پارٹی رہنماﺅں نے بات نہیں سنی،وزیراعلیٰ کے پاس نہ جاتا تو کس کے پاس جاتا:مولوی غیاث الدین 

 پارٹی رہنماﺅں نے بات نہیں سنی،وزیراعلیٰ کے پاس نہ جاتا تو کس کے پاس ...
 پارٹی رہنماﺅں نے بات نہیں سنی،وزیراعلیٰ کے پاس نہ جاتا تو کس کے پاس جاتا:مولوی غیاث الدین 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ن لیگ کی رکنیت سے فارغ ہونے والے ایم پی اے مولوی غیاث الدین نے کہا کہ وہ بیٹے کے تشدد کے خلاف فریاد لے کروزیراعلیٰ پنجاب سے ملنے کے لیے گئےتھے۔

نجی چینل ہم نیوز کے مطابق عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد ن لیگ کی رکنیت سے ہاتھ دھونے والے ممبر پنجاب اسمبلی نے کہا ہے کہ میں بیٹے پر تشدد کے خلاف فریاد لے کر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کے لیے گیا تھا، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد پارٹی کی جانب سے شو کاز نوٹس ایشو کیا گیا تھا جس کا جواب میں پہلے ہی دے چکا ہوں مگر پھر بھی آج مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا۔جواب دینے کے باوجود میرا موقف سنے بغیر مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا۔شکرگڑھ سے منتخب ممبر پنجاب اسمبلی مولوی غیاث الدین نے کہا کہ ڈی پی او نارووال نے میرے بیٹے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بارے میں فریاد لے کر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے پاس گیا۔ا ن کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنماﺅں کو اپنی پریشانی کا بتایا مگر انہوں نے مدد نہیں کی تو وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس شکایت لے کر نہ جاتا تو کہاں جاتا؟انہوں نے کہا کہ ہمارے کچھ لیڈر بیرون ملک چلے گئے ہیں جب کہ کچھ جیل میں ڈال دیے گئے ہیں ہم کس کے پاس فریاد لے کر جائیں؟

 خیال رہے کہ مسلم لیگ ن نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے اپنے 5 ارکان کو پارٹی سے نکالنے کافیصلہ کرلیا ہے،جن میں اشرف انصاری، جلیل شرقپوری، فیصل نیازی، نشاط ڈاہا اور مولوی غیاث الدین شامل ہیں۔

مزید :

قومی -