آئی ایم ایف ٹیکس محصولات ہدف پورا کرنے پر ایف بی آر کی کارکردگی سے مطمئن

  آئی ایم ایف ٹیکس محصولات ہدف پورا کرنے پر ایف بی آر کی کارکردگی سے مطمئن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                        اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف اور ایف بی آر کے درمیان آن لائن میٹنگ ہوئی جس میں پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ نگران حکومت کے دوران کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا سکتے۔ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کوئی نیا ٹیکس لگائے بغیر ٹیکس ہدف حاصل کر لے گا اور ایف بی آر کی کارکردگی سے آئی ایم ایف مطمئن ہے۔ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف کو اکتوبر کے پہلے ہفتے میں معاشی کارکردگی سے آگاہ کیا جائے گا جس میں جولائی تا ستمبر محصولات کا ڈیٹا آئندہ ہفتے آئی ایم ایف کو پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں ہدف سے زیادہ ریونیو اکٹھا کیا، ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں 2.1 ٹریلین ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ تین ماہ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 1.98 ٹریلین روپے رکھا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائیوں کے پلان سے بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کر دیا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے پاکستان سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور استعداد کار میں بہتری لانے اور امیر طبقے پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کردیا، نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور استعداد کار میں بہتری لا کر مستحکم گروتھ حاصل کی جا سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے بریفنگ میں پاکستان کے بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب انتہائی کم ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں امیر طبقے پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے۔ آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسی مانیٹری پالیسی کی ضرورت ہے جس سے مہنگائی میں کمی ہو سکے،ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں آئی ایم ایف معاہدے کا مقصد پاکستان کی معیشت میں استحکام لانا ہے، پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور استعداد کار میں بہتری لا کر مستحکم گروتھ حاصل کی جا سکتی ہے۔

آئی ایم ایف

مزید :

صفحہ اول -