لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگار ہونے والے آدمی نے جسم فروشی سے پیسے کمانے کا فیصلہ کرلیا، لیکن پھر اس چکر میں لاکھوں روپے سے ہاتھ دھو بیٹھا، عبرتناک کہانی

لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگار ہونے والے آدمی نے جسم فروشی سے پیسے کمانے کا ...
لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگار ہونے والے آدمی نے جسم فروشی سے پیسے کمانے کا فیصلہ کرلیا، لیکن پھر اس چکر میں لاکھوں روپے سے ہاتھ دھو بیٹھا، عبرتناک کہانی

  

ممبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) نوسربازلوگوں کو لوٹنے کے نت نئے طریقے وضع کرتے ہیں۔ اب بھارت میں ایک آدمی کو ایسا لالچ دے کر 15لاکھ بھارتی روپے(تقریباً 30لاکھ پاکستانی روپے) سے محروم کر دیا گیا ہے کہ کئی مرد اس لالچ میں آنے کو تیار کھڑے ہوں۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق ممبئی کے رہائشی اس آدمی کا کاروبار کورونا وائرس کی وجہ سے ٹھپ ہو چکا تھا اور اسے شدید خسارہ ہو رہا تھا۔ اسی دوران اسے ایک خاتون کی کال آئی جس نے اسے بتایا کہ وہ ایک ’اسکارٹ ایجنسی‘ سے بول رہی ہے۔ اس نے آدمی سے اس کی عمر اور دیگر کوائف پوچھے اور اسے کہا کہ وہ ان کے پاس ’میل اسکارٹ‘ (جسم فروش مرد، جو خواتین کو سروس مہیا کرتے ہیں) کی نوکری کر لے۔ اس نوکری میں وہ 20سے 25ہزار بھارتی روپے روزانہ کما سکتا ہے۔

یہ آدمی لالچ میں آ گیا اور خاتون نے اس سے رجسٹریشن کے عوض ڈیڑھ لاکھ روپے بٹور لیے اور اسے ایک خاتون کا فون نمبر دے دیا جس کو اسے سروس مہیا کرنی تھی۔ اس خاتون نے آدمی سے پوچھا کہ کیا اس کے پاس اسکارٹ ہونے کا لائسنس ہے؟ آدمی کے انکار کرنے پر خاتون نے کہا کہ وہ پہلے اپنی ایجنسی سے رابطہ کرے اور لائسنس حاصل کرے۔ چنانچہ اس بہانے سے ایجنسی سے اس سے مزید 2لاکھ روپے لے لیے۔ اسی طرح حیلے بہانوں سے ایجنسی نے مجموعی طور پر اس آدمی سے 15لاکھ روپے ہتھیا لیے جس پر وہ پولیس کے پاس چلا گیا اور مقدمہ درج کروا دیا۔ پولیس کے مطابق ایک موقع پر نوسربازوں نے اس آدمی کے اکاؤنٹ میں 10ہزار روپے ڈیپازٹ کروا دیئے تھے تاکہ اس کا اعتماد جیت سکیں۔ ان کا یہی حربہ زیادہ کامیاب رہا اور آدمی انہیں رقم بھیجتا چلا گیا۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -