ٹی وی چینلز پر نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر پابندی،حامد میرنے پیمرا کی "قلابازیاں" سامنے لاتے ہوئے قانونی نکتہ اٹھا دیا 

 ٹی وی چینلز پر نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر پابندی،حامد میرنے پیمرا کی ...
 ٹی وی چینلز پر نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر پابندی،حامد میرنے پیمرا کی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پیمرا) کی جانب سے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے پر حامد میر بھی میدان میں آگئے،کامران خان کا نام لئے بغیر انہیں"خوشامدی "قرار دیتے ہوئےایسا قانونی نکتہ سامنے لے آئے کہ ہر کوئی حیران رہ جائے۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے پیمرا کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تقریروں پر پابندی عائد کئے جانے کے فیصلے کو "پیمرا کی قلابازیاں" قرار دیتے ہوئے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ  پچھلے سال کرنل(ر) انعام الرحیم نے پیمرا سے کہا کہ مشرف اور طاہرالقادری مفرور ہیں، انکے ٹی وی انٹرویوز بند کرائے جائیں، پیمرا نے تحریری جواب میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو آزادی اظہار حاصل ہے لیکن نواز شریف کے معاملے پر پیمرا کو آرٹیکل 19 بھول گیا۔

حامد میر نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار کامران خان کا نام لئے بغیر انہیں "خوشامدی " قرار دیا اور کہا کہ پیمرا کا بہت شکریہ کہ اس نے نواز شریف کی تقاریر پر پابندی لگا کر ایک دفعہ پھر دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں ہے پیمرا نے ان خوشامدیوں کو آج ایک مذاق بنا کر رکھ دیا جو میڈیا کو آزاد قرار دیکر عوام کو بےوقوف بنا رہے تھے ،میڈیا پر پابندیاں ہمیشہ بزدل لوگ لگاتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے 5 گھنٹے قبل کامران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ "پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں بیانیہ آج اپنی موت آپ مرگیا ,جس طرح اس پورے ہفتے نواز شریف عدالتوں اور فوج کو کوستے رہیں ہیں، وزیر اعظم عمران خان کو پاگل شخص نجانے کیا کیا کہتے رہے ،تمام ٹی وی چینلز یہ سب دکھاتے رہے آج کل پورے خطے میں اتنا آزاد میڈیا کہیں نہیں، عمران خان مبارکباد کےمستحق ہیں۔

واضح رہے کہ پیمرا کی جانب سے ایک شہری محمد اظہر صدیق کی جانب سے دی گئی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے نواز شریف کی تقاریر نشرکرنے پر پابندی عائد کردی ہے اور حکم دیا ہے کہ ایک اشتہاری ملزم کو ٹی وی چینلز پر کوریج دینا پیمرا ایکٹ 2007 کی خلاف ورزی ہے۔ یہ سپریم کورٹ کے 2018 میں سو موٹو کیس میں سنائے گئے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے، اگر کوئی بھی چینل آئندہ اشتہاری ملزم (نواز شریف) کی تقریر نشر کرے گا تو اس کے خلاف پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 29 اور 30 کے تحت کارروائی کی جائے گی جس کا نتیجہ لائسنس کی معطلی کی صورت سامنے آسکتا ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -