2 ستمبر .... یوم انسداد ڈینگی

2 ستمبر .... یوم انسداد ڈینگی

  

پاکستان خصوصا صوبہ پنجاب میں اب تک ہر شخص ڈینگی کے نام سے بخوبی واقف ہو چکا ہے اور اب یہ بیماری عوام کے لئے اجنبی نہیں رہی - اس بیماری کے بارے میں عوام کو بخوبی آگاہ کرنے میں میڈیا نے بہت بنیادی کردار ادا کیا ہے - ڈینگی گرم مرطوب خطوں کی بیماری ہے - پاکستان کے ارد گرد بسنے والے ممالک بھارت، بنگلہ دیش ، سری لنکا، تھائی لینڈمیں بھی یہ بیماری بہ کثرت پائی جاتی ہے لیکن ان ممالک میں ڈینگی عوام کی زندگی اور رہن سہن کا حصہ بن چکی ہے ، لہٰذاپاکستان کی نسبت ان ممالک کے عوام میں ڈینگی سے متعلق خوف بھی کم ہو گیا ہے اور ذرائع ابلاغ بھی ڈینگی کے ایک ایک مریض پر بریکنگ نیوز نہیں چلاتے - پاکستان میں ڈینگی مچھرکی افزائش کے لئے سال میں دو موسم ساز گار ہیں - سردیوں کے اختتام پر یہ مچھر فروری اور مارچ میں پرورش پاتا ہے۔ جب سردی کی شدت کم ہو چکی ہوتی ہے اور درجہ حرارت معتدل ہوتا ہے ،کیونکہ فروری اور مارچ میں بارشیں نسبتاً کم ہوتی ہیں لہٰذاڈینگی کا مرض پھیلنے کے امکانات محدود ہوتے ہیں اور گرمی کی شدت بڑھتے ہی اس مچھر کا خاتمہ ہو جاتا ہے -

ان دو ماہ کے دوران محدود پیمانے پر ڈینگی بخار کے مریض سامنے آتے ہیں - ڈینگی مچھر کا پسندیدہ موسم مون سون ہے جب بارشیں زیادہ مقدار میں ہوتی ہیں اور درجہ حرارت میں بھی زیادہ شدت نہیں ہوتی- موسم برسات کی وجہ سے ہر طرف سبزہ نظر آتا ہے ، خالی پلاٹوں ، میدانوں اور گڑھوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے ڈینگی مچھر آسانی کے ساتھ پرورش پاتا ہے - گھروں کے اندر جگہ جگہ جمع شدہ پانی ، کھلے برتنوں میں استعمال کے لئے ذخیرہ کیا جانے والا پانی اور چھتوں پر پڑی بیکار اشیاءمیں پانی جمع ہو جاتا ہے ، گرمیوں میں استعمال ہونے والے روم کولرز ، موسم برسات میں ڈینگی مچھر کی افزائش گاہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں کیونکہ اکثر اوقات ان میں موجود پانی کو ضائع کر کے انہیں خشک نہیں کیا جاتا - کباڑ خانے ، کھلے آسمان تلے پڑے ٹائر، گملے اور دیگر کنٹینرز ان مچھروں کو پروان چڑھنے میں بہت مددگار ہوتے ہیں اور فروری ،مارچ میں دیئے گئے انڈوںسے موسم برسات میں لاروانکل آتا ہے جو بالغ مچھر بن کر انسانوں کو کاٹتا اور بیماری پھیلاتا ہے - ڈینگی مچھر کی مادہ کو انڈے دینے کے لئے انیمل پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے جو وہ انسانوں کوکاٹ کر اور ان کا خون چوس کر حاصل کرتی ہے - اس طرح ڈینگی وائرس انسانوں میں پھیلتا ہے -

گزشتہ سال پنجاب میں ڈینگی کا مرض دنیا کی بد ترین وبا کی صورت میں پھیلا جس میں سینکڑوں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں -ہسپتالوں میں رپورٹ ہونے والے ڈینگی مریضوں کی تعداد لگ بھگ 25 ہزار تھی جبکہ ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ مریضوں کی مجموعی تعداد لاکھوں میں تھی جن میں ڈینگی بخار کی علامات نے شدت اختیار نہیں کی اور وہ گھر پر ہی صحت یاب ہو گئے -اس ڈینگی کی وبا سے نمٹنے، ہزاروں مریضوں کے علاج معالجے اور لاکھوں افراد کے لیبارٹری ٹیسٹوں کا حکومت پنجاب نے خاطر خواہ اور تسلی بخش انتظام کیا -ہسپتالوں میں ڈینگی ہیمریجک بخار کے مریضوںکے علاج کے لئے خصوصی وارڈز بنائے گئے اور مچھر کے خاتمے کے لئے ویکٹر سرویلنس کی بھرپور مہم چلائی گئی - سری لنکا، تھائی اور دیگر ممالک سے ماہرین بلائے گئے جنہوںنے مقامی ڈاکٹروں اور اینٹامالوجسٹس کو تربیت فراہم کی - یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت اور ان کی ذاتی دلچسپی لینے پر ممکن ہوئے ،جنہوںنے ساری ساری رات ہسپتالوں میںجاکر مریضوں کی عیادت کی ، انتظامات کا جائزہ لیا اور دن رات ایک کر کے اس وبا پر قابو پانے میں بیوروکریسی اور عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے -غیر ملکی ماہرین نے یہ اعتراف کیا کہ اگر وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف اس قدر محنت اور ذاتی دلچسپی سے ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات نہ کرتے اور ان کی ٹیم جانفشانی سے اپنے فرائض سرانجام نہ دیتی تو خدا نخواستہ ہلاکتیں ہزاروں کی تعداد میں ہو سکتی تھیں-

گزشتہ سال ڈینگی کی وبا پر قابو پانے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر حکومت نے اس مرض کی روک تھام اور مستقل بنیادوں پر اس کے تدارک کے لئے حکمت عملی وضع کی اور گزشہ آٹھ ماہ کے دوران تمام سرکاری محکموں نے عملی اقدامات جاری رکھے - ڈینگی کی روک تھام میں کمیونٹی کی شرکت ناگزیر ہے، کیونکہ اس مچھر کی افزائش کا سب سے بڑا ذریعہ گھروں کے اندر جمع شدہ پانی ہوتا ہے، لہٰذا جب تک گھروں کے اندر صفائی نہیں کی جائے گی اور ڈینگی کی افزائش کا باعث بننے والے عوامل کو دور نہیں کیا جائے گا اس وقت تک مرض پر قابو پانا نا ممکن رہے گا-اس بات کی اہمیت کے پیش نظر حکومت نے ذرائع ابلاغ ، ریڈیو ، ٹی وی ، مذاکروں ، سیمینارز ، واکس، اشتہارات، سکولوں اور کالجوں میں خصوصی آگاہی مہم اور احتیاطی تدابیر پر مبنی لٹریچر عوام میں وسیع پیمانے پر تقسیم کا عمل جاری رکھا جس کی وجہ سے گزشتہ سال کی نسبت رواں سال ڈینگی کا مرض بہت محدود ہے، تاہم ماہرین نے آئندہ ایک سے ڈیڑھ ماہ انتہائی اہم قرار دیا ہے ،کیونکہ اس دوران موسم ڈینگی کے مچھر کی افزائش کے لئے انتہائی سازگار رہے گا-وزیر اعلیٰ نے عوامی سطح پر پورے صوبے میں 2 ستمبر کو انسداد ڈینگی کا دن منانے کا اعلان کیا ہے -اگست کے آخری اتوار کو بھی تمام سرکاری محکموں، سکولوں و کالجوں میں ڈینگی کے حوالے سے خصوصی صفائی (Sweeping Day)مہم چلائی گئی -اس دن دو ستمبر کے لئے ریہرسل کی گئی -

گزشتہ روز چیف سیکرٹری پنجاب ناصر محمود کھوسہ نے2 ستمبر کو یوم انسداد ڈینگی منانے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے تمام سرکاری محکموں کے سربراہان کا اجلاس طلب کیا - اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے خصوصی طور پر شرکت کی- اجلاس میں سرکاری محکموں کے سیکرٹریز صاحبان کے علاوہ ، کمشنر لاہور اور دیگر اعلی افسران نے لاہور سمیت صوبے بھر میں یوم انسداد ڈینگی کے حوالے سے اپنے اپنے محکمے کا ورکنگ پلان پیش کیا اور انتظامات کے بارے میں اجلاس کو آگاہ کیا - دو ستمبر کو پورے صوبے میں منتخب عوامی نمائندوں اور عوام کے بھرپور تعاون سے خصوصی صفائی مہم چلائی جائے گی - سرکاری افسران ، عوامی نمائندے، رضا کار ، سکا¶ٹس گھر گھر جا کر لوگوں کو ڈینگی مچھر کے بارے میں آگاہی فراہم کریں گے اور عوام کو اپنے گھروں کے اندر صفائی رکھنے اور ڈینگی کی افزائش روکنے کے طریقوں سے آگاہ کریں گے - اس دن تمام سرکاری محکمو ں کے علاوہ سکولوں و کالجوں میں خصوصی سیمینار ز ، عوامی شعوربیدار کرنے کے لئے واکس کا اہتمام کیا جائے گا - والنٹیرز، این جی اوز کے نمائندے لوگوں میں ہینڈ بلز تقسیم کریں گے خصوصا لاہور میں پورے شہر اور بس اڈوںاور دیگر عوامی مقامات کی سکریننگ کی جائے گی-

دو ستمبر یوم انسداد ڈینگی منانے کے لئے محکمہ صحت ، سوشل ویلفیئر ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی، واسا ، ایل ڈی اے ، محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب، لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ ، محکمہ مواصلات و تعمیرات ، محکمہ آبپاشی ، زراعت ، کوآپریٹو، لیبر ڈیپارٹمنٹ ، ہائر ایجوکیشن ، سکول ایجوکیشن، انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ، محکمہ ماہی پروری، اوقاف ، ویمن ڈیلپمنٹ، سپورٹس ڈیپارٹمنٹ، سپیشل ایجوکیشن ، غرض تمام سرکاری محکمو ںکو یہ دن منانے کے لئے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں - محکمہ اطلاعات و ثقافت کو عوام میں زیادہ سے زیادہ ڈینگی کے بارے میں شعور و آگاہی فراہم کرنے کے لئے خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے اور محکمہ اطلاعات دو مئی کو پنجاب آرٹس کونسل اور لاہور آرٹس کونسل کے تعاون سے خصوصی پروگراموں کا اہتمام کر رہا ہے اس دن ڈرامہ آرٹسٹ اور فنکاروں کی خصوصی واک کا اہتمام بھی ہو گا ، میوزک شو بھی منعقد کیا جائے گا ، پنجابی کمپلیکس میں بھی خصوصی سیمینار ہوں گے - مشہور ٹی وی ڈرامہ عینک والا جن کے فنکار بھی ڈینگی کے حوالے سے کھیل پیش کریں گے -

چیف سیکرٹری نے اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے پیش کئے گئے ورکنگ پلان پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ اصل چیلنج پورے صوبے میں اس ورکنگ پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کرنا ہے - انہوںنے یہ بھی ہدایت کی کہ دو ستمبر کو یوم انسداد ڈینگی کے تمام پروگرام اور سرگرمیاں صرف لاہور میں ہی نہیں، بلکہ پورے صوبے میں منعقد کی جائیں - اعلیٰ سرکاری افسران اپنے فیلڈ آفسزمیں جا کر یوم انسداد ڈینگی کے پروگراموں کی سرپرستی کریں ، سٹاف کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور محنتی سٹاف کی حوصلہ افزائی بھی کریں -حکومت کی جانب سے ڈینگی کی روک تھام اور ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے کے لئے کی جانے والی کوششیں اور اقدامات اب تک انتہائی کامیاب رہے ہیں اور عوام نے بھی کافی حد تک اس مسئلے پر قابوپانے میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے - وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف ،حکومت اور سرکاری محکموں کی تمام کاوشیں ، اقدامات اور جدوجہد اپنی جگہ تا ہم ڈینگی کے خلاف مہم کو کامیاب بنانے میں عوام کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ انسانی جان کا دشمن ڈینگی مچھر ہمارے گھروں میں پرورش پا رہا ہے اور ہمیں ہی اسے اپنے گھر میں تلاش کر کے مارنا ہو گا ،تبھی ہم سب کی اس موذی مرض سے خلاصی ممکن ہو گی- آئیے ہم سب مل کر دوستمبر کو یوم انسداد ڈینگی کو کامیاب بنا کر ایک مرتبہ پھر نئی تاریخ رقم کر دیں-

مزید :

کالم -