈپو اور پیٹرول اسٹیشن کے شعبوں میں تنظےم کی مالی اعانت میں دلچسپی لیں گے۔

 سپمودہ کے بزرگ بانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ،”سپمودہ نے مستقبل میں فلپائن اور جنوب مشرقی ایشیاء کے دیگر علاقوں کے دیہی علاقوں میں اسپتال ، صحت کے مراکز ، فارمیسیز اور رضاکارانہ ایمبولینس کی خدمات قائم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ ان غریب اور پسماندہ شہریوں کی طبی ضروریات کی تکمیل کریں گے ،جو اسپتال میں داخلے کے اخراجات کے متحمل نہیں ہوسکتے۔“ سپمودہ انٹرنیشنل کی شاخیں 193 ممالک میں موجود ہیں ،جن کی نمائندگی اس کے خیر سگالی کے سفیر مفاہمت،دوستی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون کے ذریعے رضاکارانہ طور پر کرتے ہےں۔

 عالی جناب ڈاکٹر کماد علی نے اپنے پیغام میں یہ ذکر بھی کیا کہ ”پوری دنیا میں موجود عظیم مخیر حضرات کے تعاون سے سپمودہ پاکستان کے مشہوراور بے شمار ایوارڈ حاصل کرنے والے ایدھی فاو¿نڈیشن کے ماڈل پر انسان دوست ادارے قائم کرے گا۔“

 دنیا بھر سے تقریباًچھ لاکھ افراد، روٹری کلب کے مبران اور اور ڈھائی سو امن پسندوںنے اس آن لائن کانفرنس کامشاہدہ کیا۔ میزبان اور آرگنائزر،سمیرہ عزیز گروپ آف کمپنیوں کی چیئرپرسن’ سمیرہ عزیز ‘نے کانفرنس کا مقصد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا کانفرنس 2020 کا انعقاد امن اور احترام کے تصورات کے فروغ کے لئے کیا گیا ہے اور بین الاقوامی مقررین کا مقصد ”کرونا وائرس کو شکست دینے کے لئے اتحاد کے مطالبے“ پر اظہار خیال کرنا ہے۔

 ”کانفرنس کا انعقاد اتحاد اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے کیا گیا ہے، جس سےکرونا وائرس کے وبائی امراض میں کمی آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تقریب مےں ایسے نکات پر سوچ بچار کی دعوت دی گئی ہے ،جو دنیا میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہےں اور بہتر دنیا کی اچھی ابتداء نیز کرونا وائرس سے لڑنے والے عظیم فرنٹ لائنروں کے احترام کےلئے سیر حاصل گفتگو کی دعوت دی گئی ہے۔کرونا وائرس نے کس طرح انفرادی خاندان ، گروہ ، اداروں، حکومتوں اور معیشت کو متاثر کیا اوراس وباءکے ختم ہونے پر توقعات اور مستقبل میں آنے والی وبائی بیماریوں سے بچاو¿کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے آج ہم س ےہاں جمع ہوئے ہےں“۔

 جناب شیام سنگھانیا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ آج ہر محکمہ کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ،جیسا کہ ہندوستان نے کیا ۔ انہوں نے دنیا میں سودمند او رموثر طبی سہولیات کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب مےں ”کرونا وائرس سے لڑنے والے بہادرفرنٹ لائنرز اور شعبہ¿ صحت سے منسلک پیشہ ور افراد کی خدمات کا احترام کرنے،مریضوں کی بدنامی اور امتیازی سلوک کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت اورکرونا وائرس کے ساتھ مقابلہ کرنے والے ہیلتھ کیئر کے کارکنان؛روحانیت کے ساتھ مثبت سوچ کو بڑھانے کی اہمیت؛ ہر قوم کے لیے اس بیماری پر قابو پانے کی ضرورت اور ایسی وجوہات ،جوبیماری کے پھیلاو¿ کا باعث ہےں؛اس آزمائشی وقت میں قوموں کے مابین امن اور ہم آہنگی کی بحالی؛کرونا وائرس سے متاثر کنبے پر معاشرتی اثرات اور ہندوستان میں اس نے کیسے ’او ٹی ٹی‘ اور ٹیلی ویژن ’ ٹی آر پی ‘کو فروغ دینے میںکس طرح ڈیجیٹل انقلاب برپا کیا؛ لاک ڈاو¿ن کے بعدآہستہ آہستہ معیشت کا آغاز؛ڈیجیٹل محفلوں کے ذریعے آرٹ ، موسیقی اور ثقافت کافروغ کے موضوعات پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جب معیشت ماضی کے مقابلے سب سے کم تر ہے ، حکومتوں کو شہریوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان نے کرونا وائرس کے خلاف عالمی جنگ میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا کیونکہ یہ پہلا ملک تھا ،جس نے چین اور ایران سے آنے والے مسافروں کی اسکیننگ شروع کی تھی۔

 جناب سنگھانیا نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا، ”وقت آگیا ہے کہ مثبت رہیں اور اپنی اپنی حکومتوں کی حمایت کریں۔ میں پھر ہر عالمی شہری سے اپیل کروں گا کہ وہ مذہب ، ذات پات ، نسل ، قومیت ، سیاسی پس منظر سے قطع نظر متحد ہوجائیں ، اپنی اپنی حکومتوں کی حمایت کریں ، کیونکہ کرونا وائرس جیسی وبائی بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر فرد کی انفرادی اہمیت ہے۔“

  ڈاکٹر طارق خان نیازی ،جو کہ ایک بین الاقوامی میڈیا پرسن اور نیلسن منڈیلا کے سابق مشیررہ چکے ہےں،انہوںنے اعتراف کیا کہ بحران کا سب سے بڑا جھٹکا یہ ہے کہ بین الاقوامی تعاون بہت کمزور ہوگیاہے ، لیکن ساتھ ہی ساتھ داخلی ملکی پالیسیاں زیادہ مضبوط ہوئی ہیں۔ ڈاکٹرنیازی نے کہا کہ ،”حکومتوں کی جماعت کے طور پر ، ہمیں ایک نئی دنیا کی تشکیل کے لئے حکومتی مداخلت کو وافر طور پر استعمال کرنا چاہئے۔ےہ حکمتِ عملی ہمارے معاشرتی نظریات کے مطابق ہوگی۔ ہمیں انسانیت اور فطرت کے مابین تعلقات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔“

 نئے سرے سے بہترین تعمیر کےلئے انتہائی پراعتماد سوچ کے حامل ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ اپنے علمی ادراک کا پتہ لگائیں۔”اٹلی میں اپنے ابتدائی مراحل میںکرونا وائرس بحران کسی ’بحران‘ کی طرح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔وہاںہنگامی وقت کی ابتدائی صورت حال نے عوام اور کئی پالیسی ساز حلقوں میں شکوک و شبہات پیدا کئے، حالانکہ متعدد سائنس دانوں نے اس آفت کی ہفتوں پہلے تباہی پھیلنے کے امکانات کی تنبیہ بھی کی تھی۔در حقیقت ، فروری کے آخر میں کچھ اہم اطالوی سیاست داں شہر میلان میں عوامی مصافحہ میں مصروف رہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ وائرس کی وجہ سے معیشت کو رکنا نہیں چاہئے۔ایک ہفتہ بعد ان سیاستدانوں میں سے ایک کیکرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔“ نیازی نے کہا۔

 ڈاکٹر نیازی نے ےہ بھی کہا کہ”پاکستان کے بہادر اوربیباک وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے معزول حکمران طبقے اور حزب اختلاف کی طرف سے ملک گیر سخت لاک ڈاو¿ن کے مطالبے کے باوجود کل اسی فیصد غریب آبادی (روز مرہ کی مزدوری کے مزدور طبقے) کو فاقہ کشی سے بچانے کے لئے ایک اسمارٹ لاک ڈاو¿ن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ،جس کی اب دنیا بھر میں تعریف کی جارہی ہے“۔ 

  جناب نیلے بنڈ، فروغ امن میں کوشاںاور” ورلڈ پیس فرینڈشپ مشن“ کے صدر نے کرونا وائرس کے خلاف بہتر نتائج کے لیے امن ، یقین اور تعاون کی اہمیت کے بارے میں بات کی۔ اہوں نے کہا کے ”بے وجے بہت سے ممالک ایک دوسرے پر یہ وبائی بیماری پھیلانے کا الزام لگارہے ہیں اور دنیا میں تناو¿ بڑھاتے ہوئے اپنی دشمنی کو نپٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر دنیا میں ایک پرامن اور سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے تو اس کے بعد تحقیق ، ادویات ، ویکسین اور حفاظتی اقدامات سے متعلق مثبت بات چیت اور معلومات کا مناسب تبادلہ ہوگا ،جو اس کے نقصانات سے بچنے کے لئے اپنایا جاسکتا ہے۔“

 اپنے ’عالمی امن اور دوستی مشن‘ کے ذریعے مثبت مقاصد کے بارے مےں بتاتے ہوئے جناب بنڈ نے کہا کہ” عالمی سول سوسائٹی کی یہ مہم معاشرے مےں خصوصاً نوجوان نسل کو اکٹھا کرکے دنیا میں امن اور دوستی کی حوصلہ افزائی کرنے کا ارادہ کرکے سامنے لائی گئی ہے۔ ہم امن اور دوستی کی موثر مہم چلانے کے لئے اپنے شریک میزبان روٹری کلب آف ناگپور ویسٹ کی بین الاقوامی تنظیم کی مدد حاصل کر رہے ہےں۔ہم نے مقامی معاشرے کے تمام شعبوں تک پہنچنے کے لئے مختلف ممالک کے سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں سے بھی رابطہ کیا ہے۔“

 انہوں نے بتایا کہ ہم ”امن کی شمعیں “روشن کرنے کے لئے مخصوص مقامی تاریخ اور وقت پر ”دنیا میں سب سے بڑے اجتماع“ کی صورت میںگنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی کوشش کریں گے“۔ انہوں نے کہا کہ اس سے عالمی سول سوسائٹی کے حقیقی تعلقات اور دنیا میں امن کے لیے اس کے احترام کی خواہش کا اعلیٰ اظہار ہوگا۔

مزید :

عرب دنیا -