بغیر حجاب ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے پر ایران میں مزید 2لڑکیاں گرفتار

بغیر حجاب ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے پر ایران میں مزید 2لڑکیاں گرفتار
بغیر حجاب ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے پر ایران میں مزید 2لڑکیاں گرفتار

  

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں بغیر حجاب ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے پر دو لڑکیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ویب سائٹ’دی کرنٹ ڈاٹ پی کے‘ کے مطابق دونیا رید نامی لڑکی اپنی ایک سہیلی کے ہمراہ ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہی ہوتی ہے اور ان دونوں ہی ننگے سر ہوتی ہیں، حالانکہ ایران میں حجاب کی پابندی کی خلاف ورزی قابل سزا جرم ہے۔اس پر مستزاد دونیا رید نے اس حالت میں کھانا کھانے کی تصویر بنا کر اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر پوسٹ کر دی۔

یہ تصویر وائرل ہونے پر پولیس حرکت میں آگئی اور دونیا اور اس کی سہیلی کو گرفتار کر لیا۔ دونیا کی بہن دینا کی طرف سے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ کے ذریعے دونیا اور اس کی سہیلی کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی ہے۔ دینا رید کا کہنا تھا کہ ”پولیس کی طرف سے دونیا کو بلایا گیا تھا کہ آ کر اس تصویر کے متعلق وضاحت کریں۔ جب دونیا وہاں پہنچی تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد ایک مختصر سے فون کال میں دونیا نے مجھے بتایا کہ اسے ایوین جیل کے 209وارڈ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔یہ تہران جیل کا بدنام زمانہ وارڈ ہے جس کا انتظام وزارت انٹیلی جنس کے پاس ہے۔ میں اور میری فیملی دونیا کے متعلق شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ “

واضح رہے کہ ایران میں تین ہفتے قبل 22سالہ کرد لڑکی مھسا امینی کو حجاب کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس کی زیرحراست اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اس کی موت کے بعد سے ایران بھر میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جن میں اب تک 60سے زائد لوگ موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔ 

مزید :

بین الاقوامی -