ترکی سے جنگجو آذربائیجان کی مدد کیلئے پہنچ گئے؟ روس نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا، صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہوگئی

ترکی سے جنگجو آذربائیجان کی مدد کیلئے پہنچ گئے؟ روس نے تہلکہ خیز دعویٰ ...
ترکی سے جنگجو آذربائیجان کی مدد کیلئے پہنچ گئے؟ روس نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا، صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہوگئی

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق سوویت ریاستوں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نیگورنو کیرابیخ کے علاقے کی ملکیت پر ہونے والی لڑائی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور خطے پر جنگ مسلط ہونے کے سائے گھنے ہوتے جا رہے ہیں۔ دیگر کئی ممالک بھی ان دونوں ملکوں کی حمایت میں کھڑے ہوئے ہیں جن میں پاکستان، ترکی، اسرائیل اور او آئی سی آذربائیجان کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ ایران، روس اور دیگر چند ممالک آرمینیا کے پیچھے کھڑے ہیں۔ اب اس لڑائی کے حوالے سے روس نے ترکی پر انتہائی سنگین الزام عائد کر دیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق روس کی طرف سے ترکی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے شام اور لیبیا سے دہشت گرد نیگورنوکیرابیخ کے علاقے میں بھیج دیئے ہیں جو آذربائیجان کی فوج کے ساتھ مل کر آرمینیا کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان محدود پیمانے پر چھڑی اس جنگ میں اب تک سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ تاہم حتمی تعداد کے حوالے سے عالمی میڈیا کی رپورٹس میں تضاد پایا جا رہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کی طرف سے اپنے اپنے اعدادوشمار بیان کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز آرمینیا کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ترکی کا ایک ایف 16طیارہ مار گرایا ہے تاہم آذربائیجان اور اس کے اتحادی ترکی کی طرف سے آرمینیا کے اس دعوے کی تردید کر دی گئی ہے۔ اس تردید کے بعد آرمینیا کی طرف سے اس طیارے کے جاں بحق ہونے والی پائلٹ کی تصاویر جاری کر دی گئی ہیں۔ دوسری طرف آذربائیجان کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کی فوج نے 500سے زائد آرمینیا کے فوجی ہلاک کر ڈالے ہیں اور 2300کو قیدی بنا لیا ہے۔ 

واضح رہے کہ اس علاقے کی ملکیت کے تنازع پر دونوں ملکوں میں کئی جنگیں ہو چکی ہیں۔ آخری خونریز جنگ 1994ء میں اختتام پذیر ہوئی تھی اور دونوں ملکوں میں سیزفائر کا ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس کے بعد اب ایک بار پھر دونوں میں مڈبھیڑ ہو گئی ہے۔ اس لڑائی میں دونوں اطراف سے سویلین آبادیوں کو بھی نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کی یہ جنگ عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، کیونکہ ترکی پوری مضبوطی کے ساتھ آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کی فوج آذربائیجان کی فوج کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے، جس سے روس کو شدید تحفظات لاحق ہو چکے ہیں کیونکہ اس کا آرمینیا میں ایک فوجی اڈا بھی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -