چھوٹی ہیرا پھیریاں اور بڑی کرپشن

چھوٹی ہیرا پھیریاں اور بڑی کرپشن
چھوٹی ہیرا پھیریاں اور بڑی کرپشن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 آج ’خوش کلامی‘ کی ابتدا اِس مشاہدے سے کرنے دیں کہ بعض معاملوں میں عام شہری کے اختیارات اعلیٰ عدالتوں سے کم نہیں ہوتے اور عام شہریوں میں یہ کالم نویس بھی شامل ہے۔ اپنے ارد گرد ہونے والی ناپسندیدہ حرکت کا سﺅو موٹو نوٹس، دورانِ سماعت ایسی آبزرویشن کہ ساری قوم کے ٹِکر چل جائیں اور پھر آئندہ تاریخ کے لیے لوک گلوکارہ ریشماں والی ’لمبی جدائی‘۔ جیسے دو روز پہلے ایک ننھی مُنی کرپشن دیکھی جو طبیعت کو ایک نئے آئینی بحران سے دوچار کر گئی ۔ یہ ہے ایک عوامی سیرگاہ کے باہر ایسی جگہ پر کچھ سینئر افسروں کی کاریں پارک کرنے کی بدذوقی جو معذور لوگوں کی گاڑیوں کے لیے مخصوص تھی۔ آپ پوچھیں گے کہ ضمیر کی عدالت میں مقدمہ چلانے سے پہلے ملزمان کی شناخت پریڈ ہوئی یا نہیں اور افسر کی سینیارٹی کیا ماتھے پہ لکھی ہوتی ہے ؟

 جواب میں وہ واقعہ پیش ہے جب ایک نو عمر جونیئر نے اپنے باس سے پورے اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ آپ کی بائیں آنکھ پتھر کی ہے ۔ باس نے پوچھا ”تمہیں کیسے پتا چلا ؟“ ”سر ، مجھے اِس میں رحم کی جھلک دکھائی دی ہے ۔“ جی او آر ون کے نواحی پارک میں جمعرات کی سہ پہر مَیں کسی انتظامی یا عدالتی افسر کی آنکھ میں رحم کی جھلک تو نہ دیکھ سکا ۔ البتہ اُن میں سے بعض کی سینیارٹی کی چغلی سرکاری ڈرائیور کی پھرتی ، کار کے ماڈل اور اُس دائرہ نما چمک دار چیز نے دکھائی جس نے نمبر پلیٹ کو ڈھانپ رکھا تھا ۔ سیکیورٹی گارڈ سے بلند آواز میں پوچھا ”کیا معذوروں میں وہ بھی شامل ہیں جو ذہنی طور پہ اپاہج ہوں؟ “ گارڈ نے منہ دوسری طرف پھیر لیا ۔ میرے الفاظ امپورٹڈ ٹریک سُوٹ میں ملبوس دو ایک افسروں تک پہنچے تو ہوں گے لیکن وہ محویت کے عالم میں ’ادب برائے ادب‘ کے جذبے سے واک کرتے رہے۔ 

 سیکیورٹی گارڈ کی طرح مَیں بھی افسروں کا خیرخواہ ہوں،اِس لیے دل ہی دل میں ناجائز پارکنگ کی ذمہ داری اعلی حکام کی بجائے ماتحت عملے یعنی ڈرائیوروں کے سر تھو پنے کی کوشش کرنے لگا۔ پھر بھی باغ میں گھومتے ہوئے ماضی کے ایک چیف سکرٹری کا چہرہ آنکھوں کے سامنے ضرور گھوما جنہوں نے سرکاری ڈرائیور کو مبینہ طور پہ چانٹا مار کے کار اَور تیز چلانے کا حکم دیا تھا ۔ ملازم نے حکم پر اِتنے جذبے سے عمل کیا کہ راستے میں ایک پنشن یافتہ سائیکل سوار کی زندگی اِس فرض شناسی کی بھینٹ چڑھ گئی ۔ کاریں پارک کرنے کا سلیقہ کار چلانے کی مہارتوں کا حصہ ہوا کرتا ہے ۔ مگر سوِل سرشتہ ہو یا فوج ، ذمہ داری اُس افسر کی بھی بنتی ہے جس کے ہاتھ میں گاڑی کی کمان ہو ۔ اگر آپ یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو یا افسری چھوڑ دیں یا سٹاف کار میں بیٹھنا ترک کردیں ۔

باتیں تو ہوتی رہیں گی ، مگر معاشی مسائل سے دوچار ہمارے ملک کے بڑے شہروں میں پارکنگ ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ایک تو جگہ کی کمی ، دوسرے، رہائشی علاقوں میں قائم سرکاری دفاتر، کمرشل پلازے ، اسکول کالج اور پھر مجھ جیسے غیر جاگیرداروں کے جاگیردارانہ رویے ۔ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کا پروسیجر بھی سخت تر کر دیا گیا ، لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ڈرائیوروں کی ٹریننگ کا وافر انتظام تو ہے نہیں ، ڈرائیونگ ٹیسٹ کِس بنیاد پر ہو ۔ ٹیسٹ بھی وہ جس کی ماضیءقریب تک انگریزی کا آٹھ بنانے والی ایکسرسائز جنگ عظیم کی کسی فلم کے سوا آپ نے شاید ہی کبھی دیکھی ہو ۔ شہرہ آفاق برطانوی ڈرائیونگ ٹیسٹ کی آخری مشقوں میں آج بھی ایمرجنسی بریک ، تھری پوائنٹ ٹرن ، ریورس راﺅنڈ دی کارنر اور آگے پیچھے کھڑی دو کاروںکے بیچ ایک طے شدہ فارمولے کے مطابق صفائی سے اپنی گاڑی لا کھڑی کرنے کی اٹکل ، جس پر بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے ۔

لندن میں میرا دس سالہ قیام ڈرائیونگ چالان سے تو محفوظ رہا لیکن شاہی قیام گاہ بکنگھم پیلس کے باہر ایک یارِ عزیز کی موجودگی میں جو پولیس مقابلہ ہوا اُس کے پیچھے پارکنگ ہی کا بحران کار فرما تھا ۔ یہ دسمبر 1989 ءکی وہ شام ہے جب بھارت میں اُس وقت کے کشمیری نژاد وزیر داخلہ مفتی سعید کی بیٹی اور بعد ازاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ سعید کی بہن کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ یہی واقعہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے گرفتار شدگان کی رہائی کے مطالبہ کی بنیاد بنا اور کشمیر کی تحریک آزادی میں ایکدم تیزی آگئی ۔

میرے ساتھی عبید صدیقی نے بی بی سی ہندی کی رجنی کول سے معلوم کر لیا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ امریکہ کے نجی دورے سے وطن واپسی پر آج رات لندن میں ہیں ۔ ریڈیو سرینگر میں پانچ سالہ تعیناتی کی بدولت اُن کی ڈاکٹر فاروق سے صاحب سلامت تھی اور یہ بھی پتا تھا کہ موصوف کا قیام بکنگھم پیلس کے پچھواڑے سینٹ جیمزز کورٹ ہوٹل میں ہے۔ چونکہ دنیا بھر کی توجہ اُس روز کشمیر پہ تھی ، اِس لیے ہم نے سوچا کہ اِس موقع پر وہ دو لفظ بھی کہہ دیں تو کشمیر کی صورتحال کے پیش نظر وہ عالمی خبر کا عنوان ہو ں گے۔ ایک سر خوشی کی کیفیت تھی کہ انٹرویو کا اعزاز بس ہمارے حصہ میں آ رہا ہے ۔ اعزاز تو ملا مگر ہم ایک فوجداری مقدمہ میں دھر لیے جانے سے بمشکل بچے۔

خبر تک پہنچنے کے جوش میں ہوٹل کے باہر کار کھڑی کرتے ہوئے گرد و پیش کا جائزہ لیا تو وہاں ییلو لائن یا نو پارکنگ کا سائن نہیں تھا ۔ مگر کئی گھنٹے وزیر اعلی کی راہ دیکھ کر جب فاتحانہ انداز میں کار میں واپس آ کر بیٹھے ہیں تو گاڑی کے پیچھے کھڑے دو پولیس اہلکاروں نے جھپٹ کر ہماری ڈرائیونگ ِسیٹ والا دروازہ یوں کھولا کہ خدا کی پناہ، لاہور کا تھانہ مزنگ یاد آ گیا ۔ ”آج ہفتے کی شام کہاں عیاشی کر رہے تھے؟‘ ‘ ”آفیسر ، تمہاری طرح ہم بھی ڈیوٹی پہ ہیں اور یہاں کار کھڑی کرنے پہ پابندی نہیں“ ۔ میرا پریس کارڈ دیکھ کر افسران کا لہجہ نرم تو ہوا لیکن اِس پر اڑ گئے کہ علیحدگی پسند آئی آر اے کی سرگرمیوں کے پیش نظر بکنگھم پیلس کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے ، آپ نے اُس میں رکاوٹ ڈالی۔ پھر کہا ” ہم پارکنگ ٹکٹ چسپاں کر چکے ہیں، مزید پانچ منٹ گزرنے پر گاڑی پولیس اسٹیشن میں ہوتی اور کار برداری کے اخراجات آپ کے ذمے ہوتے ۔“ خیر ، ہمارے کامیاب انٹرویو کی خوشی جرمانے کی پریشانی سے کہیں زیادہ تھی ۔ 

لاہور شہر میں بھی باغات اور سیرگاہوں کے باہر پارکنگ فیس معاف کر کے حکومت نے پیدل شہریوں کے مقابلے میں کار والوں کی زندگی پُر سہولت بنانے کی کوشش کی ہے ۔ تاہم پارکنگ عملے کے لیے الجھاﺅ یہ ہے کہ اُنہیں شائقین سے گاڑی کھڑی کرنے کی فیس لینی چاہئیے یا نہیں ۔ اگر کوئی کار والا یہ سوال کر بیٹھے تو سائل کے ساتھ عملے کا جواب نفی اور اثبات کے درمیان ہوتا ہے ”جو دے دیں ، آپ کی خوشی“ ۔ کچھ لوگ نا سمجھی میں پرانے نرخوں پہ پارکنگ فیس ادا کر دیتے ہیں اور کچھ گھاگ میری طرح سلام کر کے گزر جاتے ہیں ۔ پھر بھی گھر جاتے ہوئے کوئی عام شہری سوچتا تو ہوگا کہ عملے کو بخشیش دینا اگر چھوٹی موٹی کرپشن ہے تو معذوروں کی پارکنگ میں کسی صحت مند افسر کا کار کھڑی کرنا، کیا خلافِ ضابطہ نہیں؟ 

مزید :

رائے -کالم -