آداب ِ ز ِندگی

آداب ِ ز ِندگی

  

 آپ کو زندگی سے پورا استفادہ کرنے، اسے بہترین خوشیوں سے مزین کرنے اور حقیقت میں کامیاب زندگی گزارنے کا ناقابل تردید حق حاصل ہے۔ البتہ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ زندہ رہنے کے صحیح طریق کار کو سمجھیں اور اس کے اصول اور آداب ِ زندگی سے اچھی طرف واقف ہوں اور آپ مستقلاً کوشش کر رہے ہوں کہ آپ زندگی کو کامیاب بنانے اور سدھارنے کے اصولوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ شائستگی، اچھے عظمتی انداز، خوش اخلاقی، صفائی، پاکیزگی، راست بازی، صحیح سوچ و فکر، معاملہ فہمی، اصولوں کی پابندی، طہارت، سخاوت، مزاج کی لطافت، سب کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ اور لحاظِ خاطر، حصول ِ طاقت کے لالچ سے بچنا، خود اعتمادی، مزاج پرسی، تحمل مزاجی، قوت ِ برداشت اور احساس ذمہ داری بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنا، ہر کام میں معیشت ایزدی پر بھروسہ اور جرا¿ت مندانہ اندازِ کار اپنانا بھی ضروری امور میں شامل ہے۔

یہ سب امور حقیقی اسلامی زندگی کے اہم ترین پہلو ہیں جو کہ پاک دامن شخصیتوں کی بہترین زندگی کو دوسروں کے لئے قابلِ تقلید اور دلکش بناتے ہیں اور اُن شخصیتوں کو اور بھی بلند مقام پر لے جاتے ہیں۔ اہل ِ اسلام کی ایسی ہی خوبیوں کے باعث غیر مسلم بھی اُن کی جانب راغب ہوتے ہیں اور عام آدمی کا دماغ اس حتمی فیصلے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ نبی نوع انسان کو تہذیب و تمدن ہی قیمتی اقدار و آداب سکھاتے ہیں تاکہ زندگی کو بہترین بنانے اور عمدگی کی طرف لے جانے اور اُس کو عظمت پر فائز کرنے کا راستہ متعین کر سکیں۔ جیسا کہ ہوا اور روشنی جو بنی نوع انسان کے لئے اہم ترین ہوتے ہیں۔ بنی نوع انسان کی یہی تہذیب تمام انسانوںکے اختیار کرنے کے قابل ہوتی ہے تاکہ تمام انسان فرداً فرداً اور اجتماعی طور پر کامیاب زندگی کا معیار اپنا سکیں۔ یہ اُن کی زمینی زندگی کو ایک پناہ گاہ مہیا کرتی ہے، جس سے انہیں طمانیت اور آرام و آسائش، مبارک بادی امن اور خوشیاں حاصل ہوں جو آئندہ دوبارہ ملنے والی زندگی کے لئے بھی ضروری ہوں گے۔

لہٰذا ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنی زندگی اسلامی قوانین و ضوابط اور دُعاﺅں کے تحت ڈھالیں، اس کے علاوہ اپنے اخلاق کو دینی رنگ میں رنگیں اور اصلاح ِ احوال پر گامزن رہیں اور نئی نسل کی عادات و اطوار بھی اسی نقطہ ¿ نگاہ سے مضبوط بنائیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم نوجوان نسل کو اسلامی آداب و اطوار اور دُعاﺅںسے روشناس کرائیں اور اُن پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کریں۔

ہمیں اِن اصولوں کے تحت زندگی ڈھالنے اور اُن کے مطابق عمل کرنے سے اِس دُنیا میں عزت و آبرو ملے گی اور ہماری زندگی نہ صرف قابل ِ تعریف بن جائے گی، بلکہ اگلی دُنیا میں آخرت کے روز بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے ساتھ مولیٰ کریم ہمیں بہترین اجر اور انعام و اکرام عطا فرمائیں گے۔ لہٰذا ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اسلامی اطوار و ضوابط پر عمل پیرا ہونے پر مائل کریں اور سب کے دلوں میں اسلامی امور پر عمل کرنے کا جذبہ اُجاگر کریں۔

رُوح کی پاکیزگی و طہارت اور دِل کی طمانیت کا انتہائی صحیح اور باحفاظت ذریعہ یہی ہے کہ ہم ہر دم اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہیں اور مولا کریم کے متبرک ناموںکا ورد کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ان ناموں کو ذہن نشین کر لیں اور اِن کو اپنے دل و دماغ میں پورے ایمان اور یادداشت کے ساتھ جذب کر لیں۔ قرآن پاک کی سورہ¿ الاحزاب کی آیت42 میں ذکرہے کہ اے ایمان والو اللہ کو بے حد و حساب یاد رکھو اور اللہ کا ذکر صبح و شام بہت زیادہ کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بہترین ناموں کی اہمیت کو قرآن پاک میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ نبی اکرم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام نناویں ہیں، یعنی ایک سو میں سے ایک کم، جو کوئی بھی اِن ناموں کو اپنی یاد داشت میں محفوظ ر کھے گا وہ اِس دُنیا میں ہر طرح کی آسائشیں پائے گا اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ اسے جنت الفردوس میں عمدہ ترین منصب عطا فرمائیں گے اور اُس کی ہر خواش پوری کریں گے۔ لہٰذا ہمیں اپنے دین ِ برحق کو صحیح طرح سمجھ کر اپنی زندگیوں کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنا ہو گا اور ہمیں اپنے نظام کو قرآن کے احکامات کو سمجھنے اور اُن کے نافذ العمل کرنے کا انتظام کرنا ہو گا اور یہی ہمارے لئے راہِ نجات ہو گا۔  ٭

مزید :

کالم -