سارہ انعام قتل کیس، مرکزی ملزم شاہنواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے پہلی مرتبہ خاموشی توڑ دی ، میڈیا سے گفتگو میں کیا کہا ؟ جانئے 

سارہ انعام قتل کیس، مرکزی ملزم شاہنواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے پہلی مرتبہ ...
سارہ انعام قتل کیس، مرکزی ملزم شاہنواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے پہلی مرتبہ خاموشی توڑ دی ، میڈیا سے گفتگو میں کیا کہا ؟ جانئے 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سارہ انعام قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کی عبوری ضمانت میں تین اکتوبر تک توسیع کر دی گئی ہے تاہم عدالت میں پیشی کے موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ میرے بیٹے نے جو کیا اس کی مذمت کرتی ہوں اور اسے سزا ضرور ملے گی ۔

تفصیلات کے مطابق کچہری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی ملزم شاہنواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے کہا کہ مجھے ایاز امیر فون کرتے رہے لیکن میرا فون کمرے میں تھا، ایاز امیر نے شاہنواز کے فون پر مجھ سے بات کی، ایاز امیر نے کہا کہ شاہنواز کو پکڑ کر رکھو، میں نے پولیس کو اطلاع کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری حالت بری تھی، صدمے میں تھی، میں نے شاہنواز کو دوسرے کمرے میں بٹھایا اور پولیس کا انتظارکیا، پولیس آئی تو میں نےشاہنوازکو پولیس کے حوالےکیا، ماں کے لیے اس سے بڑھ کر کیا امتحان ہوسکتاہے، میں چاہتی توبھگاسکتی تھی، باپ نےکہا شاہنوازکو رسیوں سےباندھ دو، میں نے ایاز امیر کو کہا کہ میں گھر میں اکیلی ہوں، گھر پر کوئی نہیں ہے، شاہنواز نے مجھے کچھ نہیں کہا، بس دروازہ بند کردیا۔

ثمینہ شاہ نے مزید بتایا کہ گھر میں میرا کمرہ آخر میں ہے اور شاہنواز کا شروع میں ہے، میرے کمرے تک آواز آنے کا سوال نہیں ہوتا، اگر آواز آئی ہوتی تو کیا میں کچھ نہ کرتی۔انہوں نے کہا کہ رات کو شاہنواز نے مجھے میسج کیا کہ سارہ کے والدین سے وقت طے کرلیں، میری سارہ کے والدین سے اچھی طرح بات ہوئی، تین چار بار ہوئی، مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ کب دونوں کی لڑائی ہوئی۔ثمینہ شاہ کا کہنا تھا کہ شاہنواز نے جو کیا اس کی مذمت کرتی ہوں اسے سزا ضرور ملے گی۔

مزید :

قومی -