ہزارہ پنجابی فوج نے فتح کیا تھا،جمیز ایبٹ نے مذہبی رنگ دے کر ہزارہ کے لوگوں کو فوج کےخلاف کھڑا کر دیا

 ہزارہ پنجابی فوج نے فتح کیا تھا،جمیز ایبٹ نے مذہبی رنگ دے کر ہزارہ کے لوگوں ...
 ہزارہ پنجابی فوج نے فتح کیا تھا،جمیز ایبٹ نے مذہبی رنگ دے کر ہزارہ کے لوگوں کو فوج کےخلاف کھڑا کر دیا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:60 

جیمز ایبٹ کا قیاس تھا کہ سردار چتر سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا سسر ہونے کے ناطے باغیانہ خیالات رکھتا ہوگا۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ پنجاب میں ہونے والی انگریز دشمن سرگرمیوں میں سردار چتر سنگھ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ آگے چل کر ایبٹ نے”پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو“ کی پالیسی کے تحت ہزارہ میں مذہبی تعصب پھیلانا شروع کر دیا۔ ہزارہ پنجابی فوج نے فتح کیا تھا اس کے بیشتر جرنیل اور سپاہی سکھ تھے۔ وہ قتل و غارت اور لوٹ مار کے مرتکب ہوئے تھے۔ جمیز ایبٹ نے اس سارے مسئلے کو مذہبی رنگ دے کر ہزارہ کے لوگوں کو چتر سنگھ کے خلاف کھڑا کر دیا۔ نتیجتاً چتر سنگھ کے خلاف مسلح بغاوت شروع ہوگئی۔تنگ آ کر چتر سنگھ نے انگریزوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس وقت اس کا بیٹا راجہ شیر سنگھ جو ریجنسی کونسل کا ممبر بھی تھا اپنی فوج کے ساتھ ملتان کا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ اسے انگریزوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا پیغام بھیج دیا گیا۔ شیر سنگھ نے پہلے مولراج کو پیغام بھیجا کہ اسے ملتان کے قلعہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اس کے ہمراہ انگریزی فوج کا مقابلہ کرے۔لیکن مولراج نے اس پیش کش کو سازش تصور کرتے ہوئے درخواست رد کر دی۔اس طرف سے مایوس ہو کر شیر سنگھ نے انگریزوں کے خلاف میدان میں اترنے سے پہلے اپنے باپ کی افواج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

چتر سنگھ نے یہ جانتے ہوئے کہ انگریزوں نے اہل پنجاب پر ایسی جنگ ٹھونس دی ہے جس کے لیے وہ ابھی تیار نہیں ہے پٹھانوں کے ساتھ مل کر انگریز دشمن محاذ بنانے کا پروگرام بنایا۔ اس نے افغانستان کے بادشاہ امیر دوست محمد کو مراسلے بھیجے اور اسے پشاور لوٹا دینے کا وعدہ کرکے اس کے ساتھ معاہدہ کرلیا۔ اس کام سے فارغ ہو کر اس نے ہزارہ سے نکل کر پنجاب کا رخ کیا۔ راستے میں انگریزوں کے قلعدار کو شکست دے کر اٹک فتح کرکے آگے کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔

دوسری طرف اس کے بیٹے شیر سنگھ نے انگریزوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور پنجاب کے عوام کو نیند سے بیدار ہو کر انگریزوں کو ملک سے بھگانے کا پیغام دیا۔ اس نے رانی جنداں کے ساتھ انگریزوں کی بدسلوکی، پنجابیوں کے مذاہب کی انگریزوں کے ہاتھوں بے حرمتی، پنجاب کی سلطنت پر ان کا غاصبانہ قبضہ اور دوسری زیادتیوں کے خلاف بھرپور پروپیگنڈہ کی مہم چلائی۔ اس اعلان جنگ کا پنجاب پر گہرا اثر ہوا۔ کئی مقامات پر بغاوت شروع ہو گئی۔ اب انگریزوں کا مقابلہ نوابوں اور رجواڑوں کے کرائے کے فوجیوں کی بجائے پنجاب کے بپھرے ہوئے عوام کے ساتھ تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -