ڈھاکہ میں اپنی ملازمت کی نوعیت کی وجہ سے وہ حالات سے پوری طرح باخبر تھے

ڈھاکہ میں اپنی ملازمت کی نوعیت کی وجہ سے وہ حالات سے پوری طرح باخبر تھے
ڈھاکہ میں اپنی ملازمت کی نوعیت کی وجہ سے وہ حالات سے پوری طرح باخبر تھے

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:6 

گویا اعلیٰ تصورات کے حصول کے ساتھ وہ مادیت کے بھی خواہاں تھے جس کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہوں نے تدریس کو خیر باد کہا اگرچہ یہ کوئی قابل تحسین قدم نہیں لیکن بہرحال یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ معاشرے میں سر بلند نظر آنا چاہتا ہے۔ سالک کی شخصیت کی سچائی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اس ذہنی کشمکش کو قاری سے نہیں چھپایا اور اپنی علم دوستی کے باوجود افسری کی چاٹ کا اعتراف کیاان کے ایک شاگرد افتخار باجوہ بطور استاد ان کے متعلق لکھتے ہیں:

”جناب صدیق سالک کی اچانک شہادت کی خبر سن کر یقین ہی نہیں آتا کہ میرے استاد محترم اس دنیا میں نہیں رہے ۔ان کے پڑھانے کا انداز میں آج تک نہیں بھلا پایا انہوں نے ہمیں صرف3 ماہ انگریزی پڑھائی پھر اچانک پتہ نہیں کہاں چلے گئے ہم نے ڈیڑھ سال بغیر استاد کے تیاری کی اور ایف اے پاس کر لیا۔ پھر ان کا نام اچانک صاحب کتاب کی حیثیت سے سنا ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ کا مطالعہ کیا تو ذہن پر ان کی شخصیت کا نقش اور ثبت ہو گیا اس کے بعد ”پریشر ککر“ آئی جس میں بہت حد تک ان کی گفتگو کا عکس تھا پھر و ہ ٹی وی پر صدر ضیا ءالحق کے ساتھ مختلف دوروں میں دکھائی دیئے۔میرے دل میں یہ خواہش بڑی شدید رہی کہ ان سے اسلام آباد جا کر ملوں لیکن یہ سوچ کر کہ وہ بہت اہم عہدے پر کام کر رہے ہیں ہچکچاتا رہا اب یہ قلق زندگی بھر رہے گا کہ میں ان سے نہ مل سکا-“

بطور صحافی:

صدیق سالک فوج کے شعبے انٹر سروسز پبلک ریلشنز میں بطور پبلک ریلشن آفیسر مقرر ہوئے اس ادارے کا کام افواج پاکستان اور عوام کے درمیان رابطہ رکھنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ذرائع نشرو اشاعت سے ان کا قریبی رابطہ رہتا، اس زمانے میں آج کی طرح ٹی وی چینل نہیں تھے لیکن قومی ٹی وی غیر ملکی ٹی وی چینلز ‘ریڈیو ‘ اخبارات رسائل کے نمائندوں سے ان کا قریبی رابطہ رہتا تھا۔ فوجی تقریبات میں وہ بحیثیت وقائع نگار شرکت کرتے اور پھر تقریب کی خبر اخبارات میں لگواتے، اعلیٰ فوجی افسران کی عسکری مصروفیات کی تشہیر بھی ان کے فرائض میں شامل تھی۔ اس لحاظ سے ملازمت کی ابتداءسے ہی انھیں اعلیٰ حکام کی قربت حاصل رہی خصوصاً قیام ڈھاکہ میں اپنی ملازمت کی نوعیت کی وجہ سے ہی وہ حالات سے پوری طرح باخبر تھے ان کے قریبی دوست ریٹائرڈبریگیڈ یئر ملک بشیر جو ان کے ساتھ ڈھاکہ میں متعین رہے اور جنگی قیدیوں میں بھی شامل تھے۔ صدیق سالک کے صحافتی کردار کے بارے میں کہتے ہیں:

”ان کے اندر ایک کامیاب صحافی کی تمام خصوصیات تھیں لوگوں سے میل جول‘ محبت مساوات کی وجہ سے وہ ہر قسم کے طبقوں میں پسند کئے جاتے تھے خصوصاً ڈھاکہ کے دگرگوں حالات میں عوام میں فوج سے نفرت پائی جاتی تھی۔ ان حالات میں ایک فوجی سرکاری افسر کے لیے بنگالی عوام‘ اداروں اور صحافیوں سے خبر حاصل کرنا ایک مشکل کام تھا لیکن ان کی شخصیت کی وجہ سے بنگالی بھی ان پر اعتماد کرتے تھے اور وہ ان سے خبریں حاصل کر لیا کرتے تھے۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -