” یہ گھر ہی منحوس ہے “ وہ کافی دیر تک خوفناک کہانیاں سناتی رہی

 ” یہ گھر ہی منحوس ہے “ وہ کافی دیر تک خوفناک کہانیاں سناتی رہی
 ” یہ گھر ہی منحوس ہے “ وہ کافی دیر تک خوفناک کہانیاں سناتی رہی

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:32

 انھوں نے اسے مکان کی کہانی دوبارہ شروع کرنے کو کہا۔ جرمن خاندان اچھے لوگ تھے جو کہ پیکنگ ٹاؤن میں نایاب تھے۔ بڑے محنتی لوگ۔ ان کا باپ بڑا مستقل مزاج آدمی تھا۔ انھوں نے مکان کی آدھی قیمت ادا کر دی تھی لیکن پھر ان کا باپ ڈرہم میں لِفٹ کے ایک حادثے میں مارا گیا۔

ان کے بعد آئرش آئے۔ وہ بہت بڑا خاندان تھا۔ شوہر شراب میں دھت ہوکر بیوی بچوں کا پیٹتا تھا۔ کوئی رات ایسی نہیں جاتی تھی کہ پڑوسیوں کو ان کی چیخ و پکار سنائی نہ دیتی ہو۔ وہ اکثر اپنا کرایہ وقت پر نہیں دیتے تھے لیکن کمپنی ان کے ساتھ نرمی سے پیش آتی تھی کیوں انہیں کوئی سیاسی پشت پناہی حا صل تھی۔ دراصل وہ کسی ” وار وُوپ لِیگ“ (War Whoop League) سے تعلق رکھتے تھے جو تمام ٹھگوں اور بدمعاشوں کا سیاسی کلب تھا۔ جس کسی کا تعلق اس کے ساتھ ہوتا اسے کوئی گرفتار نہیں کر سکتا تھا۔ ایک بار ان کا باپ اس گینگ کے ساتھ پکڑا گیا جس نے اوس پڑوس کے غریب لوگوں کے مویشی چوری کر کے ایک جگہ ذبح کیے اور بیچ دئیے۔ وہ صرف 3 دن جیل میں رہا اور ہنستا ہوا باہر آگیا، پیکنگ ہاؤس میں اس کی نوکری بھی محفوظ رہی۔ اسے شراب کی لت نے برباد کردیا۔ ایک دو سال تک اس کے بیٹے نے، جو اچھا لڑکا تھا، اس کی دیکھ بھال کی لیکن پھر اسے تپِ دق ہوگئی۔ 

”یہ گھر ہی منحوس ہے۔ “ دادی نے کہا۔ جو خاندان بھی اس میں رہا اس میں کسی نا کسی کو تپِ دق ضرور ہوئی ہے۔ اس کی وجہ کوئی نہیں بتا سکتا تھا نحوست مکان میں ہے یا اس کے طرزِ تعمیر میں۔کچھ کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکان کی تعمیر اماوس کی رات میں شروع کی گئی تھی۔ اس طرح کے درجنوں مکان پیکنگ ٹاؤن میں تھے جن میں سے ہر ایک میں کوئی ایک کمرا ایسا ضرور تھا جس میں سونے والا زندہ نہیں اٹھتا تھا۔ اس مکان میں پہلا مرنے والا وہ آئرش تھا۔ پھر بوہیمئین خاندان کا ایک بچہ مرا۔۔۔ اگر چہ یہ بتانا بہت مشکل تھا کہ یارڈز میں کام کرنے والے بچوں کے ساتھ اصل مسئلہ کیا تھا۔ اس زمانے میں بچوں کی عمر کے حوالے سے کوئی قانون نہیں تھا۔ پیکنگ کا کام کرنے والے چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے تھے۔ یہ سن کر سب کے چہرے پر ایک بار پھر الجھن نمودار ہوئی جس پر دادی نے وضاحت کی کہ اب قانون کے مطابق 16سال سے کم عمر بچوں کا کام کرنا خلاف ِ قانون ہے۔” اس کی کیا تُک ہے ؟“ انھوں نے پوچھا۔ وہ تو سوچ رہے تھے کہ ننھے سٹینِس کو کام پر لگایا جائے۔ لیکن دادی نے انہیں تسلّی دی کہ قانون سے کوئی فرق نہیں پڑتا سوائے اس کے کہ لوگوں کو بچوں کی عمر کے حوالے سے ذرا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ کئی گھرانے ایسے تھے جن میں بچوں کے علاوہ کمانے والا کوئی نہیں تھا اور قانون انہیں بچوں کی مزدوری کے علاوہ کمانے کا کوئی اور ذریعہ مہیا کرنے سے بھی قاصر تھا۔ اکثر اوقات مردوں کو کئی کئی مہینے کام نہیں ملتا تھا لیکن بچوں کو فوراً مل جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اکثر ایسی مشینیں آتی رہتیں جنہیں آدمیوں کے علاوہ بچے بھی چلا سکتے تھے اور بچوں کو مزدوری بھی ایک تہائی دینا پڑتی تھی۔

اس کے بعد جو لوگ اس گھر میں آئے ان کی عورت کی موت ہوئی۔ اس کے لا تعداد بچے تھے کیوں کہ اس کے ہر سال جڑواں بچے ہوتے تھے۔ عورت کی موت کے بعد آدمی بچے اور گھر بار چھوڑ کر سارا دن خود تو کام پر رہتا اور بچے پتا نہیں کیسے گزارا کرتے تھے۔ پڑوسی کبھی کبھار ترس کھا کر ان کی مددکردیتے ورنہ وہ تو سردی سے جم کر مر ہی جاتے۔ خیر ایک بار ان کا باپ 3 دن گھر نہیں آیا اوربچے اکیلے رہے۔ بعد میں پتا چلا کہ ان کا باپ مر چکا ہے۔ وہ جونز میں کام کرتا تھا۔ ایک زخمی بیل نے مشتعل ہو کر اسے ایک ستون سے پٹخ کر کچل دیا تھا۔کمپنی نے بچوں کو گھر سے نکال کرہفتے بعد یہ گھر مہاجروں کے نئے گھرانے کو بیچ دیا۔

وہ کافی دیر تک یہ خوف ناک کہانیاں سناتی رہی۔ اس میں کتنا سچ تھا کتنا جھوٹ خدا بہتر جانتا ہے لیکن ان پر یقین کرنا مشکل تھا۔ مثلاً جہاں تک تپ دق کی بات تھی، انہیں اس کے متعلق صرف اتنا پتا تھا کہ تپ دق والے آدمی کو کھانسی ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ 2 ہفتے وہ آنٹاناس کی کھانسی کے دوروں سے ڈرے رہے۔ وہ کھانستا تو اس کا سارا جسم ہلنے لگتا اور کھانسی رکنے کانام نہ لیتی۔ کبھی کبھی اس کے بلغم میں خون کا کوئی دھبّا بھی نظر پڑتا تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -