" مجھ سے پوچھے بغیر آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتے تو میں فارغ کردیتا"

" مجھ سے پوچھے بغیر آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتے تو میں فارغ کردیتا"

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ پاکستان میں سول اور فوجی تعلقات میں مسئلہ رہا ہے، اگر ماضی میں کسی آرمی چیف نے کوئی غلطی کی تو کیا ہمیشہ کیلئے پوری فوج کو برا بھلا کہیں؟ اگر جسٹس منیر نے غلط فیصلہ کیا تو عدلیہ کو ساری زندگی برا بھلا کہنا ہے؟ماضی صرف سیکھنے کیلئے ہوتا ہے، ہم نے سیکھا ہے کہ فوج کا کام حکومت چلانانہیں،جمہوریت اگر ملک کو نقصان دے رہی تو اس کا یہ مطلب نہیں  کہ اس کی جگہ مارشل لا آ جائے؟ اس کا مطلب جمہوریت کو ٹھیک کریں،آج پاکستان کی فوج میری پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے،گلگت بلتستان کے اندر بھارت مکمل طور پر متحرک ہے،اگر پاکستانی فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوجاتے۔ڈی جی آئی ایس آئی مجھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے تو انہیں فارغ کر دیتا، مجھ سے پوچھے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو اُسے معزول کر ديتا، منتخب وزیراعظم ہوں، کس کی جرأت ہے کہ مجھ سے استعفیٰ مانگے.

نجی ٹی وی"سماء نیوز" کے پروگرام میں دیئے جانے والے خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ  پاکستان میں سول اور فوجی تعلقات میں ہمیشہ مسئلہ رہا ہےلیکن ہم نے اپنے ماضی سے سیکھا ہے ،آج سول ملٹری تعلقات تاریخ میں سب سے بہتر ہیں، اگر عدلیہ میں غلط فیصلے ہورہے ہوں؟کوئی چیف جسٹس ایسا آئے جو غلط فیصلے کرے یا ملک میں کمزور کو طاقت ور سے تحفظ نہ دے سکے تو اس مطلب یہ نہیں ہے عدلیہ کی مذمت کریں بلکہ اس کو بہتر کریں، ہمارے ملک میں عدلیہ بہتر ہوتی گئی ہے اور اسی طرح فوج بھی بہتر ہوئی ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ سول فوجی تعلق بہتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی فوج ایک جمہوری حکومت کے پیچھے کھڑی ہے، آج اعتماد اس لیے ہے کہ سب اپنے دائرے میں کام کررہے ہیں، ایک جمہوری حکومت اپنے منشور کے مطابق کام کررہی اور فوج اس کے مطابق کام کررہی ہے، آج پاکستان کی فوج میری پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیراعظم نے نواز شریف کے بیان پر کہا کہ جنرل ظہیرالاسلام پر استعفیٰ کی دھمکی دینے کا الزام لگاتے ہیں، آپ وزیراعظم ہو ان کی کیا جرأت کہ آپ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرے ۔ ندیم ملک نے سوال کیا کہ اگر آپ کو استعفیٰ کا کہا جائے تو آپ کیا کریں گے؟۔ جس پر عمران خان نے کہا کہ میں ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کروں گا، میں جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم ہوں، کس کی جرأت ہے کہ مجھے آکر استعفیٰ کا کہے۔

انہوں نے نواز شریف کو بزدل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف سری لنکا میں تھے ان کے پیچھے جنرل ضیاء الدین کو آرمی چیف بنادیا، اگر میری معلومات کے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو میں اسے سامنے بلاکر عہدے سے ہٹا دیتا، میں اتنا بزدل آدمی نہیں ہوں.

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف جو گیم کھیل رہے ہیں وہ بہت خطرناک ہے، یہی الطاف حسین نے کیا، میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ ان کے پیچھے 100 فیصد ہندوستان پوری مدد کر رہا ہے، پاکستان کی فوج کمزور کرنے پر دلچسپی ہمارے دشمنوں کی ہے، امریکا میں ہندوستانی لابی میں کون بیٹھا ہوا ہے؟ حسین حقانی باہر بیٹھ کر پوری مہم چلاتا ہے اور یہاں نادان لبرلز بنے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں ہم فوج کے خلاف ہیں، میں ان سے کہتا ہوں کہ خدا کے واسطے اپنی آنکھیں کھولو اور لیبیا، عراق، شام، افغانستان، یمن اور پوری مسلم دنیا میں آگ لگی ہوئی اور اگر آج ہماری پاکستانی فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوجاتے، ہندوستان کے تھنک ٹینک باقاعدہ طور پر کہتے ہیں کہ پاکستان کو توڑنا ہے اور ہم پاک فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں، گلگت بلتستان کے اندر بھارت مکمل طور پر متحرک ہے کیونکہ یہ سی پیک کی روٹ ہے اور اوپر سے انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، ہندوستان نے ملک میں شیعہ سنی انتشار کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ہماری ایجنسیوں نے ناکام بنایا اور اسلام آباد میں لوگوں کو پکڑا، بی جے پی کی موجودہ حکومت جیسی ہندوستان میں اس قدر پاکستان مخالف کوئی حکومت نہیں آئی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -Breaking News -