ٹیکس قوانین کا خوف، امریکی بڑی تعداد میں اپنی شہریت ترک کرنے لگے

ٹیکس قوانین کا خوف، امریکی بڑی تعداد میں اپنی شہریت ترک کرنے لگے
ٹیکس قوانین کا خوف، امریکی بڑی تعداد میں اپنی شہریت ترک کرنے لگے

  

نیویارک (طاہر محمود چوہدری) امریکی شہری خصوصاً بیرون ممالک مقیم امریکی ٹیکس قوانین کے شکنجے سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں اپنی شہریت ترک کر رہے ہیں. شہریت ترک کرنے کی بڑی وجہ 'فارن اکاؤنٹ ٹیکس کمپلائنس ایکٹ' (ایف اے ٹی سی اے)  ہے جس کا مقصد آف شور ٹیکس چوری پر کریک ڈاؤن کرنا ہے. یا ایسے امریکی شہریوں کی جائیدادوں اور اثاثوں کا سراغ لگانا ہے جو انہوں نے اپنے سالانہ ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی ہوتیں. یہ قانون ایسے امریکی شہریوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، جو بینک اکاؤنٹس نہیں کھول سکتے. اسی وجہ سے ایسے امریکیوں کی بڑی تعداد اس قانون سے بچنے کے لیے اپنی امریکی شہریت ترک کر رہی ہے. 

آئی آر ایس کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2022ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران 2068 امریکیوں نے اپنی شہریت ترک کی. سال2021ء کے دوران 2425 امریکی شہریوں نے اپنی شہریت کو خیر باد کہا. جبکہ 2020ء اپنی شہریت ترک کرنے والے ایسے امریکیوں کی تعداد 6705 تھی. شہریت چھوڑنے والوں میں زیادہ تر تعداد ایسے امریکیوں کی ہے جو طویل عرصے سے بیرون ممالک مقیم ہیں. 

امریکی انٹرنل ریونیو سروس (آئی آر ایس) کا فارن اکاؤنٹ ٹیکس کمپلائنس ایکٹ غیر ملکی بینکوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ ہر امریکی اکاؤنٹ ہولڈر کے اثاثوں کی رپورٹ انٹرنل ریونیو سروس کو مہیا کریں. تاہم معلومات فراہم کرنے میں ناکامی پر سخت سزاؤں کے خطرے کے پیش نظر کئی ممالک کے بینک اوورسیز امریکی شہریوں کے اکاؤنٹ کھولنے سے بھی انکاری ہیں.

مزید :

بین الاقوامی -